کشمیرکا سودا؟

کشمیرکا سودا؟
کشمیرکا سودا؟

  


ہماری قومی سیاست میں زہر ناکی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کوئی اس کی وجہ سے کافر قرار پاتا ہے،کسی کو یہودی ایجنٹ کہا جاتا ہے،کسی پر غداری کے الزام لگائے جاتے ہیں اور کوئی قادیانی نواز ہونے کی سند سے سرفراز ہوتا ہے۔ڈاکو، لٹیرے، چور، بددیانت کی ڈگریاں بھی حسب ِ موقع بانٹی جاتی ہیں،مگر میرے لئے آج کل جو چیز پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے، اُس کا تعلق کشمیر سے ہے۔ وزیراعظم عمران خان پر اپوزیشن الزام لگا رہی ہے کہ انہوں نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے……یوں تو یہ سودے کا لفظ ہی عجیب اور بے تُکا ہے۔ سودے کا تو مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کے بدلے دوسری چیز دی یا لی جائے۔کشمیر کا سودا اگر ہوا ہے تو اس میں کیا دیا اور کیا لیا گیا ہے،عمران خان کو اِس سودے میں کیا ملا ہے یا انہوں نے کشمیر کا سودا کر کے کیا حاصل کیا ہے؟جو اُن کے لئے عزت، اقتدار اور حب الوطنی سے بھی زیادہ ہے۔

کوئی احمق ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ کشمیر پر سمجھوتہ کر کے وہ اپنے اقتدار کو دوام دے سکتا ہے۔اسی طرح یہ بات بھی کسی احمق کے ذہن میں ہی آ سکتی ہے کہ کشمیر کا سودا اُسے عوام کے دِلوں میں امر کر سکتا ہے،بلکہ اس کے برعکس زمینی حقیقت یہ ہے کہ کشمیر پر ذرا سی کمزوری دکھانے والا بھی عوام کی نظروں سے ہی نہیں گرے گا،بلکہ دِلوں سے بھی بے توقیر ہو کر نکل جائے گا، مگر اس کے باوجود مسلسل عمران خان کو کشمیر کا سودا کرنے والا حکمران قرار دیا جا رہا ہے۔اپوزیشن کا ہر چھوٹا بڑا رہنما یہ سوچے بغیر کہ اس قسم کی باتوں کا کشمیر کے مسئلے پر کیا منفی اثر پڑ سکتا ہے،اپنی دھن میں عمران خان کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔

اب یہ کہنا کہ بھارت کو72برسوں میں تو آرٹیکلز ختم کرنے کی جرأت نہ ہوئی، اب اُس نے 370 اور35اے اچانک کیسے ختم کر دیئے؟اگر کوئی یہ کہے کہ بھارت نے یہ قدم پاکستان کی انڈر سٹینڈنگ سے اٹھایا ہے تو اُسے کوئی منطقی ثبوت بھی دینا چاہئے۔اگر ماضی میں بھارتی حکمرانوں نے یہ حرکت نہیں کی تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ انہیں پاکستان کی ناراضی کا خوف تھا،بلکہ وہ جانتے تھے کہ اس عمل کے بعد جو غدر مچے گا اُسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ آرٹیکلز کے پردوں میں چھپا ہوا کشمیر کنٹرول کرنے کے قابل تھا،ان آرٹیکلز کے خاتمے سے تو وہ سرزمین ِ بے آئین بن گیا ہے، جس پر تسلط برقرار رکھنے کے لئے قدم قدم پر بے پناہ طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش آئے گی۔مجھے تو وزیراعظم عمران خان کی یہ بات بالکل درست لگتی ہے کہ نریندر مودی نے370 اور35 اے ختم کر کے درحقیقت بھارت کی تباہی کو آواز دی ہے۔ وہ خود ہی ایک ایسے جال میں پھنس گئے ہیں،جس سے نکلنے کی اب کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔

ابھی دو دن پہلے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واشگاف لفظوں میں کہا ہے کہ کشمیر پر سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیا فوج کے بغیر کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کر سکتا ہے،کیا پاک فوج کی موجودگی میں کشمیر کا سودا کرنے کا کوئی سیاست دان یا حکمران سوچ بھی سکتا ہے؟پھر صرف سیاسی فائدے کے لئے ایسے الزامات کیوں لگائے جاتے ہیں، بیرون ملک کیوں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں حکمران کشمیر کے مسئلے کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟مگر اپوزیشن ختم نہیں کرنے دے رہی۔جس ملک میں کئی نسلیں ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ لگاتے لگاتے دُنیا سے چلی گئیں،کیا وہاں اتنی آسانی سے کوئی کشمیر کی بساط لپیٹ سکتا ہے؟کیا پاکستان کے یوم آزادی اور یوم سیاہ کے موقع پر دُنیا نے دیکھا نہیں کہ کشمیر کی آزادی کے لئے پوری پاکستانی قوم یک آواز ہے اور اُسے پاکستان کی شہہ رگ سمجھتی ہے۔

پاکستان کی اندرونی سیاست مختلف مسائل کا شکار ہے۔اپوزیشن احتساب کی زد میں ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس وقت جیل میں ہیں،لیکن یہ بڑی ستم ظریفانہ بات ہے کہ اس قانونی جنگ کو سیاسی جنگ میں تبدیل کر کے اس میں کشمیر جیسے دیرینہ مسئلے کو بھی گھسیٹ لیا جائے۔اندرونی حالات کی وجہ سے کشمیر پر یکساں موقف اختیار کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جائے اور دُنیا بھر میں یہ تاثر جائے کہ حکومت کشمیر کے معاملے میں اکیلی ہے۔اس کا فائدہ کسی اور کو نہیں صرف بھارت کو ہو گا،جو پہلے ہی یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ آرٹیکل ختم کر کے کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے عمل کی کشمیری بھی حمایت کر رہے ہیں اور پاکستان کے اعتدال پسند سیاست دان بھی اس کے ساتھ ہیں،حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔

ہر طرف سے بھارت کی مذمت ہو رہی ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھارت نے کشمیر کی حیثیت ختم کر کے اچھا کیا ہے،بلکہ یہ تاثر عام ہے کہ بھارت کے اس اقدام کی وجہ سے مسئلہ کشمیر بھی زندہ ہو گیا ہے اور اُس کی گونج خود بھارت کے اندر بھی سنائی دے رہی ہے،جب پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا مَیں بھارت پر حملہ کر دوں تو خود شہباز شریف جو اُن کے بہت بڑے ناقد ہیں، پیچھے ہٹ گئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ سوال اس پس منظر میں کیا تھا کہ وہ ہر اقدام اُٹھا رہے ہیں اور انہوں نے سفارتی محاذ پر کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ملک کے اندر بھی اُن کی حکومت مسئلہ کشمیر کو پوری شدت سے اُٹھا رہی ہے۔سو یہ تمام باتیں اس بات کی نفی کرتی ہیں کہ پاکستان نے کشمیر کے مسئلے پر کوئی سودے بازی کی ہے،جس کے نتیجے میں بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا جارحانہ قدم اٹھایا ہے۔

کشمیر کوئی مکان،پلاٹ یا گاڑی نہیں جس کا آسانی سے کوئی سودا کر سکے،اس کے تو کئی اسٹیک ہولڈرز اور کئی مالک ہیں۔سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر تو خود کشمیری ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بے شمار قربانیاں دے کر اس تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے۔کشمیر کا کوئی بھی حل اُن کی مرضی و منشا کے برعکس کیسے نکل سکتا ہے۔بھارت، پاکستان، چین یا کوئی دوسرا ملک کشمیریوں کی تقدیر کا فیصلہ کرے گا تو اُسے قبولیت کیسے حاصل ہو گی؟ کشمیریوں کی مرضی کے بغیر کشمیر کا حل نکلنا ہوتا تو آج72 سال بعد بھی بھارت اسے اپنا حصہ بنانے کے لئے دیواروں سے سر نہ ٹکرا رہا ہوتا۔اُس نے اِس دوران کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے،کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ بنائے، کشمیریوں کو اقتصادی ترقی کے لولی پاپ دیئے، فوج کشی کی گئی،مگر کشمیری اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔اُن کا رشتہ کسی آرٹیکل سے نہیں،بلکہ آزادی سے ہے،اِس لئے وہ بالکل واضح ہیں کہ انہیں کس سمت میں جانا ہے، سو یہ سوچنا بھی عبث ہے کہ کشمیریوں کے ہوتے ہوئے کوئی بالا بالا اس مسئلے کا حل تلاش کر سکتا ہے۔

اس مسئلے کے دوسرے بڑے اسٹیک ہولڈرز پاکستانی عوام ہیں۔ 22کروڑ پاکستانی کشمیر کے لئے کٹ مرنے کو تیار ہیں۔آج اگر پاکستانیوں کا جذبہ دیکھیں تو اُن کا بس نہیں چل رہا کہ کسی طرح سری نگر پہنچ کر مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد کریں اور قابض و ظالم بھارتی فوج کی تِکا بوٹی کر دیں۔حالیہ دو دِنوں میں پاکستانیوں نے کشمیری بھائیوں کے ساتھ جس طرح پُرجوش اظہارِ یکجہتی کیا ہے، وہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر ہر پاکستانی کے دِل میں بستا ہے۔کشمیر کی تیسری اہم اسٹیک ہولڈر ہماری مسلح افواج ہیں۔ بھارت کی طرف سے آئے روز لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی ہے،جس سے ہمارے فوجی جوان شہید ہوتے ہیں،فوج کے جوابی وار سے بھارتی فوجی بھی اُس سے بڑی تعداد میں جہنم واصل ہوتے ہیں،پاکستانی فوج کا موقف چیف آف آرمی سٹاف کی زبان سے سب نے سنا ہے کہ کشمیر ہماری جان ہے، اُس پر کسی سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب اتنی واضح صورتِ حال میں جب یہ آوازیں آتی ہیں کہ حکمرانوں نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے، تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔سودا کر کون سکتا ہے،اس کا اختیار تو کسی کے پاس ہے ہی نہیں۔کشمیر تو ہمارے ایمان اور اعتقاد کا حصہ ہے،جس کی بنیاد یہ ہے کہ اس جنت نظیر وادی پر بھارت نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے،جس کا اُس کے پاس کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں،پھر وہ اس قبضے کے دوران نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے،ہزاروں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے۔اُس کے ظلم و جبر سے آزادی کے لئے ہر قیمت ادا کرنے کے لئے نہ صرف کشمیری،بلکہ پاکستانی بھی ہمہ وقت تیار ہیں۔یہ کھلی حقیقت ہے جسے72سال کا بھارتی جبر بھی مٹا نہیں سکا۔

مزید : رائے /کالم


loading...