لگتا ہے متحدہ اپوزیشن بنانے میں جذباتی جلد بازی سے کام لیا گیا تھا

لگتا ہے متحدہ اپوزیشن بنانے میں جذباتی جلد بازی سے کام لیا گیا تھا
لگتا ہے متحدہ اپوزیشن بنانے میں جذباتی جلد بازی سے کام لیا گیا تھا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 پیپلز پارٹی نے بالآخر حتمی فیصلہ کرلیا ہے کہ شہباز شریف کو ووٹ نہیں دیا جائے گا، چونکہ پیپلز پارٹی اصولوں کی سیاست کی چمپئن ہے، اس لئے شہباز شریف کو ووٹ دے کر بے اصولی تو نہیں کی جاسکتی تھی یہ تو مسلم لیگ (ن) ہے جسے اصولوں کی کوئی پرواہ نہیں اور اس نے سپیکر کے انتخاب میں جھٹ سے خورشید شاہ اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں اسد محمود کو ووٹ دے دیا اگر اسے بھی اصولوں کا پاس لحاظ ہوتا تو وہ بھی کہہ سکتی تھی کہ ہم خورشید شاہ کو اسی صورت ووٹ دیں گے اگر پیپلز پارٹی قائدِ ایوان کے انتخاب میں اپنا ووٹ شہباز شریف کو دے گی، لیکن وہ بے اصولیوں کے راستے پر گامزن رہی، نتیجتاً اسے خفت کا سامنا کرنا پڑا، ویسے معروضی حقیقت تو یہ ہے کہ اس انتخاب میں عمران خان کی کامیابی دیوار پر لکھی ہوئی ہے، پیپلز پارٹی، شہباز شریف کو ووٹ دے بھی دے تو انہوں نے کون سا وزیراعظم ہو جانا ہے، کیونکہ اگر شہباز کا کوئی چانس ہوتا تو وہ سارا کچھ نہ ہوتا جو انتخاب سے کئی مہینے پہلے ہوتا رہا، انتخابی عمل کے دوران بھی ہوا اور آج بھی کسی نہ کسی انداز میں ہورہا ہے، پیپلز پارٹی کے سارے قیمتی ووٹ شہباز شریف کی جھولی میں پڑ جائیں تو بھی اس سے ان کا مقتدر نہیں بدلتا، انہیں ہارنا ہے اور ہر قیمت پر ہارنا ہے، لیکن وہ اپنی ہار کے بعد غالب کے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں،

درد منت کشِ دوا نہ ہوا

میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

جب پیپلز پارٹی کے ووٹ کا احسان لے کر بھی ہار ہی مقدر ہے تو کیوں اس بوجھ تلے دبا جائے؟ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا یہی نہ کہ شہباز کو اتنے ووٹ بھی نہ مل سکے جتنے خورشید شاہ اور اسد محمود لے گئے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا شہباز شریف کو لیڈر آف دی اپوزیشن بننے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس کا جواب بہرحال نفی میں ہے، شہباز کو قائدِ حزب اختلاف بننا ہے اور یہ منصب ان سے نہیں چھینا جاسکتا، یار لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جو اتحاد بنے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے وہ اتنی جلدی اپنے انجام کی جانب کیوں گامزن ہوگیا؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہ فیصلہ جذباتی جلدبازی میں کیا گیا تھا اور اس کا انجام مختلف نہیں ہو سکتا تھاپیپلز پارٹی کو سندھ میں عام انتخابات میں اندازوں سے بھی زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں، اسے 2013ء کے انتخابات سے بھی زیادہ نشستیں مل گئی ہیں البتہ پنجاب میں نہ اس وقت اسے کوئی کامیابی حاصل ہوئی تھی اور نہ اب ہوئی ہے البتہ جی ڈی اے کی قیادت پیپلز پارٹی پر کھل کر الزام لگا رہی ہے کہ اس نے سندھ میں جی بھر کر دھاندلی کی ہے، جی ڈی اے نے مظاہرے بھی کئے ہیں، پیپلز پارٹی اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے پارہی، البتہ اس کے خیال میں سندھ سے باہر دھاندلی ہوئی ہے گویا جہاں پیپلز پارٹی ہار گئی وہاں دھاندلی ہوئی اور جہاں وہ کامیاب ہوگئی وہاں معاملہ صاف شفاف تھا، پیپلز پارٹی کی قیادت جن معاملات میں الجھ گئی ہے یا الجھا دی گئی ہے اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ وہ راندۂ درگاہ جماعت سے فاصلہ رکھے اگر وہ ایسا کرے گی تو امکان ہے کسی نہ کسی دروازے سے اس کے حق میں خیر کی دعا نکلے گی، ورنہ جو حال راندۂ درگاہ جماعت کا ہوا ہے وہی اس کا بھی ہوسکتا ہے، اس لئے اس نے بہت اچھا کیا کہ قربتیں بڑھنے سے پہلے فاصلے پیدا کرلئے ویسے بھی شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید جیسے لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ متحدہ اپوزیشن جلد ہی بکھر جائیگی، اب جس جماعت نے آغاز ہی میں اصولی سیاست کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے طویل سیاسی سفر میں تو اس سے کسی بے اصولی کی توقع نہیں کی جاسکتی، اس لئے یہ بڑا چھا فیصلہ ہے، ایم ایم اے بھی متحدہ اپوزیشن کا حصہ ہے لیکن ایم ایم اے کی ایک رکن جماعت نے اپنے اکلوتے رکن اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزیراعظم کے انتخاب میں کسی کو ووٹ نہ دیں یعنی نہ عمران خان کو اور نہ ہی شہباز شریف کو، ویسے بھی شہباز شریف کو ووٹ دینے کا مقصد ووٹ ضائع کرنے کے مترادف ہے لیکن عمران خان کو ووٹ نہ دینے کی سمجھ نہیں آئی جو ریاست مدینہ کی طرز پر مملکت پاکستان کا نظام چلانا چاہتے ہیں خیر کے کاموں میں تو تعاون کرنا چاہئے لیکن حیرت ہے کہ ایک دینی جماعت اس سلسلے میں بھی سخت رویئے کا اظہار کررہی ہے حالانکہ تحریک انصاف اس کے لئے اجنبی نہیں ہے، دونوں جماعتیں پانچ سال تک خیبر میں مل کر حکومت کرتی رہیں اب نہ جانے کیوں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ویسے بہتر تو یہی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کا ڈرامہ سٹیج نہ ہی کیا جائے، جب جماعتوں کی اپنی اپنی مصلحتیں ہیں اور وہ دیوار پر لکھی ہوئی ناکامی کے ہنگام ووٹنگ کے معاملے پر متفق نہیں ہوسکتیں تو تصور فرمائیے اگر ان کی کامیابی کا کہیں امکان ہوتا تو کیسی کیسی جُز رسی نہ کی جاتی، مسلم لیگ (ن) کو یہ بات ابھی سے سمجھ آجانی چاہئیے کہ اس نے جو بھی سیاست کرنی ہے اپنی قوتِ بازو پر کرنی ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرسکتی تو خاموشی سے بہتر دنوں کا انتظارکرے، دوسروں پر تکیہ کرنے کا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو ییپلز پارٹی کے فیصلے کی شکل میں سامنے آیا ہے، اچھا ہوا ابتدا ہی میں یہ سب کچھ واضح ہوگیا ورنہ آگے چل کر نہ جانے حالات کی کیا شکل بنتی؟

جلد بازی

مزید : تجزیہ