عمران خان کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد،ایک کروڑ نوکریاں اور 5 لاکھ گھروں کا وعدہ بھولنے نہیں دیں گے:بلاول بھٹوزرداری

عمران خان کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد،ایک کروڑ نوکریاں اور 5 لاکھ ...
عمران خان کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد،ایک کروڑ نوکریاں اور 5 لاکھ گھروں کا وعدہ بھولنے نہیں دیں گے:بلاول بھٹوزرداری

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان  پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےعمران خان کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیکھ رہے ہیں کہ نو منتخب وزیراعظم اپنے 100دن کے پروگرا م پر کیسے عمل کریں گے؟الیکشن میں دھاندلی کے باوجود ہم نے دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ کیا اور جمہوریت کا سلسلہ جاری رہا، سب اپوزیشن جماعتوں کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ جمہوری نظام کا حصہ بنیں،قومی اسمبلی عوام کی امنگوں کا گہوارہ ہے،پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہ اس کارکن بننے پرخوشی ہے،تمام جماعتوں کیساتھ مل کر ایوان کاوقار بلند کریں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد پہلی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دوبڑی جماعتوں نے آج جوحرکت کی ہے،عوام اس تماشے کوپسند نہیں کرتی،جوتماشا دوبڑی جماعتوں نے کیا اس نے قوم کومایوس کیا،احتجاج کسی بھی جماعت کا حق ہوتا ہے لیکن آج پہلی دفعہ سرکاری بنچوں سے بھی احتجاج ہوا ہے جو کہ صحیح فعل نہیں تھا، امید ہے سپیکر تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر ہاؤس کو چلائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں پہلے شہید ہارون بلور ، شہید سراج رئیسانی ، شہید اکرام اللہ گنڈاپور اور مستونگ میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، الیکشن کے دوران دہشتگردحملوں کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، ہماری معیشت صرف چند کے لیے بہتر اور باقیوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی،عمران خان نے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس  نہیں جائیں گے لیکن ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ وہ اس کا کیا متبادل فراہم کرتے ہیں؟ میں نو منتخب وزیراعظم کو یاد دلانا چاہوں گا کہ وہ کسی مخصوص جماعت کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں، وہ ان کے بھی وزیراعظم ہیں جن کو وہ زندہ لاشیں اور گدھے کہتے تھے، اگر نو منتخب وزیراعظم نے عدم برداشت کو فروغ دیا تو ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے اور اس کی مخالفت کریں گے لیکن اگر نو منتخب وزیراعظم نے عوامی مفادات کو اپنا مقصد بنایا تو ہم ان کا ساتھ دیں گے،مجھے امید ہے کہ عمران خان صاحب ماضی کی نفرت انگیز اور انتہاپسند سیاست سے گریز کریں گےاور اس نفرت انگیز سیاست کو دفن کرکے آگے چلیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ ایوان سپریم ہے اور تمام اداروں کی ماں ہے ، امید ہے سپیکرتمام جماعتوں کے ساتھ مل کرہاؤس کوچلائیں گے،ہم نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا،انتخابات کے نتائج دینے میں بھی تاخیرکی گئی جبکہ انتخابات سے قبل اوربعد میں دھاندلی کی گئی، انتخابات میں بے ضابطگیوں کی فہرست طویل ہے،ملک بھرمیں پولنگ سٹیشنزسے پولنگ ایجنٹس کوباہرنکالا گیا،تحفظات کے باوجود پیپلزپارٹی نے جمہوری عمل کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کرپشن کا خاتمہ،پانی کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا ہے،وزیراعظم نے وعدہ کیا ہے وہ لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور50 لاکھ گھردیں گے،اسے بھولنے نہیں دیں گے، امید کرتا ہوں کہ خان صاحب ماضی کی نفرت انگیز سیاست کو ختم کریں گے اور عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کریں گے ،تمام جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلیں گے کیوں کہ وہ اب ایک مخصوص جماعت کے وزیر اعظم نہیں بلکہ تمام پاکستان کے وزیر اعظم ہیں اس لئے انہیں میچور ہونا پڑے گا۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کے باوجود ہم نے دوسرے سیاسی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ کیا اور جمہوریت کا سلسلہ جاری رہا، سب اپوزیشن جماعتوں کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ جمہوری نظام کا حصہ بنیں، وزیراعظم سے بھی شکریہ ادا کی درخواست کرتا ہوں۔

مزید : قومی /الیکشن /قومی اسمبلی /علاقائی /اسلام آباد /اہم خبریں