’شام میں اس آدمی نے مجھے جنسی غلام بنا کر رکھا تھا، فرار ہوکر جرمنی آئی تو ایک دن وہی آدمی سڑک پر نظر آگیا، وہ میرے پاس آیا او رکہنے لگا۔۔۔‘ داعش کا جنگجو جرمنی میں کیا کررہا تھا؟ نوجوان لڑکی نے ایسا انکشاف کردیا کہ تہلکہ برپاہوگیا

’شام میں اس آدمی نے مجھے جنسی غلام بنا کر رکھا تھا، فرار ہوکر جرمنی آئی تو ...
’شام میں اس آدمی نے مجھے جنسی غلام بنا کر رکھا تھا، فرار ہوکر جرمنی آئی تو ایک دن وہی آدمی سڑک پر نظر آگیا، وہ میرے پاس آیا او رکہنے لگا۔۔۔‘ داعش کا جنگجو جرمنی میں کیا کررہا تھا؟ نوجوان لڑکی نے ایسا انکشاف کردیا کہ تہلکہ برپاہوگیا

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) شدت پسند تنظیم داعش کے مظالم کا نشانہ بننے والے ہزاروں افراد کو مغربی ممالک میں پناہ مل چکی ہے، لیکن کیا ہزاروں کلومیٹر دور واقع محفوظ ممالک میں جا کر واقعی انہیں پناہ مل گئی ہے؟ نہیں ایسا بالکل نہیں ہے کیونکہ داعش ان کا تعاقب کر رہی ہے اور اس کے جنگجو بھی پناہ گزینوں کا روپ دھار کر مغربی ممالک پہنچ رہے ہیں۔ شمالی عراق کی یزیدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا خوفناک واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کس طرح داعش کے جنگجو بآسانی مغرب ممالک جا بھی رہے ہیں اور وہاں آزادانہ گھوم پھر بھی رہے ہیں۔

میل آن لائن کے مطابق اشواق تعلو نامی اس لڑکی کا کہنا ہے کہ جرمنی میں اچانک اس کا سامنا داعش کے اُس درندے سے ہوگیا جس نے اسے اپنی قید میںرکھا اور کئی ماہ تک اس کی عصمت دری کرتا رہا تھا۔ اشواق کا کہنا ہے کہ وہ شدید خوفزدہ ہوگئی اور اس نے پولیس کو مطلع کیا لیکن اس دہشت گرد کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوسکا کیونکہ اب وہ بھی ایک پناہ گزین ہے۔

اشواق کو اگست 2014ءمیں اس وقت اغوا کیا گیا جب اس کی عمر صرف 15سال تھی۔ وہ تین ماہ تک داعش کی قید میں رہی جس کے بعد ایک دن فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کا کہنا ہے کہ ”جنوب مغربی جرمنی کے علاقے شوابیش گمونڈ میں اچانک وہ دہشتگر میرے سامنے آگیا اور کہنے لگا کہ مجھے سب معلوم ہے تم کہاں رہتی ہو اور تمہارے ساتھ کون کون رہ رہا ہے ۔ اس کے تاثرات اور دھمکی آمیز لہجے سے واضح تھا کہ وہ اب تک میرا تعاقب کر رہا ہے اور مجھے نقصان پہنچا سکتا ہے۔“

اشواق کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس واقعہ کے متعلق پولیس کو بھی بتایا اور پناہ گزین دفتر کے اہلکاروں کوبھی، مگر افسوس کہ اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اگرچہ سی سی ٹی وی سے داعش کے شدت پسند کی شناخت بھی ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود تاحال اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا کیونکہ وہ جرمنی میں ایک پناہ گزین کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی