یہاں ٹیلنٹ کی قدر نہیں

یہاں ٹیلنٹ کی قدر نہیں
 یہاں ٹیلنٹ کی قدر نہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی قدر نہیں کی جاتی۔ یہ بات روز کسی نہ کسی سے سنتا ہوں۔ ایسے لگتا ہے۔ یہ جملہ ہماری قوم کا ٹریڈ مارک بن گیا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ذہین فطین لوگ موجود ہیں مگر ہم انہیں پہچان نہیں پارہے۔یہاں تک کہ وہ خود روز اپنی ذہانت اور ٹیلنٹ کا اعلان کرتے ہیں مگر ہم پھر بھی ان کی قدر نہیں کرتے۔

ٹیلنٹ کی بے توقیری کی بے شمار مثالیں ہمارے ہاں پائی جاتی ہیں ۔ابھی صرف دومثالیں سامنے رکھ رہا ہوں۔کل ایک شاپنگ مال میں صوبیہ سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگی۔

’’میں نے چار کمپنیوں میں نوکری کے لیے اپلائی کیا،انٹرویو دیے مگر انہوں نے مجھے دوبارہ کال تک کرنا گوارہ نہیں کیا۔آخر مجھ میں کمی کیا ہے میرے پاس ماسٹرز ڈگری ہے۔میں اردو اور پنجابی بول سکتی ہوں۔میں انگلش سمجھ سکتی ہوں۔ میں رات پورے بارہ بجے سوجاتی ہوں۔صبح دس بجے اٹھ کر گھر کے سارے کام کرتی ہوں۔اپنی زندگی ٹائم مینیجمنٹ کے اصولوں کے عین مطابق گزار رہی ہوں۔ہفتے میں ایک مرتبہ پرانی سہیلیوں سے بھی مل لیتی ہوں۔ویسے سچ پوچھو تو مجھے پاکستان میں جاب کرنی ہی نہیں۔یہ کوئی جاب ہوئی؟ صبح 8 بجے آؤ اور شام 5 بجے چھٹی ہوگی۔یہ نوکری نہ ہوگئی عذاب ہوگیا اور تو اور صرف اتوار کی چھٹی دیتے ہیں تمہیں پتا ہے ،باہر کے ملکوں میں میں بس تین چار گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے اور تنخواہ ہزاروں ڈالروں میں دیتے ہیں۔ہفتے میں دو چھٹیاں بھی دیتے ہیں۔میری وہ کزن جس کا شوہر بیرون ملک ہوتا ،بتارہی تھی کہ ان کی کمپنی کا اصول ہے جو ملازم چھٹیاں نہیں کرتا اسے جرمانہ کردیا جاتا ہے۔کمپنی والے خود کہتے ہیں چھٹیاں کریں انجوائے کریں،زندگی کو آسان بنائیں تاکہ آفس کے کام پر اچھا اثر پڑے۔اتنی سہولتیں دیتے ہیں کہ وہاں ہر کوئی خوشی خوشی رہتا ہے۔اور ہمارے ہاں کیا ہورہا گدھوں کی طرح ملازموں پر کام کا بوجھ لاد دیا جاتاہے۔اسی لیے اب میں نے سوچ لیا ہے کہ جرمنی،انگلینڈ یا امریکہ چلی جاؤں کم از کم وہاں ٹیلنٹ کی قدر تو ہوگی‘‘

’’مگر آصف تم نے کمپنی سے استعفی کیوں دیا۔‘‘

’’چھوڑتا نہ تو کیا کرتا دنیا کی کوئی گھٹیا ترین کمپنی تھی۔میراشعبہ اپنی پروڈکٹ کی سیل بڑھانے کے لیے کمپین کرنا تھا۔کمپنی والوں نے کہا تھا کہ فکسڈ تنخواہ کم ہوگی باقی کمیشن ہوگا جتنی سیل بڑھے گی کمیشن اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔یار میں نے تین ماہ کام کیا ان کے لیے ہر قسم کے آفس اور گھروں میں گیا۔ مارکیٹنگ کے لیے،شدید گرمی میں بھی کام کیا۔کمپنی کی چیزیں بیچی بھی ہیں کمیشن بھی وصول کرتارہا۔آخری مہینے میں اپنے جگری دوست شانی کی شادی کے لیے صرف چار چھٹیاں کیں تو میرے باس نے آسمان سر پہ اٹھا لیا۔یار اب اگر میں دوست کی شادی پر چھٹیاں نہ کرتا تو کب کرتا۔دوسرا مجھے باقاعدہ آفس بھی نہیں دیا ہوا تھا ایک کرسی کے سامنے میز لگا کر مجھے بٹھا دیاتھا۔اسی کمپنی کے میٹرک پاس اکاؤنٹنٹ کو اے سی والا بڑا کمرہ دیا ہوا تھا۔مجھے مہمان آفس لانے کی اجازت نہیں تھی۔چائے بھی صرف ایک بار پینے کی اجازت تھی۔میری کرسی جس ہال میں لگی تھی وہاں اے سی بھی ٹھیک طرح کولنگ نہیں کرتا تھا۔سب سے بڑھ کر جب مجھے ایک مرتبہ شاہدرہ ایک چھوٹی کمپنی کے آفس ڈیل کے لیے بھیجا گیا تو میں نے تہیہ کرلیا تھا کہ عزت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔میرا باس اچھی کمپنیوں کے ساتھ ڈیل خود کرتا تھا مجھے دو ٹکے کی جگہوں پر بھیج دیتا تھا۔کیا میں انسان نہیں،کیا میرے خواب نہیں،میں اپنے باس سے کئی گنا اچھی کمیونکیشن کرلیتا ہوں۔دوسرا میں نے تین ماہ دل لگا کر کام کیا مگر مجال ہے مجھے پروموشن دی گئی ہو۔پروموشن تو دور کی بات عید پر بونس بھی نہیں دیا گیا۔ان سب زیادتیوں کے باوجود میں کام کرتا رہا مگر جب مینیجر صاحب نے کہاکہ اگر آپ کام نہیں کرسکتے تو ہمیں بتا دیں پھر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے اس نوکری کو ٹھوکر مار دی۔میرے دوست مجھے روکتے رہے مگر میرا ایک ہی موقف تھا سب کچھ برداشت کیا جاسکتا ہے مگر عزت پہ سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔یہ سب واقعات جو میرے ساتھ ہوئے ہیں اس کے بعد میرا اس معاشرے سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے۔اس ملک میں ٹیلنٹ کی یہ عزت ہے۔اتنی محنت میں نے کسی اور ملک میں کی ہوتی تو ایک کامیاب انسان بن گیا ہوتا‘‘۔

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ