نوجوان مسلمان لڑکی کو مرد سے مصافحے سے انکار پر ساڑھے 4 لاکھ روپے مل گئے، مگر کیسے؟ جان کر ہر مسلمان سبحان اللہ کہہ اُٹھے

نوجوان مسلمان لڑکی کو مرد سے مصافحے سے انکار پر ساڑھے 4 لاکھ روپے مل گئے، مگر ...
نوجوان مسلمان لڑکی کو مرد سے مصافحے سے انکار پر ساڑھے 4 لاکھ روپے مل گئے، مگر کیسے؟ جان کر ہر مسلمان سبحان اللہ کہہ اُٹھے

  

سٹاک ہوم(مانیٹرنگ ڈیسک)اس دنیا میں اہل مذہب کی بھی کئی قسمیں اور کئی رنگ ہیں۔ ایک جانب تو ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دنیاوی مفادات کے لئے اپنا ایمان بیچ ڈالتے ہیں لیکن دوسری جانب ایسے بھی بہت ہیں جو اپنے عقیدے کی خاطر دنیا داری کے تقاضوں کو ٹھوکر مار دیتے ہیں۔ سویڈن سے تعلق رکھنے والی نوجوان مسلمان لڑکی فرح الحاجیہ بھی ایک ایسی ہی قابل فخر مثال ہیں جنہوں نے دنیاوی مفاد کی خاطر اپنے عقائد کی قربانی دینے سے انکار کر دیا۔ آخرت میں اُن کے اجر و ثواب کے بارے میں تو خالق کائنات بہتر جانتا ہے مگر اس دُنیا میں انہیں جو کامیابی اور عزت ملی ہے اسے ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔

میل آن لائن کے مطابق 24 سالہ فرح کو دارلحکومت سٹاک ہوم کے شمال میں اپسالہ کی ایک کمپنی نے مترجم کی ملازمت کے لئے موزوں جانتے ہوئے انٹرویو کے لئے بلایا تھا۔ جب وہ انٹرویو کے لئے پہنچیں تو کمپنی کے سینئر افسر نے اُن سے ہاتھ ملانے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا مگر فرح نے اسے بتایا کہ وہ مذہبی وجوہات کی بناءپر اس کے ساتھ ہاتھ نہیں ملا سکتیں، تاہم انہوں نے خوشگوار اور شائستہ انداز میں اُسے آداب ضرور کہا۔ یہ بات انٹرویو کرنے والے کو البتہ پسند نہیں آئی۔ وہ سخت سیخ پا ہوا اور فرح کا انٹرویو کئے بغیر اسے اپنے دفتر سے نکل جانے کو کہہ دیا۔

فرح کا کہنا ہے کہ اس بدسلوکی پر انہیں بہت افسوس ہوا۔ مذہب کی بنیاد پر کئے جانے والے امتیازی سلوک پر وہ رنجیدہ خاطر تھیں اور امتیازی سلوک کرنے والی کمپنی کو بتانا چاہتی تھیں کو اُن کا طرز عمل صرف اخلاقیات ہی نہیں بلکہ قانون کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کمپنی کے طرز عمل کو غلط اور غیر قانونی ثابت کرنے کے لئے سویڈش لیبرکورٹ سے رجوع کر لیا اور اچھی خبر یہ ہے کہ عدالت نے اُن کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔

فرح نے سماعت ک دوران واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اُن کی بات سن کر انٹرویو کرنے والے شخص کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا اور وہ کہنے لگا کہ”یہاں ہر کسی کو ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے دفتر سے نکل جانے کو کہا گیا۔میں اس بدسلوکی پر بہت دل شکستہ ہوئی اور جیسے ہی لفٹ میں داخل ہوئی تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔“

عدالت نے کمپنی کا مﺅقف بھی سنا لیکن بالآخر فرح کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ اگرچہ آجر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملازمت کے خواہشمند تمام افراد سے یکساں سلوک کرے لیکن اسے اس بات کو بھی قبول کرنا چاہیے کہ اگر کوئی اپنے مخصوص اندازمیں اپنے کلچر اور مذہب کے مطابق میل جو کرنا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہونی چاہیے۔ عدالت نے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو حکم دیا کہ 33 ہزار سویڈش کرونا، یعنی تقریباً ساڑھے چار لاکھ پاکستانی روپے، بطور ہرجانہ درخواست گزار کو ادا کئے جائیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -