پاکستان افغانستان میں ہونیوالے دہشتگردی واقعات کی تحقیقات میں مدد دے : میاں افتخار

پاکستان افغانستان میں ہونیوالے دہشتگردی واقعات کی تحقیقات میں مدد دے : میاں ...

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ کابل میں ہونے والے انوکھے اور اندوہناک واقعے سے ایک دنیا سوچ میں پڑگئی ہے کہ آگے جاکر اس خطے میں دہشت گردی کی نئی لہر کیا شکل اختیار کرنے والی ہے۔ مذکورہ واقعہ میں اسکول کے طلباء وطالبات کو جس بے دردی سے شکار بنادیا گیا، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان سرکاری طور پر کابل اور غزنی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پربھی اپنی پوزیشن واضح کرکے قوم کو اعتماد میں لے اور ان واقعات کی پرزور مذمت کرینے کے ساتھ ساتھ ن واقعات کی تحقیقات میں افغان حکومت سے تعاون کرنے کیلئے اپنے ہاتھ بڑھائے تاکہ اس نازک وقت میں پاک افغان تعلقات کو خراب ہونے سے بچایا جاسکے اور بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششوں کی روک تھام ممکن ہو۔میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر سرحدپار ہلاک ہونے والوں کی تصاویر اور تعداد شئیر کی جارہی ہیں جنہیں پاکستان لاکر دفنایا جارہا ہے مگر پاکستان کی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اس بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور اس عمل کے نتیجے میں ریاست پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بری طرح مجروح ہورہی ہے اور مختلف قسم کے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یہ دہشت گرد کس طرح افغانستان گئے اور دہشت گردی کے واقعات میں کاونٹر اٹیک کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد انہیں کیسے پاکستان کی سرزمین پر واپس لانے دیا گیا؟ میاں افتخارحسین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاک افغان مفاہمت پروان چڑھے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ ان واقعات کی بابت پاکستان افغان حکومت کے ساتھ تحقیقات میں مکمل تعاون کرے کہ پاکستانی شہری کیونکر افغان سرزمین پر لڑنے گئیں اور ان کی لاشیں کس نے واپس آنے دیں؟ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا مقصد یہی تھا کہ خطے میں دہشت گردی کا قلع قمع کیا جاسکے مگر شائد مذکورہ پلان کی ترجیحات بدل گئیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں پختونوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے اور اس کی روک تھام کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آرہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ پختون اپن حالت پر خود رحم کریں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت پر غور کریں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول