عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر49

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر49
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر49

  

عثمانی سلطنت کا بانی عثمان خان، سلجوقی عہد میں انگورہ کے ایک جاگیردار ’’ارطغرل‘‘ کے گھر پیدا ہوا۔ یہ سلطان علاؤالدین کا زمانہ تھا ۔’’ارطغرل ‘‘ کی بہادری اور معاملہ فہمی کو دیکھ کر ’’سلطان علاؤالدین سلجوقی ‘‘ نے اسے بازنطینی سرحدات کی جاگیریں سونپ دیں۔ سلجوقی سلطان علاؤالدین ، ارطغرل خان کا ممنونِ احسان بھی تھا ۔

دراصل سلطان محمد خان کا قبیلہ اولین انہیں مہاجر قبائل میں سے تھا جو ’’چنگیز خان‘‘ کے حملو ں کے بعد اپنا وطن چھوڑ کر مارے مارے پھر رہے تھے۔ یہ قبیلہ ’’ترکانِ اوغوز‘‘ کے قبیلہ کا ایک جزو تھا ۔ جو عثمان خان کے دادا ارطغرل خان کے باپ ’’سلیمان شاہ ‘‘ کی سرکردگی میں اپنے وطن خراسان(افغانستان) کو چھوڑ کر مختلف ملکوں میں گھومتا ہوا شام کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں دریائے فرات کو عبور کرتے ہوئے سلطان محمد خان کا خراسانی جدامجد ’’سلیمان شاہ‘‘ ڈوب کر ہلاک ہوگیا ۔ قبیلے کا بیشتر حصہ اسی وقت منتشر ہوگیا ۔ لیکن جو لوگ رہ گئے ۔ وہ ارطغرل خان اور اس کے بھائی ’’دوندار خان‘‘ کے ساتھ ایشیائے کوچک کی طرف روانہ ہوئے۔ اور سلطان علاؤالدین سلجوقی کی سلطنت میں داخل ہوگئے ۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر48پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چنگیز خان نے خوارزم شاہ کو برباد کردیا تھا ۔ اور اس کی تمام سلطنت ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے بیٹوں میں بانٹ دی تھی۔خراسان کا یہ افغانی قبیلہ جب لٹا پھٹا سلیمان شاہ کے ڈوبنے کے بعد ارطغرال خان کی قیادت میں چلتا ہوا، سلطان علاؤ الدین سلجوقی کی سلطنت میں داخل ہوا تو یہ جماعت صرف چار سو بیس گھرانوں پر مشتمل تھی۔ (ٹرکش ایمپائر ازلارڈ ایورسلے)چار سو بیس گھرانوں پر مشتمل یہ جماعت سلطان علاؤالدین کے زیرِ سایہ پناہ لینے کے لیے پایہ ء تخت قونیا کی طرف بڑھی چلی جارہی تھی کہ راستے میں انگورہ کے قریب ارطغرل خان کو دو فوجیں مصروفِ جنگ نظرآئیں ۔ وہ کسی فریق سے واقف نہ تھا ۔ لیکن یہ دیکھ کر کہ ان میں ایک تعداد کے لحاظ سے کمزور اور دوسری قوی ہے ، اپنے سواروں کے مختصر دستہ کے ساتھ جن کی مجموعی تعداد صرف 444تھی، کمزور فریق کی حمایت کے لیے بڑھا۔ اور ایسی جانبازی سے حملہ آور ہوا کہ دشمن کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ فتح حاصل کرنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ جس فریق کی اس نے یوں بروقت مدد کی تھی وہ سلطان ’’علاؤ الدین سلجوقی‘‘ کی فوج تھی۔ جو ایشیائے کوچک کا بادشاہ تھا ۔ اور دوسری فوج تاتاریوں کی تھی۔

ارطغرل کے اس کارنامہ کے صلہ میں سلطان علاؤالدین نے اسے ’’سفوت‘‘.......کا زرخیز علاقہ جو ’’دریائے سقاریہ‘‘ کے بائیں جانب بازنطینی ’’قسطنطینوی‘‘ سرحد کے قریب واقع تھا ، جاگیر میں عطا کر دیا ۔ اور سفوت کا شہر بھی اسے دے دیا ۔ اس علاقہ میں ارطغرل اور اس کے ساتھیوں نے جو خراسان اور آرمنییا سے آئے تھے ، بودوباش اختیار کی.......علاؤ الدین نے ارطغرل کو اس علاقے میں سپاہ رکھنے کی اجازت بھی دی۔ اور بازنطینی قلعہ داروں کو وقتاً فوقتاً سبق سکھانے کی ہدایت بھی کی۔ بازنطینی سلطنت کا دارا الحکومت قسطنطنیہ تھا ۔ علاؤ الدین سلجوقی نے جس خراسانی نوجوان ارطغرل کو بازنطینیوں کی چھیڑ چھاڑ کا جواب دینے کی ہدایت کی تھی ۔ ٹھیک ڈیڑھ سو سال بعد اسی شخص کی اولاد میں سلطان محمد فاتح پیدا ہوا۔ جس نے بازنطینی دارا السلطنت قسطنطنیہ بالآخر فتح کرکے دنیائے عیسائیت کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔

ارطغرل خان کا انتقال 1288عیسوی میں نوے سال کی عمر میں ہوا ۔ وہ عمر بھر سلطان علاؤ الدین سلجوقی کا منظورِ نظر رہا ۔ حتیٰ کہ ایک وقت وہ آیا جب ارطغرل نے علاؤ الدین کے نائب کی حیثیت سے تاتاریوں اور بازنطینیوں کی ایک متحدہ فوج کو شکست دی۔ چنانچہ سلطان علاؤ الدین نے ’’بنی شہر ‘‘ اور بروصہ شہر ‘‘ بھی ارطغرل کو دے دیے۔ اس نے ارطغرل کی جاگیر کا نام ’’سلطانونی‘‘ رکھا۔ اور اسے اپنے مقدمۃ الجیش ، سپہ سالار مقرر کردیا ۔

ہلال ، سلطان علا ؤ الدین کے علم کا نشان تھا ..........ارطغرل کی وفات پر اس کا بڑا لڑکا عثمان خان اس کا جانشین ہوا۔ یہ دولتِ عثمانیہ کا بانی اور سلطنتِ عثمانیہ کا پہلا تاجدار تھا ۔ ، اس کے باپ نے اپنی زندگی میں سلجوقی سلطان کے ساتھ ہمیشہ وفاداری قائم رکھی تھی۔ عثمان نے بھی یہی روشن اختیار کی ۔ لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب دولتِ سلجوقیہ دم توڑ رہی تھی۔اور ایشیائے کوچک میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔ عثمان صرف بازنطینی دشمنوں کے خلاف برسر پیکار رہا ۔ باالفاظ دیگر عثمان کی توجہ عیسائیوں کے خلاف مبذول رہی ۔ اسی زمانہ میں شہنشاہِ قسطنطنیہ کوہِ اولپمس کے دروں کی حفاظت نہ کرسکا۔ اور عثمان کی فوج’’بتھینیا‘‘ کے میدانوں میں داخل ہوگئی۔ بازنطینی سلطنت جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں میں شمار کی جاتی تھی۔ عثمان کے دور میں روبہ زوال تھی۔ فرقہ وارانہ جنگوں اور حکومتی بدنظمیوں نے عثمان کو موقع دیا کہ وہ بازنطینی سلطنت کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلے۔ ایک زمانہ تھا جب قسطنطین کی حکومت ایشیائے کوچک تک پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن اب ایشیائے کوچک میں قسطنطین کے پاس صرف ’’نائیسیا‘‘ ، ’’نائیکو میڈیا‘‘ اور ان کے نواحی اضلاع باقی رہ گئے تھے۔ عثمان کے لیے بازنطینی علاقوں کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ اسلامی تبلیغ تھی۔

بہر حال عثمان نے مسلم افواج کے لیے یورپ کے دروازے کھول دیے اور درِ دانیال کو عبور کرنا عثمان کی اولاد کے لیے کھیل بن گیا۔عثمان نے سلجوقی سلطان کی اطاعت میں رہ کر بڑے بڑے معرکے سر کئے ۔ جن میں ’’قراجہ حصار‘‘ کا معرکہ بہت مشہور ہے۔ اس قلعہ کو فتح کرکے مسلمانوں نے یورپیوں کو خبردار کردیا کہ اب ان کا عہدِ حکومت رخصت ہونے کو ہے۔ سلطان علاؤ الدین سلجوقی نے اپنے بہادر سپہ سالار عثمان کو ’’نیزبیگ‘‘ کے خطاب سے سرفراز کرکے اسے اپنا سکہ جاری کرنے اور اپنا نام جمعہ کے خطبہ میں شامل کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ اس طرح صرف لقب کے علاوہ بادشاہی کے تمام امتیازات عثمان کو حاصل ہوگئے۔ اور پھر یہ کمی بھی چند سالوں میں ہی پوری ہوگئی جب 1300عیسوی میں سلطان علاؤالدین سلجوقی اور اس کے بیٹے سلطان غیاث الدین سلجوقی کی یکے بعد دیگرے وفات کے بعد عثمان کو ایک آزاد اور خود مختار تاجدار تسلیم کرلیا گیا ۔

سلجوقی خاندان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد آلِ عثمان کی حکومت کا آغاز ہوا۔ لیکن بعض سلجوقی امراء جن میں ’’امیرِ کرمانیا‘‘ خاص طور پر شامل ہے، عثمان کو حسد اور رقابت سے دیکھتے تھے۔ چنانچہ کچھ ہی عرصہ بعد امیر کرمانیا کے ساتھ عثمان کی زندگی میں ہی جنگ کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیاجو اس کے متعدد جانشینوں کے عہد تک جاری رہا۔عثمان نے خالص اسلامی حکومت کو رواج دیا ۔ اس نے 1301عیسوی میں ’’نائیکومیڈیا‘‘ سے متصل ’’قیون حصار ‘‘ کے مقام پر پہلی بار شہنشاہِ قسطنطنیہ کی باقاعدہ افواج سے مقابلہ کیا ۔ جس میں اسے شاندار کامیابی حاصل ہوئی ۔ اور چھ سال کے اندر اس کی فتو حات کا دائرہ ’’بحرہِ اسود‘‘ کے ساحل تک پہنچ گیا ۔ وہ اپنی زندگی میں بیک وقت تین محاذوں پر فتوحات حاصل کرتا رہا ۔ ایک ........باغی سلجوقی امراء کے خلاف دوسرے........تاتاریوں کے خلاف اور تیسرے.......بازنطینی افواج یعنی شہنشاہِ قسطنطنیہ کے خلاف ۔ 1317عیسوی میں عثمان نے ’’بروصہ‘‘ کا محاصرہ کیا ۔ یہ شہر قیصر قسطنطنیہ کا ایشیائے کوچک میں اہم مرکز تھا ۔ یہ دنیا کا ایک طویل ترین محاصرہ تھا ۔ جو دس سال تک جاری رہا ۔بالآخر 1326عیسوی میں محصورین نے ہتھیار ڈال دیے۔ عثمان خان کا بیٹا’’ اورخان‘‘ فاتح کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوا ۔ عثمان اس وقت ’’سفوت‘‘ میں بسترِ مرگ پر تھا ۔ لیکن وفات سے قبل ’’اورخان‘‘ اپنے باپ کے پاس فتح کی خوشخبری لے کر پہنچا ۔ چنانچہ عثمان نے اسے اپنا جانشین مقرر کردیا ۔ اور حکم دیا کہ اسے ’’بروصہ‘‘ میں دفن کیا جائے۔ اور اس شہر کو عثمانی مملکت کا پایہء تخت بنایا جائے۔ چنانچہ اس وصیت کے مطابق اسے ’’بروصہ‘‘ میں دفن کیاگیا۔

عثمان دولتِ عثمانیہ کاپہلا تاجدار تھا ۔ اس نے اپنے لیے سلطان کا لفظ استعمال نہ کیا ۔ اس کے بیٹے ’’اورخان ‘‘ اور پوتے ’’مراد اول‘‘ نے بھی صرف ’’امیر‘‘ کا لفظ ہی اختیار کیے رکھا ۔ سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان کی شادی بھی دلچسپ انداز میں ہوئی شہر کے قریب ’’ابترونی‘‘ نام کی ایک بستی میں ایک خدارسیدہ عالم اور درویش ’’ادہ بالی‘‘ رہا کرتے تھے۔ عثمان اپنی نوعمری کے زمانے میں اکثر حاضر ہوتا رہتا تھا ۔ ان کی ایک نہایت حسین لڑکی تھی جس کا نام ’’مال خاتون‘‘ تھا ۔ ایک روز اتفاق سے عثمان کی نظر اس دوشیزہ پر پڑگئی ۔ اور وہ دیکھتے ہی اس پر فریفتہ ہوگیا ۔ اس نے نکاح کا پیغام دیا ۔ لیکن ادہ بالی نے ایک درویش اور ایک امیر سلطنت کا فرق جانتے ہوئے انکار کردیا ۔ دوسال تک عشق و محبت کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اور عثمان نے ادہ بالی کے گھر میں آمد ورفت جاری رکھی۔ اس عرصہ میں چند اور ترک سرادروں نے بھی جو طاقت ور شہرت میں عثمان سے بڑھے ہوئے تھے ۔ مال خاتون سے شادی کی خواہش کی ۔ لیکن ادہ بالی نے ان کو بھی صاف جواب دیا ۔ بالآخر ایک رات جب عثمان ادہ بالی کے گھر مقیم تھا اس نے یہ عجیب و غریب خواب دیکھا کہ ایک چاند ہلال بن کر ادہ بالی کے سینے سے نکلااور رفتہ رفتہ بدرِ کامل بن کر اس کے عینی عثمان کے سینے میں اتر آیا۔ پھر اس کے پہلو سے ایک زبردست درخت نمودار ہوا جو بڑھتاہی چلا گیا ۔ یہاں تک کہ اس کی شاخیں بحر و بر پر چھاگئیں۔ درخت کی جڑ سے دنیا کے چار بڑے دریا ’’دجلہ ، فرات نیل اور ڈینوب بہہ رہے تھے۔ اور بڑے پہاڑ ’’کوہِ قاف ، کوہِ بلقان ، کوہِ طور اور کوہِ اٹلس‘‘ اس شاخوں کو سنبھالے ہوئے تھے ۔ دفعتاً ایک تیز ہوا چلی اور اس درخت کی پتیوں کارخ جو شکل میں تلوار سے مشابہہ تھیں۔ ایک عظیم الشان شہر کی طرف ہوگیا ۔ یہ شہر دو سمندروں اور دو براعظموں کے اتصال پر واقع تھا ۔ اور مثل ایک انگوٹھی کے دکھائی دیتا تھا ۔ جس میں دوفیلم اور زمرد جڑے ہوئے تھے ۔ عثمان اس انگوٹھی کو پہننا ہی چاہتا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی ۔ بیدار ہونے کے بعد اس نے یہ خواب ادہ بالی سے بیان کیا ۔ ادہ بالی نے اس میں عثمان کے شاندار مستقبل کی تعبیر دیکھی اور اسے ایک غیبی اشارہ سمجھ کر ’’مال خاتون ‘‘کو اس کے نکاح میں دے دیا۔ (دولتِ عثمانیہ).......

عثمان کا یہی خواب جو آج سے دیڑھ سو برس قبل اس نے دیکھا تھا ۔ اب سلطان محمد خان کے ہاتھوں پورا ہونے والاتھا ۔ دو سمندروں اور دو براعظموں کے اتصال پر واقع شہر قسطنطنیہ ہی تھا ۔ سلطان محمد خان کے آباؤ اجداد میں عثمان کا بیٹا ’’اورخان‘‘ بھی ایک فاتح اور بہادر بادشاہ تھا ۔ یہ عثمانی سلطنت کا دوسرا تاجدار تھا ۔ اور عثمان خان کا چھوٹا بیٹا تھا۔اس کا بڑا بھائی علاؤالدین ، علومِ دینیہ اور فلسفہ و تصوف کا دلدادہ ، کل وقتی اور بیرکوں (کینٹ) میں رہنے والی فوج ........’’ینی چری‘‘ کا آغاز اسی شخص کے مشورے پر کیا گیا ۔ اس تجویز میں ’’قراخلیل‘‘ کا بھی حصہ تھا ۔ اس سے پہلے پہلے تک دنیا میں فوجیں منظم بھی ہوتی تھیں اور باوردی بھی۔ لیکن صرف جنگ کے دنوں میں ۔ یونانی اور رومی سلطنتوں میں بھی یہی رواج تھا ۔ ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ‘‘ نے فوجیوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ اور چھٹیوں کا رواج قائم کیا۔ لیکن کینٹ کا تصور اس وقت بھی نہ تھا ۔ چنانچہ یہ ’’اورخان‘‘ ہی تھا ۔ جس نے اپنے بھائی علاؤالدین اور رشتہ دار ’’قرأ خلیل‘‘ کے مشورے سے ان عیسائی نوجوان قیدیوں کو جو مختلف جنگوں میں اس کے ہاتھ لگتے تھے، تربیت دے کر ایک باقاعدہ فوج بنائی جس کا نام ’’ینی چری‘‘ رکھا گیا ۔

(جاری ہے... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح