کشمیری عوام کیلئے آواز اٹھانے پر محبوبہ مفتی کی صاحبزادی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں 

    کشمیری عوام کیلئے آواز اٹھانے پر محبوبہ مفتی کی صاحبزادی کو سنگین نتائج ...

سرینگر /نئی دہلی (آئی این پی)مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی صاحبزادی نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ کشمیری جانوروں کی طرح پنجرے میں قید ہیں اور وہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ثنا التجا جاوید نے دعوی کیا کہ انہیں دھمکی دی گئی کہ دوبارہ کچھ کہا تو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔4 اگست کو محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو تحویل میں لیے جانے کے بعد سے ثنا التجا جاوید کئی انٹرویوز اور وائس میسجز جاری کر چکی ہیں۔امیت شاہ کو لکھے خط میں انہوں نے کہا کہ  آج جب سارا ملک بھارت کے یومِ آزادی کا جشن منارہا ہے، کشمیری جانوروں کی طرح پنجرے میں قید ہیں اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔تاہم بھارتی وزیر داخلہ کو یہ خط ارسال نہیں کیا گیا جس کے متن میں کہا گیا کہ خط پوسٹ نہ کرنے پر معذرت خواہ ہوں لیکن جیسا آپ جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں پوسٹل سروسز معطل ہیں۔ثنا التجا جاوید نے کہا کہ انہیں گھر سے باہر قدم نکالنے کی اجازت نہیں، انہوں نے اپنی مبینہ گرفتاری سے متعلق وضاحت بھی مانگی۔میڈیا میں جاری کیے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ وجوہات کی بنیاد پر جن سے متعلق آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ میں بھی اپنی رہائش گاہ پر نظر بند ہوں، یہاں تک کہ ہمیں آگاہ نہیں کیا جاتا جبکہ ملاقاتیوں کو دروازے سے ہی واپس بھیج دیا جاتا ہے اور مجھے بھی گھر سے باہر قدم نکالنے کی اجازت نہیں۔محبوبہ مفتی کی بیٹی نے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہوں اور بطور شہری ہمیشہ قانون کی پاسداری کی ہے۔ثنا التجا کا امیت شاہ کو لکھا گیا مذکورہ خط میڈیا میں وائس میسج کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔خط میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے شہری کو ناقابل تصور دبا پر آواز اٹھانے کا حق حاصل نہیں؟۔ثنا التجا نے کہا کہ یہ المناک ستم ظریفی ہے کہ تکلیف دہ سچ بیان کرنے پر میرے ساتھ جنگی جرائم کے مجرم جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور میری سخت نگرانی کی جارہی ہے، مجھے اپنے ساتھ ساتھ ان کشمیریوں کی جان کا خطرہ درپیش ہے جنہوں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

دھمکیاں 

مزید : صفحہ اول


loading...