14اگست ہمیں بھائی چاریاور یکجہتی کا سبق دیتا ہے،بیرسٹر شاہدہ جمیل

14اگست ہمیں بھائی چاریاور یکجہتی کا سبق دیتا ہے،بیرسٹر شاہدہ جمیل

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ہمدرد پبلک اسکول کراچی کے زیر اہتمام 14 ۔اگست یوم آزادی کے موقع پر بلاول اسٹیڈیم، مدینتہ الحکمہ میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر شاہدہ جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سے پہلے دنیائے عرب میں تاریکی کا دور تھا وہاں کے لوگ ذرا ذرا سی باتوں پر ایک دوسرے کو جان سے مار دیا کرتے تھے لیکن اسلام آنے کے بعد وہ لوگ ایک دوسرے کے لیے جان دینے والے بن گئے مطلب یہ کہ ہمارا دین اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے جو بھائی چارے و اخوت کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملک ہمیں بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔ آج کا دن یک جہتی اور بھائی چارے کا دن ہے، اس دن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم بلا امتیاز ایک دوسرے سے محبت کریں گے، احترام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے دوستی نہیں کریں گے تو دشمن اس کا فائدہ اٹھائے گاجس طرح ماضی میں دشمن فائدہ اٹھا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان بن رہا تھا تو اس وقت اسکولوں میں ایک دعا ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ پڑھائی جاتی تھی۔ اس دعا کا ایک مصرعہ یہ ہے کہ’’ زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری‘‘ یعنی اچھا انسان دوسروں کے کام آتا ہے وہ شمع کی مانند ہوتا ہے جو دوسروں کو راستہ دکھاتی ہے۔ انہوں نے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اس پرچم کو بلند رکھیں یہ بڑی عظمت والا ہے اسے گندہ نہیں ہونے دینا ہے، اسے تین دن تک لگائے رکھنا ہے اور اس کے بعد اسے بڑی عزت و احترام سے طے کر کے آئندہ سال کے لیے اٹھاکر دکھ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ترکی میں دیکھا کہ وہ تین دن تک اپنا پرچم لہراتے ہیں اس کے بعد عوام خود سے اسے اتار دیتے ہیں تاکہ اس کی بے حرمتی نہ ہو۔ اس موقع پر انہوں نے اسکول انتظامیہ کو تجویز دی کہ وہ اسکول میں میوزک ٹیچر کا انتظام کریں انہوں نے کہا کہ 50 ،60 ،70 کی دہائی تک میوزک کی ہماری پوری ایک نسل تھی جن کی وجہ سے 65 اور 71 کی جنگوں میں قومی ترانے بنے جو آج بھی مقبول ہیں۔ ان نغموں نے ہماری افواج اور قوم میں جوش و خروش اور ولولہ پیدا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خوبصورت آواز اچھی لگتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اذان کے لیے انتخاب اس لیے کیا تھا کہ ان کی آواز خوبصورت اور پرُکشش تھی۔ لوگ دور دور سے ان کی اذان سن کر چلے آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب مولانا بنوری آذان دیتے تھے تو لوگ گھروں سے آذان سننے کے لیے باہر نکل آتے تھے۔ تقریب کا آغاز حسب روایت کلام پاک کی تلاوت اور نعت خوانی سے ہوا۔ اس سے قبل مہمان خصوصی نے محترمہ سعدیہ راشد اور دیگر مہمانوں کے ہمراہ قومی پرچم لہرایا۔ تقریب سے اسکول کے طلبہ نے یوم آزادی کے حوالے سے تقاریر کیں اور رنگا رنگ کلچرل شو بھی پیش کیا۔ تقریب کے آخر میں اسکول کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر خالد نسیم نے کلمات تشکر اور بچوں نے دعائے سعید پیش کی جبکہ مہمان خصوصی نے بچو ں میں انعامات تقسیم کیے۔ تقریب میں دیگر مہمانوں کے علاوہ ہمدرد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن ، رجسٹرار ڈاکٹر ولی الدین، ہمدرد پبلک اسکول اور ہمدرد ولیج اسکول کے اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -