امریکہ، مودی اور ہندوستان کے انتخابات(4)

امریکہ، مودی اور ہندوستان کے انتخابات(4)
امریکہ، مودی اور ہندوستان کے انتخابات(4)

  

مولانا ابوالکلام حلقہ فکر کے بعض افراد کو جن کا خیال ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا اور ہم ہندوستان میں رہتے تو تعداد میں زیادہ ہونے کے باعث زیادہ مضبوط ہوتے،ہو سکتا ہے سپین کے مسلمانوں کے انجام سے تقابل مبالغہ آمیر لگے، لیکن اگر وہ ہندوستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو انہیں معلوم ہوگا ہندوستان میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ تعداد بدھ مت کے چاہنے والوں کی تھی اور یہ کہ بدھ مت کا جنم ہندوستان میں ہوا تھا جہاں وہ چھا جانے کے بعد آگے بڑھ کر برما اور جاپان تک پہنچ گیا، جہاں آج بھی پوری آب و تاب سے قائم ہے جبکہ ہندوستان میں صدیوں کے راج کے باوجود یہاں اس کے آثار قدیمہ کے طور پر نشانات ہی باقی رہ گئے ہیں۔ یعنی یہ کہ برہمن سماج نے یہاں اچھے اچھوں کے پاؤں جمنے نہیں دیئے۔ یہ اور بات ہے کہ ہندوستان میں وقت کے ساتھ ساتھ ایک علیحدہ تہذیب کے طور پر ابھرنے والی برصغیر کے مسلمانوں کی ثقافت اگر ہندو ثقافت کے محاصرے میں زندہ رہ گئی تو اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اسے اقتدار کا تحفظ حاصل رہا اور دوسری وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ مغرب میں مسلمانوں کے ملک سے اس کا رابطہ اگر مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد کا سبب بنا تو ان کی سلامتی کا ضامن بھی ثابت ہوا۔ ہندوستان میں گزشتہ اور حالیہ انتخابات کے دوران کانگریس کے زبردست زوال کو بعض تجزیہ کار باہر سے تعلیم یافتہ انگریزی بولنے والے مراعات یافتہ طبقے کا زور ٹوٹ جانے سے تعبیر کر رہے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ اسکی جگہ چائے والے کی قیادت میں غریب غربا نہیں بلکہ دوسرا مراعات یافتہ طبقہ برسراقتدار آگیا ہے جو قدامت پسند ہے۔

اور یہ طبقہ ہندوستان کو اسی طرف لے جا رہا ہے جس طرف پوری دنیا جارہی ہے۔ وہ کیا سمت ہے اس بارے میں مغربی بنگال سے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر آنے والی قومی اسمبلی کی رکن ماھوا ماوترانے وزیراعظم مودی کی افتتاحی تقریر کے جواب میں اپنی پہلی لیکن دھواں دھار تقریر میں ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی۔ ماہوا ماوترانے ہندوستان کے عوام کو فسطائیت کے آثار کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وہ تمام علامات نظر آ رہی ہیں جو ہٹلر کے اسی طرح بھاری اکثریت سے منتخب ہو کر آنے کے بعد جرمنی میں نظر آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی علامت وہ طاقتور اور مسلسل لیکن سطحی، تنگ نظری اور تعصب پر مبنی قوم پرستی ہے جو بھارت کے قومی مزاج میں سرایت کرتی جارہی ہے اور جو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کرنے کی قوم پرستی ہے۔ دوسری علامت انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کے بارے میں حقارت آمیز رویہ ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ پانچ سال کے دوران نفرت پر مبنی جرائم میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ تیسری علامت انہوں نے میڈیا پر ناقابل تصور دباؤ اور کنٹرول کو قرار دیا جس کے نتیجے میں ہندوستان کے ٹی وی چینل زیادہ وقت حکمران جماعت کا راگ الاپنے میں صرف کرتے ہیں۔ چوتھی علامت انہوں نے ”قومی سلامتی کا جنون“ بتائی جس کے نتیجے میں پورے ملک پر خوف کا ماحول طاری ہے جو نئے دشمن پیدا کر رہا ہے۔ پانچویں علامت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ حکومت اور مذہب آپس میں گندھ گئے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ مسلمانوں کوہدف بنانے کے لئے قوانین میں ترمیم کی جارہی ہے۔

چھٹی علامت جو ان کی نظر میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔انہوں نے دانشوروں اور فنون لطیفہ کی تحقیر اور اختلاف رائے کو کچلنا بتائی جو ہندوستان کو واپس تاریک دور میں لے جارہی ہے۔ آخری علامت کی نشاندہی انہوں نے انتخابی نظام میں آزادی اور خود مختاری کا دم گھونٹے جانے کے طور پر کی۔ ماہوا ماوترا کی بتائی ہوئی علامات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہٹلر اور نریندرمودی کا معاملہ کافی ملتا جلتا لگتا ہے۔ ہٹلر کے نام کے ساتھ اگر یہودیوں کے قتل عام کا ذکر لازم قرار پاتا ہے تو نریندر مودی کی پہچان اور مقبولیت گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام سے ہوئی۔ہٹلر کے خیال میں اگر یہودیوں کا شجرہ نسب مختلف ہونے کے باعث ان کے جرمن قوم کا حصہ بننے کا کوئی جواز نہیں تھا تو نریندرمودی اور بی جے پی کا ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں خیال اس سے کچھ مختلف نہیں۔ ہٹلر نے اگر جرمن قوم کو سفید فام نسلی برتری کے زعم میں مبتلا کردیا تھا تو مودی اور بی جے پی بھی پنڈتوں کے ذریعے اسی نوعیت کے احساس برتری کو فروغ دے رہے ہیں۔

ہندوستان میں یہ رجحان کوئی نیا نہیں بلکہ ہندوستان کے بڑے بڑے دانشور جن میں بعض عالمی شہرت کے حامل ہیں۔ ماضی کے ہندوستان کو ایک عظیم تہذیب اور ریاست کے طور پر جس کی بنیاد ہندتوا پر تھی اجاگر کرنے میں ایک عرصے سے مصروف ہیں، جبکہ ان سے اختلاف کرنے والے اسی پائے کی شہرت کے حامل دانشوروں کا کہنا ہے کہ ہندو ازم جس کا کوئی بانی نہیں وقت کے ساتھ ساتھ آپس میں مدغم ہونے والی مختلف تہذیبوں اور اکائیوں کا مجموعہ ہے اور یہ کہ اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ دیگر مذاہب کی طرح یہ کوئی مذہب نہیں، اور نہ ہی انگریزوں سے پہلے جنہوں نے ہندوستان کو اپنی ضرورت کے تحت ہندوستان کو ایک ریاستی اکائی کے طورپر منظم کیا۔ یہ کوئی ریاست تھی بلکہ راجواڑوں کا مجموعہ تھا …… لیکن بہرحال سچ اور جھوٹ کی تمیز کئے بغیر بھارت کے ماضی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوششیں اس لحاظ سے بے حد کامیاب نظر آتی ہیں کہ ایک طرف عام شہری جہاں ”گاؤموتر“ کو مقدس اور تریاق سمجھتے ہیں وہاں ہندوستان کے وزیراعظم بھی یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ کامیابی کے راستے میں رکاوٹیں دور کرنے اور دولت و خوشحالی کا سبب بننے والے ہندوؤں کے دیوتا گنیش نے جن کا منہ ہاتھی جیسا ہے، پلاسٹک سرجری کے ذریعے یہ شکل اختیار کی تھی۔

یعنی یہ کہ ہزاروں سال قبل ہندوستان کے ڈاکٹر پلاسٹک سرجری کے فن میں اتنا آگے نکل چکے تھے کہ ایک دیوتا کا سرکٹ جانے پر اس کی جگہ ہاتھی کا سر لگانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور پھر اس کی شکل و صورت بھی سرجری کے ذریعے سنواری تھی، مودی کا اس کارنامے اور خود گنیش پر کتنا پختہ یقین ہوگا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 5سال قبل اپنی انتخابی مہم میں عوام سے جو وعدے کئے تھے۔ ان کے مطابق نہ تو انہوں نے لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کرکے ہر شہری میں 3لاکھ روپے فی کس تقسیم کئے، نہ نوجوانوں کو نوکریاں دیں، بلکہ ان کی بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔ کسانوں کو زمینیں بھی نہیں ملیں، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس کرنسی نوٹ منسوخ کرنے سے شہریوں کو بے حد پریشانی ہوئی اور معیشت کو زبردست دھچکا لگا، لیکن ان سب منفی عوامل کے باوجود ہندتواکے زور پر اگر مودی پہلے سے بھی زیادہ ووٹوں سے جیتے تو ان کی نظر میں یہ یقینا رکاوٹوں کو دور کرنے والے دیوتاگنیشں جی کا کمال ہی ہو گا۔

گنیش جی کی پلاسٹک سرجری جیسی باتوں پر یقین رکھنے اور انہیں بیان کرنے والے صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ امریکہ میں بھی پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں تحقیق کے بعد عالمی شہرت کی حامل پرنسٹنس یونیورسٹی کے پروفیسر ھیری فرینکفرٹ نے ایک پوری کتاب لکھ ڈالی، جس کا عنوان انہوں نے ”بل شٹ“ رکھا، جسے اردو میں ”گائے کا گوبر“ یا صرف ”گوبر“ کہا جاسکتا ہے۔ پروفیسر فرنیکفرٹ کا کہنا ہے کہ جولوگ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور انہیں اس کے عواقب اور نتائج کا اندازہ بھی ہوتا ہے، لیکن جولوگ جھوٹی اور بے بنیاد باتوں کو پورے یقین کے ساتھ سچ سمجھ کر بولتے ہیں ان کی باتیں ”گوبر“ ہوتی ہیں۔ (جس کا اپلے بناکر بطور ایندھن استعمال کرنے کا کچھ فائدہ تو ہوسکتا ہے،لیکن کہلاتا وہ گوبر ہی ہے) اس معاملے کو اگر وسیع النظری سے دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ جھوٹ اور ”گوبر“ کا معاملہ صرف ہندوستان اور امریکہ تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں اس کی بہتات نظر آتی ہے۔ جھوٹ کے معاملے میں تو ہم بھی کسی سے پیچھے نہیں، بلکہ ملک میں دو ہی صنعتیں بغیر کسی رکاوٹ کے دن رات ترقی کرتی نظر آتی ہیں، ایک آبادی میں اضافے کی اور دوسرے جھوٹ کی۔ ہمارے ہاں ’بل شٹ‘ یا گوبر کی بھی کمی نہیں لیکن اس معاملے میں ہندوستان شاید ہم سے آگے ہے۔ (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -