’میرے جسم کا یہ حصہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے کوئی بھی مجھ سے دوستی نہیں کرتا تھا‘ نوجوان لڑکی نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

’میرے جسم کا یہ حصہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے کوئی بھی مجھ سے دوستی نہیں کرتا تھا‘ ...
’میرے جسم کا یہ حصہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے کوئی بھی مجھ سے دوستی نہیں کرتا تھا‘ نوجوان لڑکی نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

  

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)قانون کی طالبہ 23 سالہ برطانوی لڑکی لیہ بیٹس بچپن سے لے کر اب تک اپنے منہ کو اپنے بالوں سے چھپاتی آئی ہیں کیونکہ ان کے جبڑوں کا پیدائشی بگاڑ اُ ن کے لئے ایک ایسی بدقسمتی بن گیا تھا جس نے ان کے شب و روز تاریک کر کے رکھ دئیے تھے۔ ان کا اوپر والا جبڑا نشوو نما کی کمی کے باعث بہت چھوٹا رہ گیا تھا جس کے باعث منہ کی ساخت بہت غیر متناسب ہو گئی تھی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران دو دفعہ ان کی سرجری کی گئی ہے جس میں جبڑے کو توڑ کر نئی پوزیشن میں لایا گیا اور زندگی میں پہلی بار وہ مسکرانے کے قابل ہوئی ہیں۔

ریاست ٹیکساس کے علاقے انٹونیو سے تعلق رکھنے والی لیہ بیٹس کا اوپری جبڑا پوری طرح نہیں بن پایا تھا جبکہ اس خرابی کے باعث ان کے دانت اور نچلا جبڑا بھی درست پوزیشن میں نہیں تھے۔ دو بار طویل آپریشن کے عمل سے گزرنے کے بعد ان کے چہرے میں پہلی بار اتنی تبدیلی آچکی ہے کہ وہ اسے اپنے بالوں سے چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی ہیں۔

اپنے جبڑوں کی پوزیشن درست ہونے کے بعد وہ زندگی میں پہلی بار ٹھوس غذا تکلیف کے بغیر کھانے کے قابل ہوسکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جبڑوں کی خرابی کے باعث بدصورت نظر آنے کا مسئلہ اپنی جگہ لیکن سب سے پریشان کن بات وہ تکلیف تھی جس میں وہ ہمیشہ مبتلا رہتی تھیں۔ خصوصاً کوئی ٹھوس چیز کھانے میں انہیں بے پناہ دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ دوسرا آپریشن مکمل ہونے کے سات ہفتے بعد پہلی بار انہیں سینڈوچ کھاتے ہوئے اپنے منہ میں درد کا احساس نہیں ہوا۔ یہ زندگی کا ایک ایسا تجربہ ہے جو ہم سب کے لئے تو بے حد معمولی بات ہے لیکن لیہ کو عمر کے 23 سال گزارنے کے بعد پہلی بار نصیب ہوا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -