محمود نے پختونخوا فتح کر لیا ،پنجاب اسمبلی کی پگ چودھری کے سر ، سندھ کی مراد بر آئی

محمود نے پختونخوا فتح کر لیا ،پنجاب اسمبلی کی پگ چودھری کے سر ، سندھ کی مراد ...

  

پشاور( نیوز رپورٹر)خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اجلاس ایک گھنٹہ کی تاخیر سے سپیکر مشتاق احمد غنی کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا سپیکر مشتاق احمد غنی نے نو منتخب اسمبلی پی کے 4سوات کے عزیز اللہ خان گران سے ان کے منصب کا حلف لیا جس کے بعد انھوں نے سیکٹری اسمبلی کی منیر پر جاکر ان کے سامنے حاضری رجسٹرڈ پر دستخط کئے سپیکر مشتاق اھمد غنی نے ایوان کو بتایا کہ گذشتہ روز وزیر اعلٰی کے انتخاب کے لئے دو ارکان میان نثار گل اور محمود خان نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے کرائے تھے جو درست قرار پائے ہیں قواعد کے مطابق بعض ارکان ابھی راستے میں ہیں اس لئے پانچ منیت کے لئے گھنٹیاں بجا کر ان کی آمد کا انتظار ہو گا پی پی پی کے خاتون رکن نگہت اورکزئی کے ایک نکتہ اعتراض کے جواب میں سپیکر مشتاق احمد غنی نے کہا کہ وہ ائین و قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق ایوان چلائیں گے کوئی غیر قانونی اقدام مہیں کریں گے اور انہین توقع ہے کہ اس سلسلے میں اپوزیشن کا تعاون انہیں ھاصل ہو گا بعد ازاں سپیکر مشتاق احمد غنی کے حکم پر اسمبلی ھال کے دروازے لاک کر دیئے گئے میاں نثار گل کی حق میں رائے کا اظہار کرنے والے ارکان لابی نمبر ایک اور محمود خان کے حق میں رائے کا اظہار کرنے والے اراکین لابی نمبر 2میں چلے گئے رائے شماری کے بود جب ارکان سپیکر کی ہدایت پر ایوان میں واپس آئے تو حکمران جماعت کے ارکان کی قیادت محمود خان کر رہے تھے اور ارکان میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور آئی آئی ،پی ٹی آئی کے نعرے بھی لگائے سپیکر کے اعلان کے مطابق تحریک انصاف کے نامزد وزیر اعلی محمود خان نے 77ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ میاں نثار گل کو 33 ووٹ ملے یوں انھوں نے محمود خان کے قائد ایوان اور وزیر خیبر پختونخوا منتخب ہونے کا اعلان کیا اور انہین اس کامیابی پر اپنی جانب اور اسمبلی سیکٹریٹ کی جانب سے مبارک باد دی ۔

پی پی پی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی شیر اعظم وزیر نے اپنی جانب سے اور ایوان کی جانب سے وزیر اعلٰی منتخب ہونے پر محمود خان اور سپیکر وڈپٹی سپیکر کے انتخاب پر انہیں مبارک باد دی اور تعاون کا یقین دلایا ایم ایم اے کے رکن اور نامزد اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے سپیکر ،ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعلٰی محمود خان کے انتخاب پر انہیں مبارک باد دی انھون نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کی گاڑی کے دو پہیے ہیں انھون نے کہا کہ صوبے کے مغاد میں حکومت کی جانب سے جو اقدام اٹھایا جائے گا ہم اس میں بھر پور تعاون کرے گے انھون نے کہا کہ مرکز میں بھی متحدہ اپوزیشن ہے انھون نے کہا کہ مصوبے میں بھی متحدہ اپوزیشن ہے اور اپوزیشن کی حثیت سے ہمارا احتاج جاری رہے گا یہ احتاج عوام کی رائے کو احترام دینے کے لئے ہے انھوں نے انتخابات کے دوران انتخابی نتائج کے نظام کوو سکت تنقید کا نشانہ بنای اانھوں نے کہا کہ بد ترین دھاندلی کے بعد نتائج بر وقت نہیں دئیے گئے انھوں نے کہا کہ میرے حلقے میں 20ہزار ملازمین کو ووٹ نہیں دئیے گئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں ووٹ مسترد کئے گئے انھوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج تحریک انصاف کے خلاف نہیں بلکہ الیکشن کے انقعاد کے ذمہ دارون کے خلاف ہے انھوں نے کہا کہ وہ پوچھنا چاہیں گے کہ 2002میں سے 2009تک جب وہ وزیر اعلٰی تھا ،2008ء سے 2013ء تک جب امیر ہوتی وزیراعلٰی تھے اور 2013سے 2018تک جب پرویز خٹک وزیر اعلی تھے صوبہ پر قرضہ کتنا تھا کتنا لیا گیا اور کتنا اضافہ ہوا انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اعلان کردہ 50لاکھ گھر اور کروڑ نوکریوں پر عمل درآمد بھی ہم دیکھنا چاہیں گے حکومتی رکن شاہ فرمان نے سپیکر ،ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعلی کے انتخاب پر انہین مبارک باد دی انھوں نے کہا کہ آج تو مبارک باد کا دن ہے مگر اپوزیشن کے بعض نکات اٹھائے انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں نئے لوگ اور اپوزیشن میں زیادہ تجربہ کار لوگ ہے انھوں نے کہا کہ ہم پارٹی کو نہیں صوبے کی عوام کو جواب دہ ہیں اور اپوزیشن والے بھی عوام کے فیصلے کو تسلیم کرے انھوں نے کہا کہ ہم نے اس الیکشن کمیشن کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا مگر اپوزیشن نے اسے سپورٹ نہیں کیا تھریک انصاف کے 4حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا پورا نہ ہوا ہم نے کہا کہ جس حلقے کو چاہے کھول دیں انھوں نے کہا کہ 2013مین ہمیں ذمہ داری دی گئی آج صوبہ خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ امن ہے کرپشن کو روک لیا میرٹ کو رواج دیا انھوں نے کہا کہ کہ ہماری حکومت کی کارکرگی نہ ہوتی تو عوام ہمیں دوبارہ ووٹ نہ دیتے انھوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنا تجربہ شیئر کریں ہماری نیت ٹھیک ہے ہم عوام کے مفاد عمل درآمد کریں گے مسلم لیگ (ن) کے سردار اورنگزیب نلوٹھانے بھی نو منتخب وزیراعلی ،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو مبارک باد دی اور کہا کہ صوبے میں غریب عوام کے مفاد کے لئے اٹھائے گے اقدامات کی حمایت و تاعید کریں گے انھون نے بھی الیکشن عمل پر تحفظات کا اظہار کیا تھریک انصاف کے عاطف خان نے بھی سپیکر ،ڈپٹی سپیکر وزیر اعلی اور ارکا ن اسمبلی کے انتخاب پر انہیں مبارک باد دی اور کہا کہ پانچ سال پڑے ہیں اس میں باتیں ہو ں گی آج صرف مبارک باد کا دن ہے انھون نے اپوزیشن لیڈر کے خطاب اور الزامات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نگران وزیر اعلی ان کی جماعت کے نامزد کردہ تھے اور نگران کابینہ میں دس وزیر بھی بنوں سے تھا اگر الزام لگانا ہے تو ان پر لگایا جائے انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے انتخاب مین صرف 37ووٹ سے ہار چکا ہوں اور صوبائی اسمبلی میں 26ہزار سے زیادہ ووٹ لئے دوسرے نمبر پر اے این پی کے امیدوار نے 11ہزار ووٹ لئے جبکہ بانچویں نمبر پر آنے والے امیدوار نے پریس کانفرنس کر کے دھاندلی کا الزام لگایا انھوں نے کہا کہ ہمیں اداروں اور الیکشن کمیشن کو درست اور مضبوط کرنا چائیے ایم ایم اے کے عنایت اللہ خان نے قائدایوان منتخب ہونے پر محمود خان کو مبارک باد دی انھوں نے کہا کہ صوبے مین پہلی بار کسی پارٹی کو دوتہائی اکثریت ملی ہے اور ملاکنڈ ڈویژن کو پپہلی بار وزارت اعلی اور منصب ملا انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو دوسری بار موقع ملا ہے اللہ کے کہ آپ اپنے منشور پر عمل درآمد کر سکیں ہر اچھے کام میں ہم آپ کو سپورٹ کرے گے انھوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ گورننسس پر توجہ دیں اور فنڈز کے استعمال میں ضلعوں کی مابین برابری کی بنیاد پر تقسیم کریں بنوں سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے شاہ محمد خخان نے اپوزیشن لیڈر کے خطاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ اداروں پر الزام لگا رہے ہیں مگر 2016 میں بلدیاتی انتخابات کے دوران انھوں نے ہمارے ممبران کو اغواء کر کے بنوں سے اٹک منتقل کیا تھا انھون نے اپوزیشن لیڈر کے خطاب کے تمام نکات کا جواب بھی دیا اور انہیں شاہ محمد کے اظہار خیال پر اکرم خان درانی کو ذاتی وضاحت کے نکتے پر تفصیلی وضاحت دینا پڑی اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلی کا انتخابات لرنے والے میاں نثار گل نے سپیکر ،ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعلی کے انتخاب پر انہیں مبارک باد دی اپوزیشن ارکان کا شکریہ ادا کیا اور سپیکر کو مشورہ دیا کہ وہ وہی کردار ادا کریں گے جو سابق سپیکر بخت جہا ں نے اپوزیشن سمیت پورے ایوان کو ساتھ لے کر چلنے کا ارادہ کیا تھا اے این پی کے سردار حسین بابک نے بھی نو منتخب قائد ایوان کو مبارک باد دی اور کہا کہ ان کا انتخاب ملاکنڈ ڈویژن کے لئے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے انھوں نے توقع ظاہر کی کہ قائد ایوان اپوزیشن کو دیوار سے نہین لگائیں گے بلکہ ساتھ لے کر چلے گے انھوں نے ملک مین ادارون کے کردار باالخصوص انتکابات کے دوران کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا انھوں نے کہا کہ عوام کے مسائل کا حل جمہوریت مین ہے اور جمہوریت کو چلنا چائیے ایم ایم اے کو مولانا لطف الرحمن نے بھی قائد ایوان کو مبارک باد دی اور الیکشن 2018کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جمہوری اداروں کو چلانے کے لئے ہم نے احتجاجاً ہم نے اسمبلی مین حلف اٹھایا ہے تھریک انصاف کے شہرام خان نے سپیکر ،ڈپٹی سپیکر اور قائد ایوان کو انتخاب پر مبارک باد دی تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ تحریک کی بنیاد 23سال قبل رکھی گئی تھی 23سالانہ محنت کے بعد اقتدار مین آئے ہیں اسی کے کندھوں پر بیٹھ کر نہیں بعض لوگ اگر ایسا تاثر دے رہے ہیں تو غلط ہے انھوں نے کہا کہ صوبے مین تحریک انصاف کو دوبارہ بھاری منیڈیٹ ملا اس طرح تاریخ رقم ہوئی ہیانھوں نے کہا کہ اپوزیشن کی مثبت تنقید کو سنجیدگی سے لیا جائے گا انھوں نے کہا کہ ماضی میں لوگ امریکہ جاکر ڈبل کرتے رہے اور حکمرا ن بنتے رہے انھوں نے کہا کہ ادارون کو بدنام نہ کیا جائے اور عوام کو دئیے ہوئے منیڈیٹ کا احترام کیا جائے تحریک انصاف کی خاتون رکن ملیحہ باسر نے وزیر اعلٰی سپیکر و ڈپٹی سپیکر کو مبارک باد دی اور قائد ایوان کو تعاون کا یقین دلایا رکن اسمبلی فخر جان قائد ایوان کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو اس قوم کے نوجوان لائے ہیں قائدایوان محمود خاسن نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج صوبے کے تاریخ کا اہم ترین دن ہے آج ہمیں ایک دوسرے کو مبارک باد دینی چائیے تھا مگر آغاز میں تلخیاں اٹھائیں گئیں انھوں نے کہا کہ میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلوں گا ہم نے اس صوبے کے عوام کے لئے کام کرنا ہے انھوں نے کہا کہ اگر کسی کو اعتراض ہے تو میں اپنا حلقہ کھولنے کے لئے تیار ہوں انھوں نے اللہ تعالٰی پارٹی قائدین اور ارکان اسمبلی کا شکری ادا کیا انھوں نے کہا کہ عوام نے دوبارہ ہمیں منیڈیٹ دیا ہے ہم عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤ گا اور یہ تاریخ بھی بنے گی کہ تیسری بار بھی ڈصوبے میں تحریک انصاف کی حکومت بنے گی انھوں نے کہا کہ کہ ہماری حکومت عمران خان کے وژن اور پارٹی منشور پر سودا بازی نہیں کریں کریں گے میرٹ کو فروغ دیں گے شفافیت لائیں گے کرپشن کے خلاف ھنگامی بنیادون پر جہاد ہو گا اقلیتون کے حقوق کا تحفظ کرے گیھیومن ایسوسی پر سرمائیہ کاری ہو گی اچھی حکمران کریں گے گذشتہ حکومت میں جوریفامز لائے تھے ان کو آگے برھائیں گے اور آگے جائیں گے بی آر ٹی ،سوات موٹروے اور منی ڈیمز کی تعمیر مکمل کیا جائے سیاحت ،معدنیات ،اور تواناء شعبوں کو خصوصی ترجیح دیں گے روز گار کے مواقع بڑھائیں گے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کریں گے فاٹا کے انضمام کو فاٹا کے عوام کے توقعات کے مطابق انجام تک پہنچائیں گے پی ایس ڈی پی ،قومی مالیاتی کمیشن اور بجلی خالص منافع میں اے جی این قاضی فارمولا کے تحت اپنے حقوق حاصل کرے گے انھوں نے کہا کہ صوبے میں مفاد کے لئے سب اکٹھیں ہو کر چلیں گے خطاب کے آخر مین انھوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا سپیکر نے اجلاس سے متعلق گورنر کا فرمان پڑھ کر اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا

لاہور ،کراچی ،کوئٹہ ، پشاور(جنرل رپورٹر، سٹاف رپورٹر ،نیوز ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما چودھری پرویزالٰہی نے پی ٹی آئی اور اپنی جماعت کے مشترکہ امیدوار کی حیثیت سے ن لیگ کے چودھری اقبال گجر کے 147 کے مقابلہ میں 201 ووٹ لے کر سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اپنے پہلے لیکن مدبرانہ خطاب میں کہا کہ میں سب سے پہلے اللہ رب العزت کا جو سب تعریفوں کا لائق ہے بے پناہ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس کی رحمت اور فضل و کرم سے میں آج پنجاب کے اس معزز اور منتخب ایوان کا سپیکر منتخب ہوا ہوں، اس کے بعد میں اپنی اتحادی پارٹی کے سربراہ جناب عمران خان، پی ٹی آئی، اپنی پارٹی اور اظہار اعتماد کرنے والے تمام ارکان کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، سابق نائب وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر بلدیات نے 19 سال بعد دوبارہ سپیکر منتخب ہونے والے چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ جس منصب کیلئے مجھ پر اعتماد کیا گیا ہے میں کوشش کروں گا کہ اس کے تقاضوں کو پورا کر سکوں اور اس ایوان میں بیٹھے تمام معزز ارکان کے ساتھ برابری کا سلوک کر سکوں، یہ میرا ایمان ہے کہ جو منصب مجھے عطا کیا گیا ہے یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے اس لیے میں اس کرسی پر بیٹھے محسوس کرتا ہوں کہ میں ایوان میں موجود تمام ارکان اسمبلی کو جواب دہ ہوں، میں اپنے کردار سے ثابت کروں گا کہ میں پورے ہاؤس کا کسٹوڈین ہوں اور تمام معزز ارکان پنجاب اسمبلی کے استحقاق کا خیال رکھنا میری اولین ترجیح ہو گی، ہم نے مل جل کر افہام و تفہیم، تدبر اور دور اندیشی کے ساتھ ایوان کو چلانا ہے، اس ملک اور صوبے کی عوام کی خوشحالی کیلئے عظیم تر جدوجہد کرنی ہے تاکہ کسی بھی طبقے میں محرومی نہ رہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف اپنے منشور پر بھرپور عمل کرتے ہوئے ملک اور صوبے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرے گی اور ہر پاکستانی شہری اس ترقی کے ثمرات سے مستفید ہوتے ہوئے خوشحالی زندگی گزار سکے گا۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ یہ ایوان پنجاب کا سب سے معزز اور با اختیار ادارہ ہے، یہاں پر کی گئی ایک ایک بات پر عوام کی نظر ہے اس لیے مجھے امید ہے کہ ہم اچھے پارلیمنٹرین کی طرح اسمبلی کی کارروائی احسن طریقے سے چلائیں گے اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے ہونے والی قانون سازی میں بھرپور حصہ لیں گے کیونکہ اچھے پارلیمنٹرین ہی ملک اور قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام معزز ارکان کو یقین دلاتا ہوں کہ رولز آف پروسیجر کے دائرے میں رہتے ہوئے میرا مکمل تعاون آپ کے ساتھ ہو گا اور اس ایوان کو چلانے کیلئے مجھے آپ کے تعاون، مشوروں اور رہنمائی کی بھی ضرورت ہو گی، میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے نیک مشوروں سے مجھے مستفید فرمائیں گے، میری پہلی ترجیح ہو گی کہ اس ایوان کے تقدس اور وقار کو بحال رکھا جائے اور میں ایوان کے تمام ارکان کے وقار اورعزت میں اضافہ دیکھنا چاہتا ہوں، مجھے اپنے رب العزت سے قوی امید ہے کہ اپنے اپنے منصب سے بہتر طریقے سے سرخرو ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہماری تمام تر توجہ قوم کے بنیادی مسائل کی طرف ہو گی جس میں ان کے جان و مال کے تحفظ، کرپشن کے خاتمے اور انصاف کے حصول کیلئے موثر اور جامع کردار ادا کریں گے اور اس حوالے سے قانون سازی کے عمل کو بھی تیز کریں گے اور ہم جمہوری روایات میں اہم کردار ادا کریں گے، انشاء اللہ ہمارا یہ ایوان پاکستان کی سالمیت، نظریہ پاکستان کے تحفظ اور پاکستان کے وقار میں اضافے اور احترام کا باعث بنے گا۔ میں آخر میں ایوان میں موجود سب ارکان کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا، انشاء اللہ میں اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوئی کمی نہیں کروں گا اور مل جل کر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں گے۔ دوسری طرفپیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ سندھ اور تحریک انصاف کے محمود خان نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب ہوگئے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیرصدارت اجلاس کے دوران نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ کے عہدے کے لیے سید مراد علی شاہ پیپلز پارٹی جب کہ متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار شہریار مہر کے درمیان مقابلہ تھا۔وزیراعلیٰ کے چناو کے لیے اسپیکر کی جانب سے مراد علی شاہ کے حامیوں کو اسمبلی ہال کے دائیں جانب اور شہریار مہر کے حامیوں کو بائیں جانب جمع ہونے کی ہدایت کی گئی۔ بعدازاں اراکین کی گنتی کے بعد اسپیکر آغا سراج درانی نے مراد علی شاہ کی کامیابی کا اعلان کیا جنہوں نے 97 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل شہریار مہر نے 61 ووٹ حاصل کیے۔یاد رہے کہ مراد علی شاہ پیپلز پارٹی کی صوبے میں گزشتہ دور حکومت کے دوران بھی وزیراعلیٰ کے عہدے پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ قائد اعظم کے بعد ملک بدقسمتی سے غلط سمت میں چلا گیا، چھوٹے صوبوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا، جب ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت ملی تو ہم اپنا آدھا ملک کھوچکے تھے، اس وقت بھی ملک بہت کٹھن حالات سے گزر رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ لوگ بہت تبدیلی کی بات کرتے ہیں لیکن تاریخ بھول جاتے ہیں، نومنتخب وزیراعلیٰ کا کہنا تھاکہ سندھ کے عوام نے ہر بار پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا، جب ہم نے حکومت نہیں بنائی تب بھی سب سے زیادہ ووٹ پیپلزپارٹی کو ہی ملے، اس بار پیپلزپارٹی کے ووٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ دریں اثنامیرعبدالقدوس بزنجونے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے 15ویں سپیکر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا ۔سبکدوش ہونے والی سپیکر متحرمہ راحیلہ حمید خان درانی سے ان سے حلف لیا جمعرات کے روز بلوچستان صوبائی اسمبلی کی سبکدوش ہونے والی سپیکر محترمہ راحیلہ حمید خان درانی جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے نئے سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ یہ بلوچستان اسمبلی کے 15ویں سپیکر منتخب ہوئے تھے۔ نئے سپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کی ووٹنگ میں 59 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے جب کہ مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف جھالاوان نے ابھی تک بحیثیت صوبائی اسمبلی کے رکن کے حیثیت سے حلف نہیں اٹھایا ہے۔ بلوچستان صوبائی اسمبلی کے نئے سپیکرمیر عبدالقدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی (باپ)سے ہے۔ میر عبدالقدوس بزنجو کے مقابلے میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے محمد نواز نے کاغذات نامزدگی داخل کئے تھے ۔ میر عبدالقدوس بزنجو نے 39ووٹ لیکر سپیکر منتخب ہوئے جبکہ ان کے مد مقابل جمعیت علماء اسلام (ف) محمد نواز نے 20ووٹ حاصل کیے۔میر عبدالقدوس بزنجو 4جون 2013سے 22مئی 2015تک ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ وہ قائم مقام سپیکر قائم مقام گورنر بھی رہ چکے ہیں۔

سپیکر ، وزراء اعلیٰ منتخب

مزید :

کراچی صفحہ اول -