بھارت کا اپنی تینوں افواج کو سی ڈی ایس کے ماتحت کرنیکا اقدام محض گیڈر بھبکیا ں

  بھارت کا اپنی تینوں افواج کو سی ڈی ایس کے ماتحت کرنیکا اقدام محض گیڈر ...

لاہور (سٹی رپورٹر) عسکری ماہرین اوردفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے اپنی تینوں افواج کو سی ڈی ایس کے ماتحت کرنے کا اقدام محض گیدڑ بھبکیاں ہیں اور اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کو نہ توڈرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مرعوب کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے یہ اقدام کارگل وار کا فیصلہ تھا جس پر وہ اب عمل درآمد کر کے اپنی اندرونی شکست و ریخت پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ بھارت کے اندر علیحدگی کی جو تحریکیں چل رہی ہیں وہ ان سے پردہ پوشی کیلئے اس طرح کے فیصلے کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہر دفاعی ماہریںبریگیڈیر ریٹائرڈ غضنفر،گروپ کیپٹن( ر)ڈ اعجاز حسین ،کرنل( ر) اسد اور کرنل ( ر)فرخ نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔بریگیڈیئر( ر) غضنفر کا کہنا تھا کہ فورسسز کوکوارڈینیٹ کرنے کے لیے سی ڈی ایس کے ماتحت کیا جاتا ہے تاکہ تمام فورسسز اپنا کام باخوبی کر سکیں لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انڈیا میں مختلف علیحدگی پسند ہیں جو انڈیا سے الگ ہونا چاہتی ہیں یہ بھارتی فوج ان سے بھی لڑ رہی ہے۔کشمیرمیں بھارتی فوج کے جو انڈین فوج کی یونیفارم فارم پہن کر آر ایس ایس کے ٹریننگ شدہ مسلم مخالف غنڈے بھی شامل ہیں۔ اب وہ لوگ کشمیر میں غنڈہ گردی کر رہے ہیں اور لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ ہوئی تو اس کیلئے پاکستان بھی تیار ہے لیکن دنیا میں جب کسی دوسرے اہم مسئلے سے لوگوں کی نظر ہٹانی ہوتی ہے تو کشمیر جیسے مسئلے کو اجاگرکر دیا جاتا ہے اور اپنا کام نکال کر اس کو واپس ایسی طرح چھوڈ دیا جاتا ہے۔اس حوالے سے گفتگو کر تے ہوئے گروپ کیپٹن( ر) اعجاز حسین کا کہنا تھا کہ کشمیر کے اوپر اس قسم کے فیصلے کا کوئی تعلق نہیں ہے یہ صرف اپنی فورسسز کی کارکردگی کو بہتر کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔ان کی جانب سے اس معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس معاملے پر تین مہینے می اپنا فیصلہ دے گی ۔ مسئلہ کشمیر کو مودی نے خود عالمی سطح پر اجاگر کردیا ہے جو اس کی بہت بڑی غلطی ہے ۔ اس قوت پوری دنیا کی نظریں کشمیر کی جانب ہیں ۔ ہو سکتا ہے کشمیر کے حالات مزید خراب ہوں کیونکہ جس طرح سے ان کی جد وجہد کو دبایا جا رہا ہے اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے ۔ کشمیر کا معاملہ صرف اس طرح حل ہو سکتا تھا کہ وہاں صحافیوں کو کوریج کی اجازت دی جائے اور کشمیر یوں کو ان کو خود مختار بنایا جا ئے لیکن ایسا نہیں ہو ا۔ کرنل (ر)اسد کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسسز نے کارگل وارمیں منہ کی کھانے کے بعد اس تجویز پر غور کیا کہ تمام فورسسز کی کوارڈینیشن کو بہتر بنانے کیلئے سی ڈی ایس کے ماتحت کیا جائے لیکن اس پر عمل درآمد کا اعلان اب کیا گیا ہے ۔ بھارت میں علیحدگی پسند تنظیموں کے سبب اسے اپنی سا لمیت بر قراررکھنا مشکل ہو گیا ہے ۔یونائیٹڈ نیشن میں اس سے قبل کشمیر پر 103قراردادیں پیش کی گئیں جن پر کبھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا لیکن اس حکومت کا یہ کریڈٹ ہے کہ جس نے بارہ دنوں کے اندر اندر کشمیر کی حقیقت پوری دنیا کے سامنے رکھ دی ۔ مودی حکومت جوخود کوایک جمہوری جماعت کہتی ہے اس کے اندر اتنی جرا¾ت نہیں کہ کشمیر میں ایک آزاد ریفرنڈم کروائے۔جبکہ کرنل (ر) فرخ کا کہنا تھا کہ مودی کا جو اقدام ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے وہ پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں نہتے انسانوں پر فورس کا استعمال کر رہا ہے۔ اس قدام سے بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اپنی تینوں فورسسز کو سی ڈی ایس کے ماتحت کرنا نہ کرنا ایک برابر ہے۔ یہ صرف مودی کی گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ پاکستان عوام اور افواج کا جو موقف ہے وہ واضح ہے ہم اپنی مادر ملت کی حفاظت کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔ بھارت کو سفارتی سطح پر بھی منہ کی کھانا پڑی ہے۔ پاکستان نے اسے سفارتی سطح پر بھی تنہا کردیا اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا۔ پاکستان نے واضح طور پر یہ موقف پیش کیا کہ ہم ہر حالت میں کشمیریوں کیساتھ ہیں اور ان کی جدوجہد آزادی کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔

عسکری ماہرین

مزید : صفحہ آخر


loading...