ڈیرہ، دارالامان سے فرار ہونیوالی لڑکی پر پولیس اہلکاروں کا تشدد

ڈیرہ، دارالامان سے فرار ہونیوالی لڑکی پر پولیس اہلکاروں کا تشدد

ڈیرہ غازیخان(سٹی رپورٹر )دارالامان سے پراسرارطور پر فرار ہو نے والی نوجوان لڑکی عدالت کے حکم پر ورثاء کے حوالے کردی (بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

گئی۔ بلوچستان کے علاقہ کوہلو کی رہائشی رفعت بی بی کو گزشتہ روز ماڈل تھانہ بی ڈویژن پولیس نے خاتون کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیاجس پر عدالت نے اسے دارالامان بھجوادیا تھا مبینہ مغویہ کی دارالامان پہنچنے کی اطلاع ملنے پر ورثاء نے عدالت سے رجوع کرلیا اور عملہ کے تعان سے فوری واپس لے گئے دارالامان میں مقیم رفعت علی الصبح پر اسرار طور پردارالامان سے فرار ہو گئی جس کی اطلاع ملنے پر پولیس اور سوشل ویلفےئر عملہ کی دوڑیں لگ گئیں تاہم عملہ نے تھانہ گدائی کے علاقہ خیابان سرور جام پور روڈ سے گھسیٹتے ہو ئے اسے زبردستی دوبارہ دارالامان منتقل کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقہ کوہلو کی رہائشی رفعت بی بی دختر عبدالحمید کے بارے میں ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کامران نامی شخص مبینہ اغواء کار نے اسے اغواء کرکے غائب کردیاورثاء بلوچستان اور پنجاب کے ملحقہ علاقوں ٹرائیبل ایریا و ڈیرہ غازیخان میں مغویہ کی تلاش کرتے رہے جبکہ ذرائع کے مطابق کوہلو میں اغواء کے مقدمہ میں نامزد ملزم کامران کو بھی تین روز قبل گرفتار کیاجاچکاہے ۔ پولیس نے لڑکی کے بیان پر اسے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیاجس پر عدالت نے لڑکی کو دارالامان بھجوادیا تھا مبینہ مغویہ کے دارالامان پہنچنے کی اطلاع پر ورثاء بھی پہنچ گئے اور وکیل کے توسط سے لڑکی کی حوالگی کے حوالہ سے درخواست دی جس پر عدالت نے انچارج دارالامان کو رفعت سمیت طلب کیا ہوا تھا لیکن علی الصبح ہی دارالامان میں مقیم رفعت کے فرار ہونے کی اطلاع پر پولیس اور دارالامان کے عملہ کی دوڑیں لگ گئیں، تاہم عملہ کے افراد نے لڑکی کا پیچھا کرتے ہوئے خیابانِ سرور بالمقابل دستی پل کے قریب سے فرار ہونے والی لڑکی کو پکڑ لیا اور سر عام تشدد کیا اور لیڈی پولیس بھی ہمراہ نہیں تھی جس پر رفعت نے شور واویلہ شروع کردیا اور کہا کہ وہ ان کیساتھ ہرگز نہیں جاناچاہتی ہے رفعت بی بی نے داراالامان عمل اور سوشل ویلفیئر کے افسران پر سنگین الزامات لگائے اور چیخ چیخ کر اپنا میڈیکل کرانے کے لئے کہتی رہی سوشل ویلفیئر آفیسر ذکاء بزدار اور دیگر عملہ نے اس کی ایک نہ سنی اور اس لڑکی کو بہلا پھسلا کر عدالت لائے اور مبینہ طور پر رفعت سے چچا کے حوالے کر نے کا بیان دلوا کر عدالت سے احکامات حاصل کئے اور سوشل ویلفیئر عملہ کے تعاون سے فوری طور پر لڑکی کو لے گئے جبکہ لڑکی نے درجنوں افراد کی موجود گی میں اپنی جان کے تحفظ اور میڈیکل کرانے کے لئے با ر بار مطالبہ کیا اور وہ دارالامان عملہ کے خلاف گزشتہ شب ہو نے والی بے عزتی کی تحقیقات اور عملہ کے خلاف کاروائی چاہتی تھی وقوعہ کی اطلاع ملنے پر ایلیٹ کی نفری سمیت تھانہ سول لائن پولیس بھی پہنچ گئی اسسٹنٹ سب انسپکٹر صادق کے کہنے پر دارالامان عملہ نے لڑکی کو فوری طور پر علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کردیا درخواست پر عدالتی کارروائی کے بعد علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ دارالامان کو حکم دیا کہ لڑکی کو ورثاء کے حوالے کیاجائے جس پر سپرنٹنڈنٹ نے رفعت بی بی کو عدالت کے باہر ہی ورثاء کے حوالے کر دیا انسانیت سوز واقعہ اور سر عام لڑکی کے کپڑے پھاڑنے اور سڑک پر لٹا کر گھسیٹنے پر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وومن رائٹس کمیٹی کی کوآرڈی نیٹر سندس رحیم ایڈووکیٹ اور انسانی حقوق کمیٹی کے مرزا محمد ادریس خان ایڈوکیٹ نے سوشل ویلفیئر عملہ کی غفلت لاپرواہی کی وجہ سے دارا لامان سے فرا ر اور پھر بیہمانہ تشدد کی سختی سے مذمت کر تے ہو ئے واقعہ کی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ادھر سنگین واقعہ کا ڈپٹی کمشنر علی اکبر بھٹی نے فوری نوٹس لیتے ہو ئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو میاں اقبا ل مظہر اور اسسٹنٹ کمشنر کو تحقیقاتی آفیسر مقرر کر تے ہو ئے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کی جنہوں نے دارالامان پہنچ کے تمام متعلقہ عملہ اور سپرنٹنڈنٹ زرینہ کے بیانات قلمبند کئے رپورٹ آج ڈپٹی کمشنر کو پیش کی جا ئے گی ۔

لڑکی ورثا کے حوالے

مزید : ملتان صفحہ آخر