کیا کشمیر میں کسی بڑے انسانی المیے کا انتظار ہے؟

کیا کشمیر میں کسی بڑے انسانی المیے کا انتظار ہے؟

وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے سوال کیا ہے کہ کیا دُنیا خاموشی سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی اور بوسنیا و گجرات جیسے ایک اور قتل ِ عام کا انتظار کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل ِ عام کی اجازت دی گئی تو مسلم دُنیا سے شدید ردعمل آئے گا،ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے اقوام متحدہ کو متنبہ کیا کہ ایسا ہوا تو انتہا پسندی کو ہَوا ملے گی اور تشدد کا نیا دور اُبھرے گا، مقبوضہ کشمیر میں بارہ روز سے کرفیو نافذ ہے، آر ایس ایس کے غنڈوں کو مقبوضہ وادی میں بھجوایا جا رہا ہے، اطلاعات اور ذرائع ابلاغ کی مکمل بندش کر دی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان اِس سے پہلے بھی اپنے بیانات میں دُنیا کو مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر توجہ دینے کے لئے کہتے رہے ہیں،لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اقدام کی چین کے سوا کسی ملک نے کھل کر مذمت نہیں کی،چین واحد ملک ہے جس نے کہا بھارت خطے میں کشیدگی سے گریز کرے اور یکطرفہ کارروائی نہ کرے،باقی ہر ملک نے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی سفاکیت پر روایتی سفارتی بیانات ہی داغے اور چپ سادھ لی، امریکہ،روس جیسی بڑی طاقتیں اِس معاملے کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دے چکی ہیں،حالانکہ امریکہ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہئ واشنگٹن کے موقع پر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر کے اُنہیں نہال کر دیا تھا اور جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایسا ہو گیا تو خطے کے اربوں انسانوں کی دُعائیں ٹرمپ کے ساتھ ہوں گی،لیکن یہ سعد لمحہ تو خیر کیا آنا تھا مودی نے پوری دنیا کے سامنے کشمیر کی خصوصی حیثیت ہی ختم کر دی اور امریکہ نے فوری طور پر اِس اقدام کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دے دیا،حالانکہ امریکہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑا مسئلہ بنا کر پیش کرتا رہتا ہے اور آج بھی اُس نے دُنیا کے بہت سے خطوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا ہوا ہے۔ آج تک اگر امریکہ کی نظر التفات نہیں پڑی تو کشمیر پر نہیں پڑی،جہاں انسانیت سسک رہی ہے، خوراک کی شدید قلت ہے،ادویات نہیں ہیں، ہر گھر کے دروازے پر فوجی کھڑے ہیں اور اندر بچے، بوڑھے، خواتین اور جوان یکساں بلک رہے ہیں،تصور کیا جا سکتا ہے کہ جس خطے میں بارہ روز سے کرفیو ہو اور چپے چپے پر فوجی کھڑے ہوں وہاں خوراک اور دوسری اشیائے ضرورت کی سپلائی کاعالم کیا ہو گا،لیکن اِس جانب انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کی نظر نہیں جاتی۔

اگرچہ بھارتی حکومت نے پوری کوشش کی ہے کہ مقبوضہ ریاست کے دِگر گوں حالات کی خبریں باقی دُنیا کو نہ پہنچیں اور اِس مقصد کے لئے بدترین قسم کا کنٹرول نافذ کیا گیا ہے،لیکن اس کے باوجود سماجی کارکنوں اور مبصرین کی ایک ٹیم نے ریاست کا دورہ کرنے کی جرأت کی ہے اور واپس آکر صورتِ حال کو ”جہنم جیسا“ قرار دیا ہے۔ اس جرأت مند ٹیم نے رپورٹ کیا ہے کہ بربادی،بندوق زیادتی، قبرستان اور ظلم کی باتیں ہی اب وادی میں ہر کسی کی زبان پر ہیں۔ بھارتی حکومت اور انتظامیہ کی عصبیت اور نسل پرستی کی پالیسی کا یہ عالم ہے کہ ہندو اکثریتی علاقے جموں میں ہر طرح کی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، سکول کھل گئے ہیں،لیکن مسلمانوں کے علاقے میں ہر طرح کی پابندیاں ہیں، بارہویں روز بھی کرفیو لگا ہوا ہے،کشمیریوں میں یہ احساس موجود ہے کہ وہ جیل اور قید میں ہیں،جس وفد نے کشمیر کا دورہ کیا اُس نے بعدازاں دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس میں اپنے مشاہدات پیش کئے۔ایک خاتون رُکن کا کہنا تھا کہ حکومت ”سب اچھا“ کا پروپیگنڈہ کر رہی ہے،لیکن اُسے ”آل از ویل“ کہنے کی بجائے ”آل از ہیل“ کہنا چاہئے،کیونکہ اسی سے کشمیر کی حقیقی صورتِ حال کی عکاسی ہوتی ہے۔وفد کی رُکن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دورے کے دوران سینکڑوں کشمیریوں سے ملاقات کی،لیکن کسی نے آرٹیکل 370 اور 35اے ختم کرنے کی حمایت نہیں کی، جس کا حکومت دعویٰ کرتی ہے، صرف ایک شخص نے ایسا کیا جو بی جے پی کا ترجمان تھا، پریس کانفرنس میں کشمیر سے شائع ہونے والا ایک مقامی اخبار پیش کیا گیا، جس میں شادیوں اور دوسری تقریبات کی منسوخی کے اشتہار بھرے ہوئے ہیں،کیونکہ کرفیو میں ایسی تقریبات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔وفد نے سرینگر کے ایک ہسپتال میں اُن مریضوں سے بھی ملاقات کی جو پیلٹ گنوں کے چھروں سے متاثر ہوئے تھے، وفد کو اُس علاقے میں جانے نہیں دیا گیا جہاں 10اگست کو بڑا احتجاج ہوا تھا اور سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے،وفد نے بتایا کہ جو بھی احتجاج کے لئے نکلتا ہے اُسے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے۔وفد نے ایسی وڈیوز بھی پیش کیں، جن میں عیدالاضحی کے روز بھی ویران گلیوں اور بے رونق بند بازاروں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر سے آنے والی اس چشم کشا رپورٹ کے بعد وزیراعظم عمران خان کے وہ خدشات بالکل درست معلوم ہوتے ہیں جن کا اظہار انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کیا ہے۔ دنیا کو کشمیر کی اس سلگتی ہوئی صورت حال میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم ملکوں نے اس سلسلے میں یکساں بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگرچہ دونوں کے طرز عمل کی وجوہ مختلف ہوسکتی ہیں، تاہم اس کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں اور وہ بوسنیا وگجرات جیسے قتل عام کے خوف میں مبتلا ہیں۔ ریاست میں آر ایس ایس کے غنڈے دندناتے پھر رہے ہیں اور جتھوں کی صورت میں گلیوں میں اخلاق سے گرے نعرے لگا کر کشمیریوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کام میں انہیں انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے، اس پس منظر میں پوری دنیا کو اپنی ذمے داریاں ادا کرنے کے لئے بلاتاخیر سامنے آنا چاہئے، کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا اور کوئی بڑا انسانی المیہ رونما ہوگیا تو عالمی ضمیر عشروں تک ان ملکوں کی بے حسی کو کچوکے لگاتا رہے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...