میں وزیر خزانہ نہیں، وزیر خالی خزانہ تھا، اسد عمر

  میں وزیر خزانہ نہیں، وزیر خالی خزانہ تھا، اسد عمر

اسلام آباد (آن لائن) سابق وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ میں وزیر خزانہ نہیں بلکہ وزیر خالی خزانہ تھا۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق وزیر اسد عمر نے کہا کہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور وزیراعظم سخت فیصلے لے رہے ہیں تاکہ جلد از جلد حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان غیر مقبول فیصلوں کی وجہ سے ان کی سیاسی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی نے ورلڈ بنک کے لیے کام کیا ہے یا  آئی ایم ایف میں کام کیا ہو۔ نجکاری کے حوالے سے سوال پر اسد عمرنے کہا کہ کچھ اداروں میں ایسا کرنا ضروری ہے اور کچھ میں ضرورت نہیں۔ اس وقت  آمدنی کا جو ہدف رکھا گیا ہے وہ بہت بڑا چیلنج ہے، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کی جتنی بھی حمایت کی جائے وہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ مجھے کہتے تھے  آف تو وزیر خزانہ بن رہے ہیں تو میں انہیں یہی کہتا تھا کہ میں وزیرِ خالی خزانہ ہوں کیونکہ اْس وقت ملک کا خزانہ بالکل خالی ہو چکا تھا۔ اسد عمر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چاہنے والوں میں بھی تبدیلی آئی ہے، اگر ائیرپورٹ جاؤں تو وہاں پر کھڑے گارڈز، مارکیٹ میں کھڑے عام لوگ مجھے  آکر کہتے ہیں کہ مشکل وقت ضرور ہے مگر گھبرانا نہیں ہے۔حکومت پر لوگوں کی اْمیدوں کا بہت دباؤ ہوتا ہے، رات کو سونے سے قبل یہ ضرور سوچتا ہوں کہ کیا ہم ان کی اْمیدوں پر پورا اْتر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت اسلام پباد کے ماسٹر پلان کے علاوہ دس کروڑ گیلین پانی کی اسکیم، نوجوان مراکز اور کرکٹ اسٹیڈیم پر کام کر رہا ہوں تاکہ پی ایس ایل کے میچز بھی یہاں ہو سکیں۔ وزیراعظم سے متعلق بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ عمران خان کا حسِ مزاح بہترین ہے، جب سے کابینہ چھوڑی ہے میں وزیراعظم سے معیشت پر بات ہی نہیں کرتا۔ورلڈ کپ کے حوالے سے ہماری بہت بات چیت ہوتی تھی، بھارت کے خلاف میچ میں جو ٹیم کھلائی گئی انہیں بالکل پسند نہیں  آئی وہ مجھ پر غصہ کر رہے تھے کہ یہ کیا ٹیم کھیلا دی ہے۔عمران خان پراْمید تو بہت ہوتے ہیں مگر وہ اس کام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے بہت جان مارتے ہیں۔

اسد عمر

مزید : صفحہ اول


loading...