حکومت کے پاس کشمیر بارے کوئی  پلان نہیں تھا، احسن اقبال

  حکومت کے پاس کشمیر بارے کوئی  پلان نہیں تھا، احسن اقبال

  

اسلام آباد(صباح نیوز)مسلم لیگ(ن)کے رہنماءاحسن اقبال نے کہا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں تھا، بھارت نے ایسی کارروائی کی جس کی 72سال میں مثال نہیں ملتی،حکومت کو انتقامی کارروائیوں سے فرصت نہیں مل رہی تھی کہ کشمیر کا مقدمہ لڑتی، اتنے عرصے بعد سلامتی کونسل کا غیر رسمی اجلاس ہونا غنیمت ہے، وزیر خارجہ کو اس وقت پاکستان کی بجائے نیویارک میں ہونا چاہیے تھاتا کہ وہ لابنگ کرتے ہوئے دوسرے ممالک کو مسئلہ کشمیر سمجھاتے۔پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد کے باہرمیڈیا سے گفتگو میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جولائی میں بھارت اپنی فورسز کشمیر میں بھیج رہا تھا لیکن ہماری حکومت سو رہی تھی۔ حکومت پاکستانی قوم کو بتائے کہ بھارت کو ایسے اقدام کی جرات کیوں ہوئی؟ احسن اقبال نے استفسار کیا کہ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کا یہ چھٹا سال ہے، اسے پاکستان کی گزشتہ حکومت میں یہ سب کرنے کا حوصلہ کیوں نہ ہوا؟انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے کشمیر کا مقدمہ درست انداز میں لڑا ہوتا تو بھارت کبھی یہ قدم نہ اٹھاتا، جس وقت بی جے پی حکومت نے کشمیر پر فیصلہ کیا، اس وقت پاکستانی وزیرخارجہ ملک میں نہیں تھے۔ حکومت کو انتقامی کارروائیوں سے فرصت نہیں مل رہی تھی کہ کشمیر کا مقدمہ لڑتی۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کشمیر کے معاملے پر 10دن تو قوم کو متحد رہنے دیتی، پاکستان میں اتحاد کو بھارت نے نہیں ہماری اپنی حکومت نے توڑا، اِنہیں قومی یکجہتی کو توڑنے کی بھارت سے بھی زیادہ جلدی تھی۔ حکومت کو بھارت کا مکروہ چہرے عالمی دنیا کو بتانا چاہیے تھا لیکن اس نے کشمیر کے مقدمے کو مضبوطی کیساتھ نہیں لڑا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے وفد کی سربراہی آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو دی جائے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھیں۔ اس کے علاوہ اسلامی سربراہی کانفرنس(او ائی سی)کا غیر معمولی اجلاس فوری طور پر اسلام باد میں بلایا جائے، اگر او آئی سی اس اہم ایشو پر اجلاس نہیں بلاتی تو ہمیں اس سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔

احسن اقبال

مزید :

صفحہ آخر -