ریلوے کی آمدنی 50ارب ، خسارہ 37ارب روپے تک پہنچ گیا

ریلوے کی آمدنی 50ارب ، خسارہ 37ارب روپے تک پہنچ گیا

اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کو بتایا گیا ہے ریلوے کی آمدنی 50ارب جبکہ خسارہ 37ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، ایک لاکھ12ہزار پنشنرز کو سالانہ 30ارب روپے پنشن ادا کی جاتی ہے جبکہ حکومت کی طرف سے 37ارب روپے کی سبسڈی ملتی ہے، ریلوے کی منظور شدہ 94 ہزار 600 آسامیاں ہیں جبکہ 76ہزار کے قریب لوگ کام کررہے ہیں جس میں پولیس ، ڈاکٹرز ، ٹیچر وغیرہ سب شامل ہیں، بینظیر بھٹو کی شہادت پر ریلوے کی 12ارب روپے کی املاک کو نقصان ہوا،ٹھیکے پر دی گئی بزنس ٹرین میں دو ارب روپے کی ادائیگی نہیں کی گئی، اس حوالے سے کیس نیب میں ہے ، ریلوے نے7947ایکڑ رقبہ واگزار کرایا جس کی مالیت 18ارب 79کرو ڑ 10لاکھ روپے بنتی ہے۔ اب بھی چار ارب دس کروڑ مالیت کی زمین پر لوگ قابض ہیں۔سیکرٹری ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ جتنی ہم محنت کر کے بہتری لاتے ہیں اتنی ہی ہر سال پنشرز کی پنشن بڑھ جاتی ہے اگر پنشن حکومت ادا کردے تو ہمیں سات ارب روپے کی سبسڈی درکار ہو گی ۔کمیٹی نے آئندہ میٹنگ میں ریلوے کمپنیوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ اورگزشتہ تین سال میں انشو ر نس کی مد میں کتنے پیسے ادا کیے گئے اس حوالے سے ریکارڈ طلب کرلیا۔کمیٹی کااجلاس سینیٹر محمد اسد علی خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں حافظ عبد الکریم ، سینیٹرز گیان چند ، بریگیڈیئر (ر)جان کینتھ ولیمز اور لیاقت خان ترکئی نے شرکت کی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا دنیا میں ٹرینوں کا اہم کرد ا ر رہا ہے اور زیادہ تر آبادی ٹرینوں پر سفر کرتی ہے ، سی پیک سے ریلوے میں بڑی حد تک بہتری آ ئیگی جبکہ اب پہلے سے کافی بہتر اورزیادہ ٹرینیں چلتیں نظر آرہی ہیں ۔ریلوے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا 2011-12 میں ریلوے کی آمدنی 15ارب روپے تک چلی گئی تھی یہ بہت بری صورتحال تھی اور اب ریلوے کی آمدنی 50 ارب روپے ہو گئی ہے ، ریلوے کا 25سالا پلان بنا دیا گیا ہے اور ریلوے کے پاس اس وقت468 لوکوموٹو ہیں اور 528 ریلوے اسٹیشن ، آٹھ ہسپتال ، 32ڈسپنسریاں ، 1717مسافر ٹر ینیں ، 7791 روٹ کلومیٹر کا ٹریک ہے جبکہ 11778 ٹریک کلومیٹر ہیں،15407گڈز ویگنز ہیں ، مسافر ٹرینیں112روزانہ چلتی ہیں اور ایک لاکھ 25ہزار پنشنرز ہیں،96765 منظور شدہ آسامیاں ہیں جبکہ 76076ملازمین کام کررہے ہیں جن میں تقریباً20ہزار ملازمین کی کمی ہے۔بعض جگہوں پر ہسپتالوں میں سٹاف نہیں ، عید پر 65سال سے اوپر والے شہریوں کیلئے فری سفر کردیا گیا ہے ، ای ٹکٹنگ نظام کے تحت 10ہزار ٹکٹس روزانہ فروخت ہورہے ہیں۔ 2012ء میں 188اور 2017-18ء میں 217لوکوموٹو ہیں ۔سیکرٹری ریلو ے نے مزید بتایا ایک سال کے اندر ٹرینوں میں ٹریکر سسٹم لگا دیا جائیگا جس سے ٹرین کی سپیڈ اور لوکیشن کا پتہ چل سکے گا۔آئی جی ریلوے نے بتایا ہمارا 327کا ایک گروپ جو ٹرینوں کی مانیٹرنگ کا کام کررہاہے ، کمانڈوز مسافر اور کوئلے کی ٹرینوں کیساتھ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں ۔سینیٹر جان کینتھ ولیمز نے کہا پاکستان بننے کے بعد سے اب تک ریلوے کے حالات ٹھیک نہیں ہوئے جس پر سیکرٹری نے کہا ایسی بات نہیں کافی حد تک بہتر ی آئی ہے اورعوام کا اعتماد بھی بحال ہواہے ۔ ایم ایل ون ایک ہزار872کلومیٹر ہے جو کراچی ، روہڑی ، خانیوال ، لاہور ،راولپنڈی ، پشا و ر اور حویلیاں تک ہے ، ایم ایل ٹو ایک ہزار254کلومیٹر ہے جو کوٹری ، داؤد ، جیکب آباد ، ڈی جی خان ، کندیاں اور اٹک تک ہے ، ایم ایل تھری روہڑی ، سکھر ، سبی ، کوئٹہ ،دالبندین اور تفتتان تک ہے جس کی لمبائی967کلومیٹر ہے ، ایم ایل ون پر ٹرین 120 سے 160 کلو میٹر کی سپیڈ سے چلتی ہے اور ایم ایل ٹو پر 80کلومیٹر سپیڈ سے چلتی ہے اور ایم ایل ون ، ٹو اور تھری تینوں سی پیک کا حصہ بن گئے ہیں۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی

مزید : علاقائی