مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا بدترین، حقائق کے منافی اقدام، رچرڈ باؤچر

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا بدترین، حقائق کے منافی اقدام، رچرڈ ...

واشنگٹن(آئی این پی)سابق امریکی نائب وزیرخارجہ برائے جنوبی ایشیا رچرڈ باچر نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں مارشل لاء اوربھارتی اقدامات بدترین ہیں، بھارت اب پاکستان پر دراندازی، دہشت گردی کا الزام نہیں لگا سکتا، بھارت نے ان اقدامات سے تاریخ مٹانے کی کوشش کی۔امریکا کے سابق نائب وزیرخارجہ رچرڈ باچر نے اپنے بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں مارشل لاء ہے، مقبوضہ کشمیر میں اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔رچرڈ باچر نے کہا کہ بھارت اب پاکستان پر دراندازی، دہشتگردی کا الزام نہیں لگا سکتا، بھارت نے ان اقدامات سے تاریخ مٹانے کی کوشش کی۔امریکی نائب وزیرخارجہ برائے جنوبی ایشیا نے مزید کہا کہ بھارت نے خودمختار ریاست منصوبہ ختم کرنے کی کوشش کی، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات بدترین ہیں۔سابق امریکی نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرنیکا بھارتی اقدام بدترین اور تاریخ کو مٹانے کی کوشش ہے،بھارت کا یہ اقدام کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کو سلب کرنے کی کوشش ہے،کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے افغانستان میں امن کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق امریکی نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرنے کابھارتی اقدام بدترین اور تاریخ کو مٹانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں حقیقتا مارشل لاء لگا دیا ہے۔ بھارت کا یہ اقدام کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔سابق امریکی نائب وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے افغانستان میں امن کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

رچرڈ باؤچر

واشنگٹن(آئی این پی)پاکستان کاکس کی چیئر پرسن کانگریس وومن شیلا جیکسن نے امید ظاہر کی ہے کہ سلامتی کونسل دو ایٹمی قوتوں کیدرمیان امن قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔انہوں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ا ن کا حق ہے کے یہ معاملہ جمہوری طریقے سے حل کیا جائے۔امریکی خاتون رکن کانگریس شیلا جیکسن کا کہنا تھا کہ یہی وہ وقت ہے جب بھارت کے زیرتسلط رہنے والے کشمیریوں کے استصواب رائے اور حقیقی ووٹ سے یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔شیلا جیکسن کا مزید کہنا تھا کہ ایسا کرنا اس لئے ضروری ہے کہ کشمیری عوام ایسا چاہتے ہیں، اور اب وہ وقت آ گیا ہے جب سلامتی کونسل 2 ایٹمی قوتوں کے مابین تنازع کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

شیلا جیکسن 

مزید : صفحہ اول


loading...