سندھ کی مراد برآئی ، محمود نے پختونخوادفتح کرلیا ، پنجاب اسمبلی کی پگ چودھری کے سر

سندھ کی مراد برآئی ، محمود نے پختونخوادفتح کرلیا ، پنجاب اسمبلی کی پگ چودھری ...

، لاہور ،کراچی ،کوئٹہ ، پشاور(جنرل رپورٹر، سٹاف رپورٹر ،نیوز ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما چودھری پرویزالٰہی نے پی ٹی آئی اور اپنی جماعت کے مشترکہ امیدوار کی حیثیت سے ن لیگ کے چودھری اقبال گجر کے 147 کے مقابلہ میں 201 ووٹ لے کر سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اپنے پہلے لیکن مدبرانہ خطاب میں کہا کہ میں سب سے پہلے اللہ رب العزت کا جو سب تعریفوں کا لائق ہے بے پناہ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس کی رحمت اور فضل و کرم سے میں آج پنجاب کے اس معزز اور منتخب ایوان کا سپیکر منتخب ہوا ہوں، اس کے بعد میں اپنی اتحادی پارٹی کے سربراہ جناب عمران خان، پی ٹی آئی، اپنی پارٹی اور اظہار اعتماد کرنے والے تمام ارکان کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، سابق نائب وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر بلدیات نے 19 سال بعد دوبارہ سپیکر منتخب ہونے والے چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ جس منصب کیلئے مجھ پر اعتماد کیا گیا ہے میں کوشش کروں گا کہ اس کے تقاضوں کو پورا کر سکوں اور اس ایوان میں بیٹھے تمام معزز ارکان کے ساتھ برابری کا سلوک کر سکوں، یہ میرا ایمان ہے کہ جو منصب مجھے عطا کیا گیا ہے یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے اس لیے میں اس کرسی پر بیٹھے محسوس کرتا ہوں کہ میں ایوان میں موجود تمام ارکان اسمبلی کو جواب دہ ہوں، میں اپنے کردار سے ثابت کروں گا کہ میں پورے ہاؤس کا کسٹوڈین ہوں اور تمام معزز ارکان پنجاب اسمبلی کے استحقاق کا خیال رکھنا میری اولین ترجیح ہو گی، ہم نے مل جل کر افہام و تفہیم، تدبر اور دور اندیشی کے ساتھ ایوان کو چلانا ہے، اس ملک اور صوبے کی عوام کی خوشحالی کیلئے عظیم تر جدوجہد کرنی ہے تاکہ کسی بھی طبقے میں محرومی نہ رہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف اپنے منشور پر بھرپور عمل کرتے ہوئے ملک اور صوبے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرے گی اور ہر پاکستانی شہری اس ترقی کے ثمرات سے مستفید ہوتے ہوئے خوشحالی زندگی گزار سکے گا۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ یہ ایوان پنجاب کا سب سے معزز اور با اختیار ادارہ ہے، یہاں پر کی گئی ایک ایک بات پر عوام کی نظر ہے اس لیے مجھے امید ہے کہ ہم اچھے پارلیمنٹرین کی طرح اسمبلی کی کارروائی احسن طریقے سے چلائیں گے اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے ہونے والی قانون سازی میں بھرپور حصہ لیں گے کیونکہ اچھے پارلیمنٹرین ہی ملک اور قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام معزز ارکان کو یقین دلاتا ہوں کہ رولز آف پروسیجر کے دائرے میں رہتے ہوئے میرا مکمل تعاون آپ کے ساتھ ہو گا اور اس ایوان کو چلانے کیلئے مجھے آپ کے تعاون، مشوروں اور رہنمائی کی بھی ضرورت ہو گی، میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے نیک مشوروں سے مجھے مستفید فرمائیں گے، میری پہلی ترجیح ہو گی کہ اس ایوان کے تقدس اور وقار کو بحال رکھا جائے اور میں ایوان کے تمام ارکان کے وقار اورعزت میں اضافہ دیکھنا چاہتا ہوں، مجھے اپنے رب العزت سے قوی امید ہے کہ اپنے اپنے منصب سے بہتر طریقے سے سرخرو ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہماری تمام تر توجہ قوم کے بنیادی مسائل کی طرف ہو گی جس میں ان کے جان و مال کے تحفظ، کرپشن کے خاتمے اور انصاف کے حصول کیلئے موثر اور جامع کردار ادا کریں گے اور اس حوالے سے قانون سازی کے عمل کو بھی تیز کریں گے اور ہم جمہوری روایات میں اہم کردار ادا کریں گے، انشاء اللہ ہمارا یہ ایوان پاکستان کی سالمیت، نظریہ پاکستان کے تحفظ اور پاکستان کے وقار میں اضافے اور احترام کا باعث بنے گا۔ میں آخر میں ایوان میں موجود سب ارکان کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا، انشاء اللہ میں اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوئی کمی نہیں کروں گا اور مل جل کر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں گے۔تحریک انصاف کے دوست محمد مزاری ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئے۔ انہوں نے ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں 187ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار کو 159ووٹ ملے۔۔ انتخاب میں کامیابی ملنے کے بعد سپیکر پنچاب اسمبلی پرویز الہٰی نے دوست محمد مزاری سے ڈپٹی سپیکر کے عہدے کا حلف لیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل سپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کے بعض ارکان کی طرف سے چودھری پرویز الہٰی کو ووٹ دینے پر مسلم لیگ ن کی جانب سے شدید احتجاج کیاگیا تھا اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ مسلم لیگ ن کے ر ہنماؤں نے اس حوالے سے اسلام آباد میں پارٹی صدر میاں شہبازشریف سے مشاور ت بھی کی لیکن تحریک انصاف کے وفد کی جانب سے مذاکرات کرنے کے بعد مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں آکر ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرفپیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ سندھ اور تحریک انصاف کے محمود خان نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب ہوگئے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیرصدارت اجلاس کے دوران نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ کے عہدے کے لیے سید مراد علی شاہ پیپلز پارٹی جب کہ متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار شہریار مہر کے درمیان مقابلہ تھا۔وزیراعلیٰ کے چناو کے لیے اسپیکر کی جانب سے مراد علی شاہ کے حامیوں کو اسمبلی ہال کے دائیں جانب اور شہریار مہر کے حامیوں کو بائیں جانب جمع ہونے کی ہدایت کی گئی۔ بعدازاں اراکین کی گنتی کے بعد اسپیکر آغا سراج درانی نے مراد علی شاہ کی کامیابی کا اعلان کیا جنہوں نے 97 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل شہریار مہر نے 61 ووٹ حاصل کیے۔یاد رہے کہ مراد علی شاہ پیپلز پارٹی کی صوبے میں گزشتہ دور حکومت کے دوران بھی وزیراعلیٰ کے عہدے پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ قائد اعظم کے بعد ملک بدقسمتی سے غلط سمت میں چلا گیا، چھوٹے صوبوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا، جب ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت ملی تو ہم اپنا آدھا ملک کھوچکے تھے، اس وقت بھی ملک بہت کٹھن حالات سے گزر رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ لوگ بہت تبدیلی کی بات کرتے ہیں لیکن تاریخ بھول جاتے ہیں، نومنتخب وزیراعلیٰ کا کہنا تھاکہ سندھ کے عوام نے ہر بار پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا، جب ہم نے حکومت نہیں بنائی تب بھی سب سے زیادہ ووٹ پیپلزپارٹی کو ہی ملے، اس بار پیپلزپارٹی کے ووٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا، 2013دوسری جانب اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی زیرصدارت اجلاس کے دوران نئے قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔وزیراعلیٰ کا انتخاب اراکین کو 2 لابی میں تقسیم کر کے کیا گیا جس کے لیے محمود خان کے حامی اراکین لابی نمبر دو اور متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار میاں نثار گل کے حامی لابی نمبر ایک میں جمع ہوئے۔اراکین کے لابی میں جمع ہونے کے بعد اراکین کی گنتی کی گئی جس کے بعد اسپیکر نے محمود خان کی کامیابی کا اعلان کیا جنہوں نے 77 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل میاں نثار گل نے 33 ووٹ حاصل کیے۔وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے محمود خان نے اپنا حلقہ کھولنے کی پیشکش کردی۔انہوں نے کہاکہ صوبے کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے اور عوام کے بھروسے کو ٹھیس نہیں پہنچنے دوں گا، ہم نے جو وعدے کیے ہیں اس پر مکمل عمل کریں گے، پی ٹی آئی کے منشور اور عمران خان کے ویڑن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔محمود خان کا کہنا تھاکہ اداروں کو مضبوط کریں گے اور کرپشن کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر جہاد ہوگا، اقلیتوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جائیں گے ، ہم صوبے کے لوگوں پر سرمایہ کاری کریں گے۔دریں اثنامیرعبدالقدوس بزنجونے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے 15ویں سپیکر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا ۔سبکدوش ہونے والی سپیکر متحرمہ راحیلہ حمید خان درانی سے ان سے حلف لیا جمعرات کے روز بلوچستان صوبائی اسمبلی کی سبکدوش ہونے والی سپیکر محترمہ راحیلہ حمید خان درانی جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے نئے سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ یہ بلوچستان اسمبلی کے 15ویں سپیکر منتخب ہوئے تھے۔ نئے سپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کی ووٹنگ میں 59 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے جب کہ مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف جھالاوان نے ابھی تک بحیثیت صوبائی اسمبلی کے رکن کے حیثیت سے حلف نہیں اٹھایا ہے۔ بلوچستان صوبائی اسمبلی کے نئے سپیکرمیر عبدالقدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی (باپ)سے ہے۔ میر عبدالقدوس بزنجو کے مقابلے میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے محمد نواز نے کاغذات نامزدگی داخل کئے تھے ۔ میر عبدالقدوس بزنجو نے 39ووٹ لیکر سپیکر منتخب ہوئے جبکہ ان کے مد مقابل جمعیت علماء اسلام (ف) محمد نواز نے 20ووٹ حاصل کیے۔میر عبدالقدوس بزنجو 4جون 2013سے 22مئی 2015تک ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ وہ قائم مقام سپیکر قائم مقام گورنر بھی رہ چکے ہیں۔اسی طرح حکومتی اتحاد کے سردار بابر موسیٰ خیل کو ڈپٹی اسپیکر منتخب کرلیا گیا انہوں نے 58 میں سے 36 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل اپوزیشن اتحاد کے امیدوار احمد نواز کو 21 ووٹ ملے۔ بابر موسیٰ خیل کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔

مزید : صفحہ اول