مقبوضہ کشمیر، کرفیو تیرھویں روز میں داخل، ایک بار پھر نماز جمعہ ادا نہ کرنے دی گئی، حریت فورمز کی احتجاج کی اپیل

مقبوضہ کشمیر، کرفیو تیرھویں روز میں داخل، ایک بار پھر نماز جمعہ ادا نہ کرنے ...

  

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں مسلسل بارہویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور قابض فوج نے کئی مقامات پر کشمیریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی میں مسلسل بارہویں روز بھی ٹیلی ویڑن، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔رپورٹ کے مطابق کرفیو کے باعث کشمیری مسلمانوں کو مسجد جانے سے روک دیاگیا۔حریت فورمز، وکلا، صحافیوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف مقبوضہ جموں و کشمیر اور کارگل میں اپنے حق کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔حریت فورمز نے اپنے بیان میں لوگوں سے کرفیو اور پابندیاں توڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کشمیریوں کی زمین ہے اور وہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو بچانے کے لیے بغیر کسی تاخیر کے مداخلت کریں۔ایک کشمیری شہری نے ویڈیو پیغام میں اس حوالے سے کہا ہے کہ آج جمعہ ہے، قابض حکومت ہمیں مسجد میں جانے نہیں دیتی، نہ ہی نماز پڑھنے دیتی ہے۔ایک اور کشمیری شہری کا کہنا ہے کہ پابندیوں اور ہر جگہ رکاوٹوں کے باعث ہمیں شدید پریشانی ہے، یہاں سب کچھ بند ہے، ہم بھی بند ہیں، حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ درست نہیں ہے، یہاں سب ہاؤس اریسٹ ہیں۔ادھرمقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز کشمیری سیاست دان شاہ فیصل کو سرینگر کے ایک ہوٹل میں قائم ایک عارضی حراستی مرکز میں منتقل کر دیا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شاہ فیصل کو جمعہ کی رات کو اپنے گھر سے عارضی حراستی مرکز میں منتقل کیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر

مزید :

صفحہ اول -