صدر ٹرمپ اور امریکی فوج آمنے سامنے، ایبٹ آباد آپریشن کے سربراہ نے ایسا کام کردیا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

صدر ٹرمپ اور امریکی فوج آمنے سامنے، ایبٹ آباد آپریشن کے سربراہ نے ایسا کام ...
صدر ٹرمپ اور امریکی فوج آمنے سامنے، ایبٹ آباد آپریشن کے سربراہ نے ایسا کام کردیا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن کی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی تھی جس پر ایبٹ آباد آپریشن کی کمانڈ کرنے والے ریٹائرڈ امریکی نیوی ایڈمرل ویلیم مک روین سامنے آ گئے ہیں اور صدر ٹرمپ پر انتہائی خوفناک الزام عائد کر دیا ہے۔

ریٹائرڈ ایڈمرل ویلیم مک روین نے ایک کھلا خط لکھا ہے جو واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوا۔ اس خط میں ویلیم مک روین نے لکھا ہے کہ ”صدر ٹرمپ سینیٹر جوزف ریمنڈ مک کارتھی والی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں اور لوگوں کی عزتوں سے کھلواڑ کر کے اور انہیں غدار قرار دے کر اپنے مقاصد نکال رہے ہیں۔“ سینیٹر جوزف 1947ءسے 1957ءمیں اپنی موت تک امریکہ کے سینیٹر رہے جو مخالفین کو بلاجواز الزامات اور کردارکشی کے ذریعے نکیل ڈالنے کے لیے شہرت رکھتے تھے۔وہ اپنے مخالفین پر غداری جیسے سنگین الزامات لگانے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ اب ان کی یہ حکمت عملی امریکہ میں ’مک کارتھزم‘ (McCarthyism)کے نام سے شہرت رکھتی ہے۔

ویلیم مک روین نے کھلے خط میں مزید لکھا ہے کہ ”اگر صدر ٹرمپ نے جان برینن کی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کی ہے تو میری بھی کر دیں۔ میں نے اپنی زندگی میں جان برینن جیسا عمدہ پبلک سرونٹ نہیں دیکھا۔ اس ملک کی حفاظت کے لیے جان برینن نے جتنا کام کیا، بہت کم امریکیوں نے کیا ہو گا۔ وہ بے مثال اخلاقی اصولوں کے مالک شخص ہیں جن کی ایمانداری اور کردار پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان پر صرف وہی لوگ انگلی اٹھا سکتے ہیں جو انہیں جانتے نہیں۔“ صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے ویلیم مک روین نے لکھا کہ ”آپ میری بھی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دیں تو اسے میں اپنے لیے اعزاز سمجھوں گا کیونکہ اس سے میرا نام ان مردوخواتین کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے تمہاری صدارت کے خلاف آواز اٹھائی۔“

مزید : بین الاقوامی