دوہرے قتل کے ملزموں کی بریت کیخلاف دائراپیلیں مسترد

  دوہرے قتل کے ملزموں کی بریت کیخلاف دائراپیلیں مسترد

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے قراردیاہے کہ ایف آئی آر درج کرواتے وقت حقائق کی بجائے خودکہانی بنانے سے سچ ہمیشہ چھپ جاتا ہے،جب بھی سچ کو چھپایا جاتا ہے تو اس کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو جاتا ہے۔چیف جسٹس نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مسٹر جسٹس اعجازالاحسن اور مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کے ہمراہ دوہرے قتل کے ملزموں کی بریت کے خلاف اپیل مستردکرتے ہوئے دیئے۔مدعی مقدمہ غلام نبی کے وکیل نے کہا اکرام اور غلام عباس نے منظور اور نور حسین کومعمولی جھگڑے پرفائرنگ کرکے قتل کردیا، ٹرائل عدالت نے ملزموں کو سزائے موت کا حکم سنایا،عدالت عالیہ نے 2009ء میں ملزموں کو شک کا فائدہ دے کربری کردیا،ملزموں نے منظور اور نواز حسین کونالہ توڑنے کے جھگڑے کے دوران فائرنگ کر کے قتل کیا،لاہور ہائیکورٹ کا ملزمان کی بریت کا حکم کالعدم قرار دیا جائے،چیف جسٹس پاکستان آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ سائٹ پلان کے تحت جائے وقوعہ کے اردگرد کوئی بھی گندا نالہ متاثر نہیں ہوا تھاجبکہ ملزمان کے گندے نالے کے ارد گرد موجود ہونے کے نشانات بھی نہیں پائے گئے،چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ وقوعہ کی من گھڑت کہانی بنائی گئی،حقائق سے پتہ چلتا ہے فریقین میں کراس فائرنگ ہوئی، چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ ٹھوس شواہد موجودنہیں ہیں،ملزموں کو بری ہوئے 9برس گزر گئے، عدالت عالیہ نے انہیں شک کا فائدہ دیا،وقوعہ کے وقت حقائق کی بجائے خودکہانی بنانے سے سچ ہمیشہ چھپ جاتا ہے،جب بھی سچ کو چھپایا جاتا ہے تو اس کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو جاتا ہے،عدالت نے ملزموں کی بریت کے خلاف دائراپیلیں مسترد کردیں۔

اپیلیں مسترد

مزید : صفحہ آخر


loading...