چیف جسٹس کی نثار اور پانامہ جے آئی ٹی سے متعلق ریمارکس کی تردید

چیف جسٹس کی نثار اور پانامہ جے آئی ٹی سے متعلق ریمارکس کی تردید

  

160اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے چوہدری نثار اور پاناما جے آئی ٹی سے متعلق ریمارکس کی تردید کردی۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کی سماعت ہوئی اور میڈیا میں چیف جسٹس سے یہ بیان منسوب کیا گیا کہ پاناما جے آئی ٹی میںآئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہلکاروں کو اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے شامل کروایا تھا، تاہم جمعرات کے روز ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے وضاحت کی کہ کل میری چوہدری نثار کی جے آئی ٹی سے مراد پاناما جے آئی ٹی نہیں بلکہ ڈان لیکس کیجے آئی ٹی تھی،جبکہ پاناما جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے ہی بنائی تھی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ گزشتہ روز خبر کو غلط چلایا گیا، غلط خبر چلنے پر ٹاک شوز ہوگئے، میری مراد ڈان لیکس کی جے آئی ٹی تھی، ایک مخصوص میڈیا گروپ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے صحافیوں سے پوچھا کہ میرے ریمارکس کو میڈیا نے درست انداز میں کیوں رپورٹ نہیں کیا؟۔160 جس پر ایک رپورٹر نے جواب دیا کہ سر! ہم نے ڈان لیکس کے حوالے سے ہی خبر چلائی تھی۔160 چیف جسٹس نے کہا کہ ایک مخصوص میڈیا گروپ میں آج بھی غلط خبر لگی ہے، کل میر ابراہیم کو لے آئیں۔ اس موقع پر جنگ اخبار کے رپورٹر نے عدالت سے معافی مانگی تو چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے تھپڑ مار کر پھر معافی مانگ لو، میڈیا کو بھی خود سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے معذرت قبول کرتے ہوئے معاملہ نمٹادیا, واضح رہے کہ چیف جسٹس سے منسوب غلط بیان نشر ہونے پر سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ریمارکس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف کے خلاف بننے والی جے آئی ٹی میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

چیف جسٹس تردید

مزید :

صفحہ اول -