اقوام متحدہ میں بھارت کو شکست، سلامتی کونسل کئے ارکان نے ہندوستان کو مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اقدامات سے رو ک دیا، چینی مندوب، بھارتی حکومت اجلاس رکوانے میں ناکام رہی: شا ہ محمود قریشی

    اقوام متحدہ میں بھارت کو شکست، سلامتی کونسل کئے ارکان نے ہندوستان کو ...

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر جمعہ کے روز عبرتناک سفارتی شکست کا سامنا پڑا جب سلامتی کونسل نے کشمیر کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اقدامات سے روک دیا۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہا رکیا۔ بی بی سی کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر صبروتحمل کا مظاہرہ کریں یکطرفہ اقدامات سے گریز کریں۔بند کمرے کے اجلاس کے اختتام پر خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق چین کے اقوام متحدہ میں سفیر نے اپنے رد عمل میں کہا ’کہ کشمیر میں حالات بہت کشیدہ اور خطرناک ہیں‘ اور یہ کہ ’سکیورٹی کونسل کے ارکان کا عموماً خیال ہے کہ پاکستان اور انڈیا کو کشمیر میں یکطرفہ کارروائی سے باز رہنا چاہیے۔‘ یہ کئی دہائیوں میں پہلا موقع ہے جب سلامتی کونسل میں کسی بھی قسم کے اجلاس میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کا تنازعہ ایجنڈے پر تھا۔واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کو سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے استدعا کی تھی کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈین حکومت کے جارحانہ اقدامات پر نظر ڈالی جائے۔پاکستان کی درخواست پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خصوصی اجلاس ہوا۔ اس بندکمرہ اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک کے مندوبین  اجلاس میں شریک ہوئے۔یو این ملٹری ایڈوائزر جنرل کارلوس لوئٹے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی۔اقوام متحدہ کے قیام امن سپورٹ مشن کے معاون سیکریٹری جنرل آسکر فرنانڈس نے بھی شرکاء  کو بریفنگ دی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب نے کہا کہ سیکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔چینی مندوب ڑینگ جون نے مزید کہا کہ بھارتی اقدام نے چین کی خود مختاری کو بھی چیلنج کیا ہے۔ دریں اثنااقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا پْرامن حل چاہتے ہیں، نہتے کشمیریوں کی آواز آج اعلیٰ ترین فورم پر سنی گئی ہے، اجلاس پاکستانی وزیر خارجہ کے خط پر طلب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگوں پر ظلم و جبر کیا جارہاہے، کشمیریوں کو قید کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی آواز نہیں دبائی جا سکتی، پاکستان نے یہ کوشش مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کیلئے کی ہے اور یہ مسئلے کے حل تک جاری رہے گی۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کے آج کے اجلاس بھارتی مؤقف کی نفی ہوئی ہے کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ آج ثابت ہوا کہ جموں وکشمیر بھارت کا اندرونی نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کو رکوانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے باوجودجموں وکشمیر کے لوگوں کی آواز سنی گئی ہے۔۔ادھر ذرائع کے مطابق بھارت نے سلامتی کونسل کا اجلاس روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جسے پاکستان نے اپنی کامیاب سفارتکاری کے ذریعے ناکام بنا دیا۔یاد رہے کہ کئی دہائیوں میں پہلا موقع ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازع کشمیر پر بات ہوئی۔سلامتی کونسل کا یہ خصوصی اجلاس پاکستان اور چین کی درخواست پر بلایا گیا تھا جس کے 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر غور کیا۔اجلاس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام اور وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے معاملات پر بحث ہوئی۔ پاکستان اور بھارت سلامتی کونسل کے رکن نہ ہونے پر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی کل تعداد 15 ہے جن میں 5 مستقل جبکہ 10 غیر مستقل رکن ہیں۔ امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ مستقل ارکان ہیں۔غیر مستقل ارکان میں بیلجیئم، آئیوری کوسٹ، ڈومنیکن ریپبلک، جرمنی، گنی، انڈونیشیا، کویت، پیرو، پولینڈ اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلہ تسلیم کرنے پر سلامتی کونسل کے اراکین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے راستے میں بھارت نے رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اس اہم اجلاس کو روکنے کے لئے آج صبح تک بھارت کی کوششیں جاری تھیں لیکن اجلاس بلانے پر میں سلامتی کونسل کا اپنی اور پاکستان کی طرف سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر آج ایک تاریخی دن ہے۔ بھارت نے مختلف بہانوں سے دنیا سے کشمیر کے مسئلے کو اوجھل رکھا۔ 1965ء  کے بعد پہلی مرتبہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا۔سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد ہنگامی نیوز کانفرنس سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انٹرنیشل کمیونٹی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ سلامتی کونسل میں تاریخی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید اقدامات پر غور کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی تناظر میں ہفتے کی صبح 11 بجے ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے اسلامی ممالک کی تنظیم (اوآئی سی)کی جانب سے مقبوضہ کشمیر سے فی الفور کرفیو اٹھانے کے مطالبہ کو بڑی سفارتی کامیابی قراردیا ہے۔دفترخارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی کی جانب سے بھارت سے مقبوضہ جموں وکشمیر پر فی الفور کرفیو ختم کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے تاکہ وہاں مسلسل کرفیو کی وجہ سے جو ادویات کی کمی ہو چکی ہے اور مریضوں کو ہسپتال پہنچانے میں دقت پیش آ رہی ہے ان تکالیف کا ازالہ ہو سکے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اب یہ آواز صرف پاکستان کی نہیں پوری اسلامی دنیا کی متفقہ آواز بن چکی ہے اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ممبر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کئے ہیں، جنوبی افریقہ، سپین کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے متوقع اعلیٰ عہدیدار برائے امور خارجہ جوزف بوریل سمیت دیگر اہم راہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی۔ دفترخارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سکیورٹی کونسل کے غیر مستقل رکن ملک جنوبی افریقہ کی وزیر خارجہ ڈاکٹر نالیڈی پنڈور سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنوبی افریقا کی وزیر خارجہ کو سیکورٹی کونسل کو لکھے گئے خط کے مندرجات سے بھی آگاہ کیا،جنوبی افریقا کی وزیر خارجہ نے اس ساری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس ساری صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ڈاکٹر نالیڈی پنڈور نے کشمیر کی صورتحال پر اپنے پارلیمنٹیرینز سے رابطہ کر کے پارلیمنٹ سے متفقہ قرارداد لانے کا عندیہ بھی دیا۔اس کے علاوہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا سپین کے وزیر خارجہ اور یورپی یونین کے متوقع اعلیٰ عہدیدار برائے امور خارجہ جوزف بوریل سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور دونوں راہنماؤں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت اور خطے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔اس دوران سپین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، انہوں نے سپین اور یورپی یونین کی طرف سے حتی المقدور کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا۔

بھارت شکست

مزید :

صفحہ اول -