تحصیل ثمرباغ اور تحصیل منڈا میں ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی

تحصیل ثمرباغ اور تحصیل منڈا میں ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی

  

جندول نمائندہ (نمائندہ پاکستان) تحصیل ثمرباغ اور تحصیل منڈا میں ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی ، مرد و خواتین سمیت کثیر تعداد میں بچے بھی متاثر ،ہسپتالوں میں داخل ، تفصیلات کے مطابق گذشتہ ہفتہ کے دوران مختلف سرکاری ہسپتالوں اور نجی مراکز صحت میں کثیر تعداد میں ہر عمر و جنس کے افراد میں ہیضہ کی تشخیص ہو گئی ہے ۔ضلع دیر کے دوسرے بڑے ہسپتال ثمرباغ کے ماہر ڈاکٹر دلاور خان کے مطابق ہسپتال ثمرباغ علاج کیلئے آنے والوں میں زیادہ تعداد ہیضہ کے مریضوں کا ہوتا ہے ۔دلاور خان کے مطابق ہیضہ کا علاج آسان اور ممکن ہے مگر جیسے ہی کسی کو پیٹ میں درد ،قے اور الٹیوں کی شکایت ہو تو فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں اس لئے کہ اس مرض کے دوران جسم سے کثیر مقدار میں و ٹامن اور نمکیات کا اخراج ہو جاتا ہے جس کا انسانی جسم پر بہت برا اثر پڑتا ہے ان کے مطابق بروقت علاج نہ ہونے سے مریض شدید کمزور ہو جاتا ہے اور بعض اوقات اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ وباء سے بچھنے کیلئے سب لوگ صفائی کا خاص خیال رکھے ۔دوسری جانب جندول کے دونوں تحصیلوں کے بڑے بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی بنیادوں پر علاج مہیاں کرنے کیلئے کوئی یونٹ موجود نہیں اور جہاں ایمرجنسی فعال ہے وہا ادویات دستیاب نہیں ہوتے ۔تحصیل ثمرباغ کے رہائشی عالمگیر خان کے مطابق کچھ روز پہلے ہیضہ کی وجہ سے نوشیروان (مرحوم) ولد حبیب الرحمان کا دو سالہ معصوم بیٹا چل بسا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -