صدر ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے مابین جنتگ میں تیزی

صدر ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے مابین جنتگ میں تیزی

  

 واشنگٹن (اظہر زمان ، بیورو چیف) امریکی صدر ٹرمپ اور میڈیا کے درمیان جنگ تیز ہوگئی ،ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلسل میڈیا کو نشانے پر رکھا ہوا ہے او وہ اس پر تنقید کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے تاہم گزشتہ کچھ عرصے میں انہوں نے اخبارات اور میڈیا کیخلاف سخت تنقید کا سلسلہ شروع کررکھا تھا جس نے میڈیا کو جوابی کارروائی پر مجبور کردیا۔ امریکی ٹی وی چینل نے اس کے بارے میں ایک خصوصی رپورٹ نشر کی ہے جس کے مطابق ملک بھر کے تین سو زائد اخبارات نے ایک مشترکہ اداریہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے صدر ٹرمپ کے میڈیا پر حملوں کا ایک مربوط اور مدلل جواب دیا ہے صدر ٹرمپ نے میڈیا پر ان حملوں کے دوران امریکی اخبارات کو عوام کا دشمن اور سوسائٹی میں ان کے کردار کو منفی قرار دیا ہے ،صدر کیخلاف مہم چلانے کا آئیڈیا ’’بوسٹن گلوب‘‘ کے ڈپٹی منیجنگ ایڈیٹر مار جوری پریٹ کارڈ نے پیش کیا تھا جنہوں نے دوسرے اخبارات کو تیار کیا کہ ان کی اس مہم کا مشترکہ اور مربوط جوا دینا چاہئے، اس کے بعد تین سوسے زائد اخبارات کی طرف سے مشترکہ اداریہ شائع کیا گیا ۔ جن ریاستوں کے اخبارات نے اس میں شرکت کی اس میں صرف ٹرمپ کی مخالف ڈیمو کرئیک پارٹی کی اکثر یت والی ریاستیں شامل نہیں اس میں ریاست کینساس کا اخبار ’’ٹوپیکاکیپٹل جنرل‘‘بھی شریک ہے جو قبل ازیں صدر ٹرمپ کی حمایت کرتارہا ہے تین سو سے زائد اخبارات کی فہرست میں نیو یارک ٹائمز اور ’’بوسٹن گلوب‘‘بھی شامل ہیں، اداریہ میں لکھا گیا ہے ’’صحافی یا اخبارات جو کچھ لکھتے ہیں اس سے کوئی بھی ہر وقت خوش نہیں رہ سکتا لیکن انہیں کیسی سیاستدان یا مقصد کا دشمن قرار دیا جاتا تو قابل برداشت تھا لیکن اسے عوام کا دشمن قرار دیا گیا ہے جو انتہائی قابل مذمت اور تجزیبی کارروئی ہے جسے فوری طور پر ختم ہوناچاہیے ’’این بی سی ‘‘کی خصو صی رپورٹ میں تبایا گیا ہے صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے آغاز سے ہی میڈیا کو اپنی تنقید اور الزامات کا نشانہ بناتے رہے ہیں ابھی حال ہی میں ا سی ماہ کے دوران انہوں نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وہاں موجود میڈیا پر تنقید کی اور انہیں جعلی قرار دیا، وہ ان کیخلاف جھوٹی خبریں شائع کرنے پر کاررواءء کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اخبارات کا مشترکہ اداریہ شائع ہونے کے بعد ایک بار پھر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا وہ تمام اخبارات جعلی ہیں جو دراصل ان کی اپوزیشن پارٹی ہے۔

جنگ تیز

مزید :

علاقائی -