کیا کشمیر،یوں ہی جلتا رہے گا

کیا کشمیر،یوں ہی جلتا رہے گا
کیا کشمیر،یوں ہی جلتا رہے گا

  

سنا ہے بہت سستا ہے خون وہاں کا

اک بستی ہے جسے لوگ کشمیر کہتے ہیں

میرے اباؤ اجداد کا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔ برسوں پہلے جب کشمیر ڈوگرا مہاراجہ کی ملکیت تھا تو کشمیریوں کے حقوق نہ ہونے کے برابر تھے اور انہیں حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں چند کشمیروں نے اپنے حقوق کی جدوجہد شروع کی اور ان کو بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا انہیں قید و بند کی سزا، جسمانی سزا اور اس سے بڑھ کر ملک بدری کا سامنا کر نا پڑا۔ کشمیریوں کی جد و جہد طویل ہوتی گئی اور ظلم و جبر بھی بڑھتا گیا وہاں کے مکینوں کو نقل مکانی کر کے پنجاب اور کشمیر کے بارڈر کی طرف ہجرت کرنی پڑی اور جموں کشمیر میں رہتے ہوئے بھی اپنی شناخت چھپانی پڑی۔ آہستہ آہستہ آزادی کشمیر کی تحریک زور پکڑتی گئی اور انسانی حقوق کے لئے لوگ صف بستہ ہو گئے۔ اس میں مذہب کی بھی کوئی قدغن نہ تھی صرف کشمیری ہونا لازم تھا اور لوگ قربانیاں دینے پر تیار ہو گئے۔ کشمیر وہ خطہ ہے جو سینکڑوں سالوں سے امن کا گہوارہ تھا۔ لوگوں کی آپس میں محبت اور بھائی چارہ تھا سب بغیر تفریق مذہب ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے تھے، لیکن انگریزو ں کی مہاراجہ کوکشمیر کی فروخت کے بعد ظلم واستبداد نے وہاں کے لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے کھڑا ہونے پر مجبور کیا، گزرتے وقت کے ساتھ یہ تحریک ترقی کرتی گئی اور بیسویں صدی میں زور پکڑ گئی۔ علامہ اقبال اور دوسرے رہنماؤں نے مل کر کشمیر کمیٹی کی بنیاد رکھی اور کشمیریوں کے حقوق کے سلسلہ میں قانونی جدوجہد ہوئی اور لوگوں کو منظم طور پر اکٹھا کیا گیا۔ وکلا نے کشمیری سیاسی قیدیوں کے انڈیا سے جموں اور سرینگر جا کر مقدمات لڑے، لیکن بد قسمتی سے کچھ لوگوں کے خصوسی مفاد نے اس تنظیم کے کام میں روڑے اٹکائے اور آزادی ِ کشمیر کی تحریک کو سبوتاژ کیا اور یہ ظلم کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔

اگست 1947ء میں انڈیا کی تقسیم کے بعد مہاراجہ کشمیر نے اس ڈر سے کہ پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہو گی اور کشمیر پہلے ہی مسلم اکثریتی ریاست تھی تو اس سے مہاراجہ کی حکمرانی خطرے میں پڑ جائیگی۔ انہی دنوں میں کشمیر کی آزادی کی مسلح تحریک نے بھی اس کو یہ یقین دلا دیا کہ ان حالات میں پاکستان کے ساتھ ملنے کے بعد مہاراجہ کی حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔ اس خوف سے کہ مسلمان اُس کا اقتدار چھین لیں گے اُس نے بھارتی لیڈروں کے اس ڈراوئے پر کشمیر کا الحاق پاکستان کی بجائے بھارت سے کر دیا کہ کم از کم اُس کی ہم مذہب اکثریت اس کی حکومت قائم رکھے گی، لیکن اُس کا یہ خیال خواب ہی رہا۔ شیخ عبد اللہ مرحوم جو ایک وقت میں جموں اور کشمیر کی آزاد ریاست کے حامی بن گئے اور مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے انڈیا کے دباؤ کے تحت اور قید و بند کی صعوبتوں سے بچنے کیلئے جموں اور کشمیر کو آزاد ریاست کی بجائے صوبہ بنانے پر تیار ہو گئے، اس عمل سے وہ اپنا سیاسی قد و کاٹھ کھو بیٹھے جو تحریک آزادی کے لیڈر کے طور ہر شروع میں ان کا تھا اور شیر کشمیر کا یہی فیصلہ کشمیریوں کی قسمت کا سیاہ باب بن کیا۔ غالباً یہ 1975-76ء کی بات ہے میں اُس وقت گورنمنٹ ڈگری کالج میر پور میں طالب علم تھا ڈاکٹر فاروق عبد اللہ وہاں آئے اور ہوٹل میں ایک اجلاس کے دوران آزادی پر تفصیلاً بات چیت ہوئی، اور انہوں نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ اگر ہم تحریک آزادی کشمیر میں گرفتار ہو جائیں گے تو کیا آپ ہماری مدد کریں گے، اس وقت وہاں موجود طلباء نے یہ عہد کیا کہ کشمیر کی آزادی کیلئے ہر طالب علم اپنی جان کی بازی لگا دے گا، لیکن اقتدار کے ایوانوں نے اُن کو بھی اپنی بات پر قائم نہ رہنے دیا تو پھر یہ اقتدار کا کھیل محبوبہ مفتی اور شیخ عبد اللہ کے خاندانوں میں بٹ گیا کشمیر کی قسمت میں کبھی گورنر راج تو کبھی ایک خاندان کی حکومت تو کبھی دوسرے کی۔

میں کشمیری ہونے کے ناطے ان ادوار کی پاکستان کی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہو ں کہ انہوں نے نہ تو سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو پوری طرح دنیا کے سامنے اُجاگر کیا اور نہ ہی خارجہ پالیسی مثبت انداز میں چلائی گئی۔ آہستہ آہستہ اقوام متحدہ کی کشمیر کی حق خودارادیت کی قراردادوں پر گرد پڑنی شروع ہوگئی۔ کشمیر کے دونوں حصوں میں رائے شماری کا عمل پیچھے چلا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو ریاست سے صوبہ بننے کے بعد بھی اس مسئلہ کو متعلقہ فورم پر مناسب انداز سے پیش نہ کیا گیا اس سے ہندوستان اپنی ہٹ دھرمی میں بڑھتا گیا، لیکن کیا پاکستان اور اقوام عالم کی کمزوری اور انڈیا کی سختی نے کشمیریوں کے عزم اور تحریک کو دبا دیا ہرگز نہیں وہ قوم جس کے بارہ میں کہا جاتا تھا کہ انتہائی پُر امن قوم ہے اور " تپسی تے ٹھس کر سی")یعنی جب گرم ہو تو خود ہی پھٹے گا) پر کار بند تھی نے اس آزادی کی آگ کو بجھنے نہ دیا۔ کسی زمانے میں بھارت یہ الزام لگاتا تھا کہ اس آزادی کی تحریک میں پاکستانی پٹھان اور افغان شامل ہیں اس کو بہانہ بنا کر بھارت نے لاکھوں انڈین فوجی کشمیریوں کی تحریک کو دبانے کیلئے کشمیر میں داخل کر کے ظلم کی انتہا کر دی۔ کون سی تکلیف اور دکھ ہے جو کشمیریوں کو نہ دیا گیا ہو۔ ماں بہن اور بیٹی ایک مرد کی ہر عزت سے بڑھ کر ہوتی ہے جب وہ قربان ہونے لگے اور اُ س کی عزتیں پامال ہونے لگیں تو پھر چنگاری بڑھ کر شعلہ بنتی گئی جو راہ میں آنے والی ہر چیز کو بھسم کرنے کا جذبہ رکھتی ہے۔ چاہے وہ مودی ہو، آر ایس ایس ہو یا پاکستان میں پائے جانے والے بھارتی ایجنٹ۔

اے کا تبِِ تقدیر یہ کشمیر کی تصویر ہے

ہر طرف لاشیں ہیں خون ہے موت ہے زنجیر ہے

مجھے ایک کشمیری ہونے پر فخر ہے کہ میری ہی برادری کے ایک جوان برہان الدین وانی نے قربانی کی داستان رقم کی ہے اور وہ شمع جلا ئی ہے جو ان بزدلوں کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جب ہزاروں جانیں اور عزتیں آزادی ِ وطن کیلئے نثار کر دی جائیں اور انسان اس عزم اور ارادہ سے اُٹھے کہ وطن تجھے آزاد کروانا ہے۔ ہم نے آزاد ماحول میں سانس لینا ہے تو پھر منزلیں آسان ہو جاتی ہیں جدوجہد کا سفر جاری رہتا ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر دم لیتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ یہ آزادی کا سفر کتنا لمبا ہے، دشمن کتنی جانوں مالوں اور عزتوں سے کھیلتا ہے جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے یہ تحریک نہ دب سکتی ہے نہ مر سکتی ہے۔میں آج دنیا میں بسنے والے کشمیریوں کو نہایت ادب سے دعوت دیتا ہوں کہ اپنے بہن بھائیوں کی اخلاقی مدد کر یں اور سفارتی سطح پر دنیا میں اتنا شور مچائیں کہ وہ دنیا جو کشمیریوں پر 70 سالہ زیادتیوں پر خاموش بیٹھی ہے ہل جائے اور مظلوم کو حق دلانے میں کھڑی ہو جائے۔ اگر چہ پاکستان سے ہمارے حق میں آواز اٹھتی ہے لیکن جتنی زور آور ہونی چاہیے تھی۔ نہیں اٹھی اب پاکستانیوں کا بھی امتحان ہے کہ مظلوم بھائیوں کی مدد کیلئے کھڑے ہوتے ہیں۔ اے کشمیر کی نسلو، اٹھو اپنا مقدمہ دنیا اور خدا کی عدالت میں لڑو، اور اس آزادی پر سب کچھ قربان کر دو ہمارا کشمیر آخر کب تک جلتا رہے گا۔

زندہ ہے پر مانگ رہی ہے جینے کی آزادی

دیو کے چنگل میں شہزادی یہ کشمیر کی وادی

مزید :

رائے -کالم -