جنرل اختر عبدالرحمن شہید،مردِ مجاہد

جنرل اختر عبدالرحمن شہید،مردِ مجاہد

(یہ اقتباسات بریگیڈیئر محمد یوسف مرحوم کی جنگی یادداشتوں پرمشتمل شہرہ آفاق تصنیف "Silent Sodler"سے لئے گئے ہیں،جو 1983ء سے 1987ء تک آئی ایس آئی کے افغان سیل کے انچارج رہے ہیں)

17اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق، جنرل اختر عبدالرحمن، پاکستان میں امریکی سفیر آرنلڈ رافیل،امریکی فوجی اتاشی بریگیڈئر واسم، آٹھ دوسرے پاکستانی جنرل، ان کا سٹاف اور جہاز کا عملہ، مجموعی طورپر اکتیس افراد سانحہ بہاولپور میں شہید ہو گئے۔ میری رائے میں یہ سبوتاژ کی کارروائی تھی، یعنی ایک ہی سازشی کارروائی آن واحدمیں پاکستان کی اعلیٰ ترین فوجی قیادت کو راتے سے ہٹا دیا گیا۔ یہ تمام شخصیتیں بہاولپور کی چھوٹی سی چھاؤنی میں امریکی ایم ون ٹینک کا فوجی مظاہرہ دیکھنے آئی تھی،کیونکہ پاکستانی فوج یہ ٹینک خریدنے میں دلچسپی رکھتی تھی۔ صدر ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن میں سے کسی کوبھی یہاں نہیں آنا تھا۔ دونوں کو ان کی مرضی کے خلاف یہ مظاہرہ دیکھنے کے لئے آمادہ کیا گیا۔ اس طرح کے مظاہرے کے لئے چیف آف جنرل سٹاف ہی کافی تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی یہاں موجودگی تو قطعی غیر ضروری تھی،جبکہ جنرل اختر عبدالرحمن کے نئے عہدے یعنی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی ذمے داریوں کا بھی اس مظاہرے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

17اگست 1988ء کے سانحے تک جنرل اختر عبدالرحمن کے خاندان اور انتہائی قریبی دوستوں کے سوا شاید ہی کوئی دوسرا شخص جنرل اختر عبدالرحمن کو مجھ سے بہتر طورپر جانتا ہو۔ یہاں تک کہ فوج میں چند لوگ ہی افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں ان کے مجاہدانہ کردار سے واقف تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 1979ء سے1987ء تک کے عرصے میں جنرل اختر عبدالرحمن آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل رہے، مگر ان کی فرائض کی نوعیت بڑی حد تک راز داری کا تقاضا کرتی تھی لیکن اس میں جزوی طور پر ان کے مزاج کو بھی دخل تھا۔ ان کو ذاتی تشہیرپسند نہیں تھی۔

سانحہ بہاولپور کے بعد سرکاری تفتیش میں انکشاف ہوا کہ اس سانحے کا واحد سبب تخریب کاری ہے۔یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ کوئی زود اثر زہریلی گیس استعمال کی گئی،جس نے کاک پٹ میں موجود عملے کے اعصاب بیک وقت اور فوری طور پر معطل کر دیئے۔ مجرموں کا کوئی سراغ نہ لگایا جا سکا،کیونکہ پاکستان اور امریکہ یہی چاہتے تھے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ امریکی سفیر اور ان کا فوجی اتاشی اس حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکہ نے جان بوجھ کر اس حادثے کے اسباب اور مجرموں کی پردہ پوشی کی۔ایف بی آئی کی جو تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد جانے کے لئے پر تول رہی تھی، اسے ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔ ماضی ئ قریب میں امریکہ نے ایک قانون Long arm lawکے نام سے پاس کیا تھا، جس کے تحت ایف بی آئی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر دُنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کی کسی کارروائی میں کوئی امریکی شہری ہلاک ہو جائے تو وہ اس کی تحقیق کر سکتی ہے،لیکن اس حادثے کے کئی ماہ بعد جب معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا تو ایف بی آئی کی ایک ٹیم کو پاکستان بھیجنے کی اجازت دی گئی۔اس وقت بھی یوں دکھائی دیتا تھاکہ انہیں زیادہ مین میخ نہ نکالنے اور گہرائی میں نہ جانے کے احکامات مل چکے تھے۔ان کی تحقیقات مشکوک حد تک لیپا پوتی کے سوا کچھ نہ تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکیوں کو جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کی موت کا کوئی رنج نہیں تھا۔امریکہ کی وزارتِ خارجہ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے پر آمادہ نہ تھی،کیونکہ اس سے کے جی بی، خاد اور ”را“ کے ملوث ہونے کا اشارہ مل سکتا تھا، جو روسی فوجوں کے انخلاء پر منفی اثر ڈال سکتا تھا اور چونکہ اس حادثہ میں دو اعلیٰ امریکی شہری ہلاک ہوئے تھے،اِس لئے امریکی عوام کی طرف سے بدلہ لینے کا بھی مطالبہ شدت پکڑ سکتا تھا۔امریکیوں کے لئے اس سانحے کی اہمیت صرف اتنی تھی کہ اس میں دو امریکی اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے،لیکن یہ بھی سوئے اتفاق تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے عین آخری لمحے پر اپنے طیارے پر سوار ہوتے وقت ان دونوں کو اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا۔

یوں آئی ایس آئی سے علیحدگی کے کوئی اٹھارہ ماہ بعد جنرل اختر عبدالرحمن شہید ہو گئے۔ان کی شہادت کے بعد جہاد افغانستان پر کاری ضرب لگائی گئی۔ امریکہ پہلے ہی اسلحہ کی سپلائی بڑی حد تک کم کر چکا تھا، تاکہ روسی بحفاظت افغانستان سے نکل جائیں اور افغانستان میں ایک بار پھر پہلے جیسی بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو جائے۔ادھر پاکستان نے گوریلا حکمت عملی سے انحراف کرتے ہوئے اچانک دو بدو رسمی جنگ کا راستہ اپنا لیا اور جلال آباد پر چڑھائی کر دی۔ جنرل اختر عبدالرحمن کی علیحدگی،اوجڑی کیمپ میں اسلحہ کا ضیاع اور جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کی شہادت کے بعد پیش آنے والے ان واقعات نے اس جہاد کو مفلوج کر کے رکھ دیا، جسے مجاہدین اور جنرل اختر عبدالرحمن تقریباً جیت چکے تھے۔

جنرل اختر عبدالرحمن کا جنازہ ان کے مرتبہ و مقام کے جنرل اور ان کے کارناموں کے شابانِ شان تھا۔اس میں صدر کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان اور بری، بحری اور فضائی دستوں نے شرکت کی۔یہ سب جہاد افغانستان کے اس خاموش مجاہد کو آخری سلام پیش کرنے آئے تھے اور ان میں سالہا سال تک اس کی رفاقت میں جہاد کرنے والے مجاہدین بھی شامل تھے۔ وہ مجاہدین جو جنرل اختر عبدالرحمن کے اہل وطن سے بھی زیادہ ان کے مقام مرتبہ سے واقف تھے اور ان سے زیادہ عقیدت و احترام کے ساتھ ان کے نام کو یاد رکھیں گے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...