پی پی کی ملک گیر کامیابی مراد علی شاہ کی کارکردگی سے مشروط

پی پی کی ملک گیر کامیابی مراد علی شاہ کی کارکردگی سے مشروط

  

تجریاتی رپورٹ/نعیم الدین

سید مراد علی شاہ کو ایک بار پھر سندھ کے منتخب ارکان نے صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ منتخب کرلیاہے۔ ان کے گذشتہ دور کی خدمات کے صلے میں بھی ان کو دوبارہ منتخب کیا گیا ہے۔ اس مرتبہ انہیں زبردست اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شہر یار مہر کو ملنے والے 61ووٹ بھی اپوزیشن کی طاقت کا اظہار کررہے ہیں ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محض نمائشی گورنر نہیں ہوں گے بلکہ وہ صوبے میں گورننس کے معاملے میں پیپلزپارٹی کو فری ہینڈ نہیں دیں گے جس سے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان ایک نئی چپقلش شروع ہوسکتی ہے ۔ پیپلزپارٹی مسلسل تیسری مرتبہ سندھ میں برسراقتدار آئی ہے ۔ماضی میں ایم کیو ایم کے ساتھ اس کے معاملات اس قدر خرا ب نہیں تھے اور ایم کیو ایم سندھ حکومت کا حصہ بھی رہی ہے ۔تاہم اب تحریک انصاف ،جی ڈی اے اور ایم کیو ایم پر مشتمل اپوزیشن ماضی کی اپوزیشن کی طرح نہیں ہوگی اور ایوان میں مراد علی شاہ اور ان کے وزراء کو سخت سوالات کا سامنا کرنا ہوگا اور اپنی کارکردگی سے ایوان کو مطمئن کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہوگی ۔دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ پی ٹی آئی کی نئی وفاقی حکومت اپنی تبدیلیوں کے اثرات کس طرح سے صوبہ سندھ میں لانے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مراد علی شاہ کی سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو جس کا فائدہ صوبے کے عوام کو ہوگا ۔خصوصاً کراچی کی ترقی کے لیے ان دونوں حکومتوں کے درمیان تعلقات کا بہتر ہونا انتہائی ضروری ہے ۔صوبائی حکومت کو اندرون سندھ کے عوام کو پینے کا صاف پانی، صحت اور تعلیم کی مزید سہولیات فراہم کرنا ہونگی تاکہ سندھ کے عوام کی محرومیاں ختم ہوجائیں اور پورے ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس صوبے کے عوام کو بھی حقیقی تبدیلی نظر آئے گی۔مراد علی شاہ انقلابی اقدامات کرکے صوبے کے عوام دل جیت سکتے ہیں ۔بلاول بھٹو زرداری نے بھی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ بات واضح کی تھی کہ اس مرتبہ وہ خود صوبائی حکومت کی کارکردگی کو مانیٹر کریں گے اور کام نہ کرنے والے وزراء کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا جائے گا ۔سندھ حکومت اگر اس مرتبہ حقیقی معنوں میں صوبے کے عوام کو ڈلیور کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اس کے اثرات پورے ملک پر پڑیں گے اور پنجاب سے ختم ہوتی پیپلزپارٹی کو ایک نئی زندگی ملے گی ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -