نابالغ گھریلو ملازمین کی حالت زار!

نابالغ گھریلو ملازمین کی حالت زار!

پاکستان میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس پر اب بیرونی ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نابالغ گھریلو ملازمین کی تعداد دو لاکھ 64ہزار ہے ان کے تحفظ کے لئے کوئی قانون نہیں۔ یہ بچے اور بچیاں ان غریب ماں باپ کے ہوتے ہیں جو غربت اور پسماندگی کے باعث پرورٹس اور تعلیم دلانے میں ناکام ہیں، ایسے والدین بچوں کو گھروں میں ملازم رکھواتے ہیں، جہاں ان کو کھانا اور رہنے کے لئے چھت میسر آ جاتی اور کچھ رقم بھی مل جاتی ہے، تاہم ان بچوں کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا قانون ہے جو ان کی ملازمت اور جسمانی تحفظ کی ضمانت دے اور تشدد کے ذمہ دار سخت سزا پائیں، پنجاب اور اسلام آباد کے دو واقعات میں سولہ سالہ عظمیٰ تشدد سے جاں بحق ہوئی اور 10سالہ طیبہ پر تشدد ثابت ہو گیا اور ایک فاضل جج کو ایک سال قید کی سزا ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک چائلڈ پروٹیکشن سنٹر ضرور ہے مگر کسی اور صوبے میں نہیں اور اب پنجاب میں پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ منظور کیاگیا ہے جس کے تحت ایسے ملازم بچوں کا تحفظ کیاجائے گا لیکن دوسرے صوبوں میں نہیں۔انسانی حقوق کی اس تنظیم کی یہ رپورٹ بڑی حد تک درست ہے اور ہمارے ملک میں پسماندگی ایسے کئی مظالم کی داستان سناتی ہے۔اگرچہ بعض گھرانوں میں گھریلو ملازموں کے ساتھ بہتر سلوک بھی ہوتا ہے لیکن عام طور پر والدین رقوم لے چکے ہوتے ہیں اس لئے ان کو زرخرید غلام ہی تصور کیا جاتا اور ذرا ذرا سی غلطی پر مارا پیٹا جاتا ہے۔ پنجاب میں قانون بن گیا ہے تو اس پر عمل درآمد کے لئے فوری قواعد بنا کر اسے عملی طور پر نافذ العمل بنایا جائے اور باقی صوبے بھی اس کی تقلید کریں توقع ہے کہ جائزہ لے کر سدباب کیا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...