چوھری پرویز الہی کیا  کریں گے  ؟ 

چوھری پرویز الہی کیا  کریں گے  ؟ 
چوھری پرویز الہی کیا  کریں گے  ؟ 

  

 چودھری پر ویز الہیٰ پنجاب کے سپیکر بن چکے ہیں  اور مسلم لیگ (ن) کے کافی ارکان نے درپردہ ،خفیہ ووٹنگ میں انہیں ووٹ دے کر اپنی جماعت کو مشکلات میں ڈال دیا ہے ۔ چودھری پرویز الہیٰ  اپنی صفیں درست کر رہے ہیں ، ان کا دستر خوان پہلے ہی وسیع ہے،وضعداری اور محبت ان کا خاصہ ہے جبکہ شہباز کی انگلی کے ڈسے مسلم لیگ (ن)کے ارکان پنجاب اسمبلی اپنا موڈ بنانے میں کچھ وقت لیں گے  ۔  مسلم لیگ (ن) پہلے ہی   اس وقت  اپنی تاریخ کی بد ترین صورتحال سے دوچار ہے،چھوٹے چھوٹے مسائل اپنی جگہ  مگر مرکزی قیادت کا مسائل اور ان کے حل کیلئے آپس میں تال میل نہ ہونا بہت سنگین مسئلہ ہے۔ مسلم لیگ کے دونوں بڑوں  اور بھائیوں  میاں نواز شریف اور میاں  شہباز شریف میں اس وقت  اعتماد کی کمی ہے،دونوں کا بیانیہ  بھی آپس میں نہیں ملتا،جس کی وجہ سے پارٹی میں انتشار کی کیفیت بہت نمایاں دیکھی جا  رہی ہے۔دلچسپ بات یہ کہ دونوں بھائیوں کی پارٹی ہی میں گروپ بندی ہے جس کی وجہ سے دونو ںبھائی ارکان اور پارٹی رہنمائوںپر خال خال اعتماد کرتے ہیں،پارٹی اجلاسوں میں نواز شریف کے حامی شہباز شریف اور ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں جبکہ  شہباز  نقطہ نظر کے حامی  اپنا  موقف  بتاتے  نظر آ رہے ہیں  ۔

میاں  شہباز شریف اپنے خلاف نیب میں زیر سماعت کیسوں کے حوالے سے بھی پریشانی کا شکار ہیں،ان کے وکلاء انہیں متنبہ کر چکے ہیںکہ پنجاب کی 56کمپنیوں کے کیس میں انہیں ،حمزہ شہباز،داماد علی عمران کو سزا ہو سکتی ہے،جس بناء پر  ان کی خواہش ہے کہ وہ قومی اور بیٹا پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہوں تا کہ ان کے خلاف اگر کوئی فیصلہ آئے تو اسمبلی میں اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائی کا شور مچا کر بچنے کی کوشش کی جائے۔  مگر اس بار عوا می حمائت کا ملنا مشکل نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے،لیگی کارکنوں کی اکثریت نواز شریف کو اپنا لیڈر مانتی ہے،یہی وجہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ارکان کی حلف برداری اور پھر سپیکر ،ڈپٹی سپیکر کے الیکشن کی  تقریب میں ارکان اسمبلی نے ایوان میں احتجاج کیا، مگر قومی اسمبلی میں ایسا احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا،جہاں قیادت شہباز شریف کے ہاتھ میں تھی وہاں احتجاج ہوا  بھی توڈھیلا ڈھالا،بد دلی کیساتھ،کارکنوں نے بھی ایسے احتجاج میں دلچسپی نہیں لی جس کی قیاد ت  شہباز کے ہاتھ میں تھی،نواز شریف کی گرفتاری کے وقت بھی کارکن باہر نہ نکلے،شہباز شریف رہنمائوں کارکنوں کے اصرار کے

 باوجود ائرپورٹ نہیں گئے،نواز شریف کی عدالت پیشی، ہسپتال میں طبی معائنے کے وقت بھی احتجاج نہ ہواء جس پر نواز شریف بھائی سے نالاں بھی ہیں،ان حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری پر بھی احتجاج   نہیں ہو گا۔

میاں  شہباز شریف کی پالیسی کے نتیجے میں مولانا فضل الر حمٰن کی کوشش کے نتیجے میں بننے والا ’’ملا پیپلز لیگ‘‘ اتحاد قومی اسمبلی کے سپیکر کے انتخاب کے وقت کہیں دکھائی نہیں دیااگر چہ ن لیگ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار خورشید شاہ کو ووٹ دیا مگر پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں ن لیگ کے احتجاج میں شامل نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ اپوزیشن کی طرف سے  شہباز کو وزیر اعظم کا متفقہ امیدوار مانے ہیں،  جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کا بیانیہ نواز ،شہباز سےہی  مختلف ہے اور ان کے پاس سندھ کی حکمرانی بھی ہے جس کے لئے انہیں وفاق سے

 بنا کر رکھنی پڑے گی۔ اگر چہ حالیہ الیکشن میں پیپلز پارٹی نے   گزشتہ الیکشن سے زیادہ وو ٹ حاصل کئے،مگرسندھ کے علاوہ دیگر تین صوبوں میںپارٹی کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی،گو پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کوبلاول سے بہت امید یں وابستہ تھیں  اور ہیں  ۔بلاول نے پہلی مرتبہ انتخا بی مہم  چلائی اور اپنی تقریروں سے کارکنوں میں امید کی جوت بھی جگائی،اس مہم میں بلاول کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے آصف زرداری نے ان کو مزید  ذمہ داریاںدینے کا فیصلہ کیا ہے اور سیاست میں بلاول کے سافٹ امیج    کو ابھارنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ پیپلز پارٹی کو دوبارہ اپنی جڑیں مضبوط بنانے کیلئے ن لیگ میں افراتفری بھی مدد دیگی،نواز شریف اور شہباز شریف کے بیانیہ میںنمایاں فرق بھی پیپلز پارٹی کے قدم مضبوط کرنے میں معاون ہو گا۔ نواز شریف اب بھی ریاستی اداروںسے ٹکرائو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں جبکہ شہباز شریف اداروں سے ہم آہنگی کے خواہش مند ہیں،پیپلز پارٹی بھی اداروں سے محاذ آرائی کے بجائے ساتھ چلنے کی ڈگر اپنائے ہوئے ہے،شہباز شریف کے سر پر گرفتاری کے خطرہ کی لٹکتی تلوار ایک طرف   پیپلز پارٹی کیلئے سود مند ہو گی تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن)کے  اندر فارورڈ بلاک  بننے کے عمل کو بھی تقویت دے گی۔اور اب چودھری پرویز الہیٰ اس صورتحال میں ٹھیک ٹھیک نشانے لگائیں گے۔آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

 ۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید :

بلاگ -