” عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے 2 نام شارٹ لسٹ کرلیے ہیں لیکن ابھی اعلان نہیں کررہے، وہ چاہ رہے ہیں کہ یہ شخص سامنے لایاجائے جسے۔۔۔“سینئر صحافی حامد میر نے بڑی خبر سنادی

” عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے 2 نام شارٹ لسٹ کرلیے ہیں لیکن ابھی اعلان ...
” عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے 2 نام شارٹ لسٹ کرلیے ہیں لیکن ابھی اعلان نہیں کررہے، وہ چاہ رہے ہیں کہ یہ شخص سامنے لایاجائے جسے۔۔۔“سینئر صحافی حامد میر نے بڑی خبر سنادی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے کہاہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے دو نام شارٹ لسٹ کر لیے ہیں اور ان پر ابھی تک مشاورت جاری ہے ۔

نجی ٹی وی 92 نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حامد میر کا کہناتھا کہ گورنر اور سپیکر پنجاب اسمبلی دونوں ہی چوہدری ہیں ، ایک کا تعلق گجرات اور دوسرے کا تعلق فیصل آباد سے ہے ، اگر وزیراعلیٰ بھی لاہور سے لاتے ہیں تو یہ کہا جائے گا کہ سارا کچھ ہی سینٹرل پنجاب کو دیدیا گیاہے اس لیے عمران خان جنوبی پنجاب سے چیف منسٹر لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔

یادرہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے جنوبی پنجاب سے سردار محمد خان لغاری کا نام گردش میں رہا۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےحامد میر کا کہناتھا کہ اگر ساوتھ پنجاب سے بھاری وزن والا بندہ نہیں آتا یا ایسا بندہ نہیں آتا جس کی پہچان اس کا خاندان نہ ہو بلکہ تحریک انصاف ہو تو ایسی صورت میں وزیراعلیٰ گورنر اور سپیکر کے درمیان سینڈویچ بن جائے گا اور دونوں میں سے کوئی ایک اسے کھا جائے گا ، اگر وہ اپنی حیثیت کو منوانے کی کوشش کرے گا تو سپیکر یا گورنر میں سے کسی ایک کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہوں گے ۔

گورنر بے اختیار نظر آتے ہیں لیکن چوہدری سرور کا تجربہ کافی ہے ، جب یہ پہلے گورنر تھے تو انہوں نے محدود اختیارات کے باوجود اپنی حیثیت کو منوایا ہے ، اس لیے جو نیا وزیراعلیٰ آرہاہے اسے ن لیگ کے ساتھ لڑنا ہے اور دوسری طرف انہیں سپیکر اور گورنر کو بھی راضی رکھناہے ۔

عمران خان کی کوشش ہے کہ ایسا وزیراعلیٰ لائیں جو کہ گورنر کے ساتھ مل کر صوبے کو چلائے جبکہ عمران خان پرویز الہیٰ سے توقع رکھتے ہیں ان کی کارکردگی اسمبلی کو اچھے طریقے سے چلانے تک محدود رہے لیکن اگر پرویز لہیٰ اسمبلی کے باہر سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں تو اس صورت میں وزیراعلیٰ کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ عمران خان کو مرکز میں اتنی مشکلات کا سامنا نہیں ہو گا جتنا انہیں پنجاب میں ہو گا ، عمران خان کو پنجاب میں ن لیگ سے نہیں بلکہ اپنو ںسے ہی خدشہ ہو گا ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -