کشتی حادثہ‘ لاشوں کی تلاش کیلئے مزید غوطہ خور طلب‘ دریائی پل پر دعائیہ تقریب 

کشتی حادثہ‘ لاشوں کی تلاش کیلئے مزید غوطہ خور طلب‘ دریائی پل پر دعائیہ ...

روجھان (نمائندہ پاکستان ) دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے ڈوبنے والے افراد چوتھے روز بھی لاپتہ سرچ آپریشن ہے جاری رشتہ داروں نے دریائی پل پر قرآن پاک کا  ختم اور خیرات اور دعائیہ  تقریب کا اہتمام لاشیں کیا۔ سرچ آپریشن کا دہرہ کار بڑھا دیا گیاہے۔ تفصیل کے مطابق دریائے سندھ میں ڈوبنے والے افراد کی تلاش کے لیے ماہر غوط خوروں کا سرچ آپریشن جاری ہے سرچ(بقیہ نمبر48صفحہ7پر)

 آپریشن میں دولانی اور آراہیں قبیلہ کے غوط خور بھی شامل ہوگئے ہیں مذید غوط خور بھی طلب کرلیے گئے ہیں  سرچ آپریشن کا دائرہ کار گڈو تک بڑھا دیا گیا ہے ڈوبنے والوں کے رشتہ داروں نے اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے دریائی پل پر بکرے کی قربانی کی گء قرآن پاک پڑھایا گیا اور ڈوبنے افراد کی لاشیں ملنے کے لیے خصوصی دعا کی گئی اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈوبنے والے افراد کے رشتہ دار وڈیرہ فتح دین سرگانی،احمد نواز مزاری،صعنت علی مزاری،وڈیرہ جلال خان مزاری،غلام عباس،بلال خان،محمد یوسف اور جام آصف سمیت دیگر افراد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار دریائے سندھ میں ڈوبنے والے افراد کی تلاش میں ہماری مدد کریں جدید طرز پر تلاش کے لیے آرمی کے ماہر غوط خور دریائے سندھ میں ڈوبنے والے ہمارے تین رشتہ داروں کی تلاش کے لیے روجھان بیجھے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مقامی حکومتی قیادت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار میردوست محمد مزاری،ایم این اے سردار ریاض محمود خان مزاری،سردار دوست علی مزاری ریسکیو ون ون ٹو ٹو سمیت تمام اداروں،میڈیا اور مقامی افراد نے ہمارا بھر پور ساتھ دیا جس پر ہم انکے شکر گزار پیں انھوں نے کہا کہ ہمیں مذید تعاون کی ضرورت ہے ہمارے پیاروں کو دریائے سندھ میں تلاش کیا جائے ہم اپنے پیاروں کا  آخری دیدار کرکے مذہبی رسومات کے ساتھ دفنانے چاہتے ہیں انھوں نے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے گھر روجھان کے کچے میں ہیں اور شھر آمدورفت کے لیے کشتیاں استعمال کرتے ہیں درمیان میں یہ پل پڑتا ہے جس سے ڈوبنے والی کشتی ٹکرائی تھی انھوں نے کہا کہ اس پل اور شھر کے  درمیان ایک کلو میڑ پر دریائی ایریا پر بند بنا کر پل اور شھر کے سپر بند کو ٹکرا دیا جائے تو آئندہ کشتی ڈوبنے کی واقعات نہ ہوں مقامی لوگ آمدورفت کے لیے کشتیوں کی بجائے پل اور بند کا راستہ اپنائے گئے 

کشتی حادثہ 

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...