مقبوضہ کشمیر کا مستقبل

مقبوضہ کشمیر کا مستقبل
مقبوضہ کشمیر کا مستقبل

  

پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے اور یوں 50سال بعد یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچ گیا ہے۔ مبصرین اسے بھارت کی بڑی سفارتی شکست قرار دے رہے ہیں۔دوسری طرف عالمی ذرائع ابلاغ نے دُنیا بھر میں منائے جانے والے یوم سیاہ کو خاصی کوریج دی ہے اور بھارت کا سیاہ چہرہ بے نقاب کیا ہے، لیکن کیا عالمی برادری بھارت کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب بظاہر نفی میں دکھائی دیتا ہے۔گجرات کا قصاب کشمیر میں خطرناک کھیل کھیلنے میں مصروف نظر آرہا ہے۔ مودی برصغیر کو تیزی کے ساتھ عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے۔چند روز قبل یہ خبر آئی تھی کہ مودی سرکار نے دُنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم سے ہٹانے کے لئے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔

بھارتی زیر تسلط علاقے (مقبوضہ کشمیر) میں چیک پوسٹ بنا کر پاکستانی جھنڈا لہرا دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مودی سرکار لائن آف کنٹرول(ایل او سی) اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر اس حوالے سے جعلی جھڑپ کا ڈرامہ رچائے گی۔ ڈرامے کے تحت بھارتی فوج دکھائے گی کہ پاکستان نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ اس جعلی کارروائی کو لائن آف کنٹرول کے اس پار پاکستان کا آپریشن قرار دیا جائے گا۔ بتایا جائے گا کہ پاکستان نے پہلے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحد پار کارروائی کی، جس کے بعد بھارت نے جوابی کارروائی کی۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مودی سرکار بھارتی میڈیا کے ذریعے اس ڈرامے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی۔

وزیراعظم کے ٹویٹ کے ساتھ پڑھا جائے تو صورتِ حال کی سنگینی کا زیادہ ادراک ہوتا ہے، جس میں عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حالیہ فیصلوں کے اثرات صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں رہیں گے،بلکہ بھارت کے مسلمان بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے اور معاملہ بالآخر پاکستان پر حملے تک پہنچے گا،تو خطرناک صورتِ حال کا زیادہ ادراک ہوتا ہے۔وزیراعظم نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ نازی ازم سے متاثر آر ایس ایس کے نظریات کے سائے میں مقبوضہ کشمیر میں کرفیو،کریک ڈاؤن اور کشمیریوں کے قتل عام کے مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ بھارت کی کوشش ہے کہ نسلی بنیادوں پر نسل کشی کا سہارا لے کر کشمیر میں آبادیات کا تناسب تبدیل کر دیا جائے۔ ہندو راج کے کارندے ہٹلر کے لبرل ازم ہی کی ایک قسم ہیں۔

مندرجہ بالا دونوں خبروں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ دنوں میں نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کے شدید خدشات ہیں،بلکہ بھارتی حکومت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے پاکستان پر حملہ بھی کر سکتی ہے۔ نریندر مودی نے گجرات میں فسادات کراکے بے شمار مسلمانوں کو قتل کیاتھا اور اپنی اس انتہا پسند سیاست کی وجہ سے وہ نہ صرف گجرات کا وزیراعلیٰ بنا،بلکہ بعدازاں اسی سیاسی راہ پر چل کر وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ بھارتی گجرات کی فضا میں بزنس ہے۔ نریندر مودی بزنس مین تو نہیں ہیں تاہم انہوں نے سیاسی دہشت گردی کے کاروبار میں اپنی اہلیت ضرور ثابت کی ہے۔ بھارتی صوبہ اُترپردیش میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں اور انتخابات میں اُن کے ووٹ خاصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے وہاں سے ایک بھی مسلمان امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا، مگر اس کے باوجود بی جے پی نے وہاں کامیابی حاصل کی اور آج ریاست اترپردیش کے تخت پر ایک انتہا پسند ہندو براجمان ہے،جو مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ نریندر مودی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ہندو ووٹوں سے برسراقتدار آ سکتا ہے اور اسے مسلمانوں کے ووٹوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

بھارت میں مسلمانوں کی کوئی قومی سطح کی پارٹی نہیں ہے۔ بیشتر مسلمان کانگریس یا بی جے پی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ مسلمانوں کی علاقائی سیاسی پارٹیاں ہیں،جو انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور کامیابی بھی حاصل کرتی ہیں،مگر بھارت کے قومی معاملات میں مسلمانوں کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں تیار کی جانے والی ریسرچ رپورٹ بھی یہی بتا رہی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بھارت کی کل آبادی کا تقریباً 14 فیصدہے،جبکہ ملازمتوں میں ان کا حصہ3فیصد بھی نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بھارتی جریدے میں مسلمانوں کی حالت زار بیان کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ انہیں منظم انداز میں دلتوں اور شودروں سے بھی نچلے مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اصولی طور پر کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہئے تھا، مگر ماؤنٹ بیٹن اور بھارتی رہنماؤں کی سازشوں سے بھارت نے اس کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا اور یہ قبضہ قائم رکھنے کے لئے بے شمار فوجی وہاں تعینات کئے گئے ہیں۔

بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ایسے کشمیری رہنما بھی ملتے رہے ہیں،جو بھارتی مفادات کی وکالت کرتے تھے اور کشمیر کوبھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کی گردان کرتے رہے ہیں، مگر بھارت میں جس طرح کشمیرکی آئینی حیثیت تبدیل کی گئی ہے اس پر تمام کشمیری لیڈر ایک ساتھ کھڑے ہیں اور بھارت کی پرزور مخالفت کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مختلف آئینی آرٹیکلز کو تبدیل کرنے کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کیا ہوا ہے۔ اس کرفیو کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر پوری دنیا سے کٹا ہوا ہے،مگر اس کے باوجود لوگ مظاہرے کر رہے ہیں۔ بھارت نے آئینی ترامیم کے خاتمے سے تو کچھ حاصل نہیں کیا، مگر پورے کشمیر کو اپنے خلاف کر لیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مودی سرکار آئینی شقوں کے خاتمے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نپٹنے کے قابل ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ا س سلسلے میں بھارت اسرائیل کے تجربات سے فائدہ اٹھائے گا۔بھارت کے اسرائیل سے قریبی تعلقات ہیں۔ اسرائیل نے چند برس قبل اپنا دارالحکومت تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا تھا، جس پر فلسطینی سراپا احتجاج ہیں۔ صدر ٹرمپ نے فلسطینی رائے عامہ کو سرے سے نظر انداز کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ بھی یروشلم منتقل کیا۔ اس پرخاصا احتجاج ہوا، مگر ٹرمپ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔

عمران خان کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں۔ بھارت اگر مقبوضہ کشمیر میں معاملات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوا تو وہ پاکستان پر حملہ بھی کر سکتا ہے، لیکن ایسا کرنے کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ ایسی کوئی حرکت اس خطے میں ایٹمی جنگ کی وجہ بن سکتی ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا بخوبی ادراک ہے۔اِس لئے غالب امکان یہی ہے کہ بھارت آزاد کشمیر کے کچھ علاقوں میں محدود مداخلت کر سکتا ہے، لیکن اس امر کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ کشمیر کی جنگ مخصوص علاقوں تک ہی محدود رہے گی۔ افواج پاکستان بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں اور اس سلسلے میں اُن کی حکمت عملی بالکل واضح ہے۔بھارت کی کسی بھی حرکت کا سخت جواب دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

بھارت نے مہاراجہ ہری سنگھ کی وہ دستاویز ابھی تک دُنیا کو نہیں دکھائی، جس کی رو سے بھارت نے کشمیر کو اپنا حصہ بنایا تھا۔بہت سے محققین اس دستاویز کو تلاش کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ کچھ لوگ تو ایسی کسی دستاویز کے وجود سے ہی انکار کرتے ہیں۔ بھارت نے آئین سے کشمیر کی مختلف شقوں کا خاتمہ کر کے مسئلے کے حل کی طرف نہیں، بلکہ مسئلے کو زیادہ گمبھیر بنانے کی طرف قدم اُٹھایا ہے۔ یہ معاملہ بھارتی عدالتوں تک پہنچا ہے۔ بھارتی عدالتیں اس معاملے میں زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر نہیں آ رہی ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ اس معاملے کو بھی اسی طرح التواء میں رکھے گی،جس طرح بابری مسجد کے مقدمے کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

بھارت میں جمہوریت ہے، بھارتی اس پر فخر کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ بھارت میں کشمیریوں کے حق میں آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں،مگر ان آوازوں سے زیادہ انتہا پسند ہندو شور مچارہے ہیں۔ حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان میں پوری قوم کو احساس ہے کہ کشمیر وطن عزیز کی شہ رگ ہے۔ پاکستان میں بھارتی فیصلے کے خلاف شدید رد عمل نظر آ رہا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ بھی کشمیر کے مسئلے پر خاصی توجہ دے رہے ہیں، مگر بظاہر مودی مسئلہ کشمیر کے کسی پُرامن حل کے متعلق سوچتے ہوئے بھی نظر نہیں آرہے۔ وہ آر ایس ایس کے نظریات کے مطابق سیاست کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے بھارتی جمہوریت کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتی ہے، مگر مودی کو اس کا احساس نہیں ہے وہ حادثوں کا بزنس کرکے وزارتِ عظمیٰ تک پہنچے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ گجرات کی طرح کشمیر میں بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مگر یہ ان کی خام خیالی ہے۔ گجرات میں انتہا پسند ہندو اُن کے ساتھ تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں صرف فوج اُن کے ساتھ ہے اور بھارتی فوج مودی کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کس حد تک ظلم کرتی ہے اس کا کچھ تو اندازہ ہو رہا ہے تاہم آنے والے دنوں میں صورتِ حال زیادہ واضح ہو جائے گی۔دُنیامیں ظلم کے ذریعے اقتدار کو دوام بخشنے کے تمام تجربے ناکام ہو چکے ہیں۔بھارت کے مسائل صرف کشمیر تک محدود نہیں ہیں،بلکہ کوئی ڈھائی درجن تنظیمیں انڈیا کو توڑنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ مودی جس راستے پر چل رہے ہیں اس سے بھارتی امن واستحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -