سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی 93برس کی عمر میں انتقال کرگئےٍٍٍٍٍٍٍٍ

سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی 93برس کی عمر میں انتقال کرگئےٍٍٍٍٍٍٍٍ

  

 نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد93برس کی عمر میں چل بسے،رواں سال جون میں انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے انکی سانس کی نالی میں انفیکشن اور گردوں سے متعلق بیماری کی تشخیص کی تھی ، واجپائی نے 1940 میں سیاست میں قدم رکھا تھا، 1942 کی بھارت چھوڑو تحریک میں پرجوش حصہ لیا،واجپائی نے 24دن قید میں بھی گزارے،اٹل بہاری واجپائی پہلی مرتبہ15دن اور دوسری مرتبہ5سال بھارت کے وزیر اعظم رہے، واجپائی نے بطور بھارتی وزیر اعظم 1999 اور2003میں پاکستان کے ساتھ مراسم بڑھانے کیلئے تاریخی دورے کیے ،واجپائی پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں تھے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے دو مرتبہ وزیر اعظم بننے والے93سالہ اٹل بہاری واجپائی آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(ایمس)میں چل بسے ہیں۔رواں سال جون میں انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی سانس کی نالی میں انفیکشن بتایا ، اس کے ساتھ ہی ان کے گردوں سے متعلق بھی بیماری کی تشخیص کی گئی تھی۔گزشتہ ہفتے، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور یونین کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ بھی ان کی صحت کا حال پوچھنے ہسپتال پہنچے تھے۔واضح رہے اٹل بہاری واجپائی نے 1940میں سیاست میں قدم رکھا تھا، 1942 کی بھارت چھوڑو تحریک میں پرجوش حصہ لیا،تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا تو یہ بھی گرفتار ہو گئے اور انہیں 24دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔اٹل بہاری واجپائی دو مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے۔ پہلی مرتبہ 16مئی 1996 سے یکم جون 1996 یعنی 15دن کے وزیر اعظم رہے۔ دوسری مرتبہ 19مارچ 1998 سے 22مئی 2004 تک وزارتِ عظمی کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔واجپائی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما کے ساتھ ہندی کے عمدہ شاعر بھی ہیں۔ سیاسی مصروفیات میں بھی انہوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ واجپائی جنہیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی اپنے ان جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں واجپائی نے وقت کے ہر سلگتے مسئلے پر نظمیں کہی ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -