تین تحفے

تین تحفے

خوب صورت پہاڑوں کے بیچ،سر سبزوشاداب درختوں میں گھری وہ وادی جتنی حسین تھی،وہاں کے رہنے والے اسی قدر مہربان اور نیک تھے۔وہ مسافروں کو خدا کی نعمت سمجھتے تھے اور ہر ممکن ان کی خاطر داری کیا کرتے۔

بستی کا پہلا گھر خادم بابا کا تھا۔ہر مسافر ان کے گھر سے ہو کر بستی میں داخل ہوتا تھا،اس لیے سب سے زیادہ انھیں ہی لوگوں کی خدمت کا موقع ملتا تھا اور اسی خدمت گزاری کے باعث وہ سب لوگوں میں معتبر اور نیک نام مشہور تھے۔

ایک مرتبہ انھوں نے ایک درویش بزرگ کی خدمت کی تو بزرگ نے انھیں تین عجیب وغریب صفات کی حامل چیزیں دیں جو خادم بابا نے سنبھال کررکھیں اور پھر ایک دن جب انھوں نے محسوس کیا کہ ان کا آخری وقت نزدیک آچکا ہے تو انھوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بلایا اور نصیحت کرنے کے بعد بولے:”بیٹا!یہ دنیا عارضی ہے،ہر جان دار کو آخر ختم ہونا ہے۔میرا وقت بھی شاید قریب آچکا ہے۔پھر تم اس دنیا میں اکیلے رہ جاؤ گے۔تم یہ علاقہ چھوڑ کر مغرب کی طرف ہجرت کرجانا۔نئی دنیا دیکھنا، علم حاصل کرنا۔ سفربذات خود علم کاذریعہ ہے،تم اس سے بہت کچھ سیکھو گے۔پھر جب سمجھ لوکہ تم لوگوں کی خدمت کر سکتے ہوتو واپس آجانا اور یہاں رہ کر اپنے علم وہنر سے لوگوں کو فائدہ پہنچانا۔“

اتنا کہہ کر بوڑھے خادم بابا نے صندوق کھولا۔ایک ٹوپی،تسبیح اور انگوٹھی نکالی اور اپنے بیٹے محمود کو دیتے ہوئے بولے:”یہ چیزیں مجھے ایک نیک بزرگ نے دی تھیں۔ان میں بڑی خصوصیات ہیں۔ ٹوپی پہن کر اگر کسی کی بات سنیں گے تو سچ جھوٹ کا پتا چل جائے گا۔تسبیح پڑھتے ہوئے اگر کسی بیمار کو کوئی دوا دوگے تو وہ ٹھیک ہو جائے گا اور یہ انگوٹھی پہن کر جنگ کروگے تو دشمن پر فتح حاصل کروگے۔“

بوڑھے خادم بابا نے ان چیزوں کے متعلق اپنے بیٹے کو خاص ہدایات بھی دیں۔چند روز بعد خادم بابا چل بسے۔

محمود نے باپ کی آخری رسومات اداکیں اور باپ کی نصیحت کے مطابق نئی دنیا کی سیرکونکل پڑا۔

کئی دن کی مسافت کے بعد وہ ایک شہر میں پہنچا،جہاں کی رونق اور چہل پہل دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔اس نے سوچا کہ یہیں رہ کر علم حاصل کرنا چاہیے۔

اس کے پاس معقول رقم موجود تھی،اس نے ایک سرائے میں قیام کیا اور کئی دن تک شہر کی سیر کرتا رہا۔

ایک دن منادی ہوئی کہ سب لوگ جمع ہوں،بادشاہ سلامت غداری کے ایک مقدمے کا فیصلہ سنائیں گے۔محمود مقدمے کی کارروائی دیکھنے پہنچ گیا۔

وزیر اعظم پر الزام تھا کہ اس نے بادشاہ کے خلاف ساز ش تیار کی کہ اسے تخت سے اْتار کر خود حکومت سنبھال لے۔تمام گواہان موجود تھے،مگر ملزم جرم قبول کرنے سے انکاری تھا۔قاضی نے مقدمے کی تفصیل سے بادشاہ کو آگاہ کیا۔بادشاہ نے آخری مرتبہ دریافت کیا کہ اگر وزیر اعظم تسلیم کرلیں تو ان کی معافی پر غور کیا جائے،مگر وزیر اعظم نے جرم ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اسے بے گناہ پھنسا یا گیا ہے۔

بادشاہ غصے میں فیصلہ سنانے والا تھا کہ محمود اْٹھ کھڑا ہوا۔وہ شاہی آداب بجالایا اور اجازت لے کر بادشاہ کو تجویز دی کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ سنانے سے پہلے اس کی دی ہوئی ٹوپی پہن لیں اور دوبارہ مقدمے کو دیکھ لیں۔

بادشاہ نے محمود کو پردیسی جان کر اس کی بات مان لی اور جیسے ہی ٹوپی پہنی،ایک غیبی آوازسے اسے پتا چل گیا کہ گواہان جھوٹے ہیں اور وزیر اعظم اس کا وفادار ہے۔

بادشاہ نے سختی دکھائی تو جھوٹے گواہوں نے اقرار کر لیا کہ سپہ سالار کے اشارے پر وہ یہ کام کررہے تھے۔دوسرے ہی لمحے سب کچھ بدل گیا۔ بادشاہ نے وزیر اعظم کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا اور سپہ سالار سمیت تمام ملز مان کو گرفتار کیا گیا۔

بادشاہ نے محمود کو تخلیے میں طلب کیا اور اس حیرت انگیز ٹوپی کے بارے میں دریافت کیا۔محمود نے ساری بات بتادی اور بادشاہ سے کہا کہ وہ یہ ٹوپی رکھ لے۔

بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس نے محمود کو منہ مانگا انعام دینے کو کہا،مگر محمود نے انکار کر دیا اور اجازت لے کرواپس آگیا۔

اسے خوشی تھی کہ اس نے ٹوپی مناسب شخص کے حوالے کی ہے۔

کچھ دن گزرے تو پتا چلا کہ پڑوسی ملک نے حملہ کردیا ہے،کیوں کہ سپہ سالار قید میں تھا۔جب کہ کوئی اچھا سپہ سالار میسر نہیں،ایسے میں تو دشمن ملک نے سوچا کہ موقع اچھا ہے۔

بادشاہ نے منادی کرادی کہ ملک پر حملہ ہو گیا ہے۔سب لوگ اپنے اپنے حصے کا فرض ادا کریں۔محمود کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ بادشاہ خود فوج کی قیادت کرے گا۔محمود بادشاہ سے ملا اور اسے انگوٹھی دے کر اس کی خصوصیات سے آگاہ کیا۔

بادشاہ بہت خوش ہوا۔میدان جنگ میں انگوٹھی سے نظر نہ آنے والی ایسی شعاعیں نکلتی تھیں،جن سے دشمن کے سپاہی وقتی طور پر اندھے ہوجاتے تھے۔بادشاہ نے بے جگری سے مقابلہ کیا۔فوج نے بھی دلیری سے لڑ کر دشمن ملک کو شکست دے دی۔

اب بادشاہ محمود کا گرویدہ ہو چکا تھا۔اس نے محمود کو طلب کیا،مگر پتا چلا کہ وہ کسی کو بتائے بغیر کہیں چلا گیا ہے۔بادشاہ نے اس کی تلاش کا حکم دیا۔مگر وہ نہ ملا۔

محمود یہ سوچ کر وہاں سے روانہ ہو گیا کہ اب بادشاہ اس پر خصوصی عنایت کرے گا اور وہ یہ نہیں چاہتا تھا۔

کئی دن کی مسافت کے بعد وہ پڑوسی ملک میں پہنچ گیا۔پتا چلا کہ اس ملک کا بادشاہ جنگ میں زخمی ہو گیا تھا اور حکیموں نے اسے لاعلاج قرار دے دیا تھا۔محمود دربار میں پہنچا اور بڑے حکیم سے ملا،اسے اپنی تسبیح دے کر کہا کہ تسبیح پر اللہ کا نام پڑھ کر وہ بادشاہ کا علاج کرے۔پھر محمود کی توقع کے مطابق بادشاہ تن درست ہونا شروع ہو گیا۔ حکیم نیک انسان تھا،اس نے بادشاہ کو ساری بات سچائی کے ساتھ بتادی۔بادشاہ نے محمود کو بلایا اور کہا کہ وہ طلب کرے،اسے کیا چاہیے۔

محمود نے ہاتھ باندھ کر ادب واحترام سے کہا:”اے بادشاہ! خدا آپ کا مرتبہ بلند کرے،جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔آپ نے جس ملک کے خلاف جنگ لڑی ہے،میرا تعلق اسی ملک سے ہے،مگر میری ہم دردی دونوں ملکوں کے تمام فوجیوں سے ہے،جو جنگ میں مارے جاتے ہیں اور ان کے بیوی بچے ساری زندگی ان کا غم مناتے ہیں۔ان کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔میری خواہش ہے کہ آپ جنگ نہ کریں،بلکہ دوستی کے ذریعے اپنے جائز مقاصد پورے کریں۔“

بادشاہ کی سمجھ میں محمود کی بات آچکی تھی۔اس نے اصرار کر کے محمود کو چند قیمتی تحائف لینے پر مجبور کیا اور اپنے دشمن ملک کے بادشاہ کے نام صلح اور دوستی کا خط لکھا اور اپنے بیٹے کے لیے شہزادی کا رشتہ طلب کیا۔دوسرے بادشاہ تک صلح کا پیغام پہنچا تو وہ بہت خوش ہوا،مگر اس کے ذہن میں یہ بات تھی کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی محمود سے کرے گا۔اس دوران محمود بھی پہلے والے بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا۔اس نے بادشاہ کو سمجھایا کہ وہ شہزادی کی شادی شہزادے سے کردے،تاکہ ہم پلہ رشتہ بھی طے ہو جائے اور برسوں کی ناراضی رشتے داری میں بدل جائے۔

محمود کے مشورے پر بادشاہ نے رضا مندی ظاہر کر دی اور دونوں ملک کے عوام نے چین کا سانس لیا اور دونوں اطراف خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔

محمود اپنے گاؤں لوٹ آیا،جہاں اس کی شہرت اس سے بھی پہلے پہنچ چکی تھی۔بادشاہ نے اطراف کے کئی گاؤں محمود کے نام کر دیے اور وہ اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا لوگوں کی خدمت کرنے لگا۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...