اشیائے خور و نوش کے نرخ کم نہ ہوئے!

اشیائے خور و نوش کے نرخ کم نہ ہوئے!

عید کی چھٹیاں ختم ہوئیں، بازار اور سرکاری دفاتر بھی کھل گئے، اشیاء خور و نوش کی تھوک منڈیوں میں بھی کاروبار شروع ہو گیا، لیکن پرچون فروشوں کی ”عید“ اور ”عیدی مہم“ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ توقع کے مطابق سبزیوں، پھلوں اور برائلر مرغی اور انڈے کے نرخ واپس نہیں آئے۔ برائلر مرغی کا گوشت 350روپے کلو تک بکا یوں عید کے دوران ہی نرخوں میں ایک سو روپے اور مجموعی طور پر دو سو روپے فی کلو اضافہ تھا، یہی صورت حال، پیاز، لہسن، ادرک اور ٹماٹر وغیرہ کی ہے، جبکہ آئل اور گھی وغیرہ کے نرخوں میں ہونے والا اضافہ اور آٹے کے نرخ بھی کم نہیں ہو سکے۔ اس سال ایسا احساس پیدا ہوا ہے کہ تھوک اور پرچون بازاروں میں ہم آہنگی تھی اور نرخوں میں اضافہ سوچ سمجھ کر کیا جاتا رہا۔ ضلعی انتظامیہ تمام تر دعوؤں کے باوجود ناکام رہی ہے۔ صارفین کو سبزیوں، پھلوں اور مصالحوں میں زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے شعبہ شماریات والے دفتر میں بیٹھ کر شماریات کے کارنامے دکھانے کی بجائے مارکیٹ کا سروے کرکے اعداد و شمار ریلیز کریں۔ شعبہ شماریات کے اعدادوشمار کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بہرحال توقع ہے کہ بازار اور تھوک منڈیاں کھل جائیں اور گاہکوں کی کمی کی وجہ سے بتدریج نرخ واپس عید سے پہلے والی سطح پر آ جائیں گے جو پہلے ہی قوت خرید سے زیادہ ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...