لوگوں کو جعلی ای میلز بھیج کر خفیہ معلومات حاصل کرنیکا انکشاف‘ ہیکرز متحرک

    لوگوں کو جعلی ای میلز بھیج کر خفیہ معلومات حاصل کرنیکا انکشاف‘ ہیکرز ...

  

بہاولپور، سمہ سٹہ، نور پور نورنگا(ڈسٹرکٹ رپورٹر،نمائندہ پاکستان) ہیکرز اور ڈیجیٹل چوروں نے ایف بی آر کی جانب سے لوگوں کو ٹیکس ریفنڈ کی جعلی ای میلز بھیج کر ان کے بنکوں کی حساس اور خفیہ معلوما ت حاصل کر کے لوٹنا شروع کر دیا۔سائبر سکیورٹی آف پاکستان کی جانب سے سائبر ایکسپرٹ محمد اسدالرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہیکرز کے ایک گروپ کی جانب سے ملک (بقیہ نمبر37صفحہ12پر)

بھر میں کئی لوگوں کو یہ ای میل بھیجی گئی ہے کہ ٹیکس ریفنڈ کی رقم منتقل کرنے کے لیے آپ کے اکاؤنٹ کی تفصیلات درکار ہیں۔ ای میل کا عنوان ٹیکس ریفنڈ نوٹس 2019ہے اور بھیجنے والے کے طور پر ایف بی آر کا نام تحریر ہے۔ ان میلز میں لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایف بی آر کے مالیاتی ریکارڈ کے مطابق اتنی رقم جو کہ ہر ای میل میں مختلف درج ہوتی ہے بطور ٹیکس ریفنڈ وصول کرنے کے حقدار پائے گئے ہیں لہذا اپنا ریفنڈ وصول کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔ جیسے ہی کوئی لنک پر کلک کرتا ہے تو ایک نئی سکرین اوپن ہو جاتی ہے جس میں مختلف بنکوں کے لوگوز موجود ہوتے ہیں اورجب ای میل وصول کرنے والا متعلقہ بنک کے لوگو کو کلک کرتا ہے تو اس سے اس کے اکاؤنٹ کے متعلق سوالنامہ درج ہوتا ہے۔ ای میل میں میسج وائرس سے پاک کا پیغام بھی موجود ہوتا ہے جبکہ یہ لنک بھی دیا جاتا ہے کہ اگر آپ اس ای میل کو جعلی سمجھتے ہیں تو اس کی رپورٹ کرنے کے لیے درج ذیل لنک کو کلک کریں۔ انہوں نے لوگوں کو محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام ای میلز جعلی ہیں یہ ایف بی آر کا طریقہ کار نہیں۔ لہذا عوام محتاط رہیں اور نہ ہی اپنی حساس معلومات کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم پہ شیئر کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی ای میلز پر یونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016کے سیکشن 24/20میں درج جرم کے دائرہ میں آتی ہیں جس کی سزا 3 سال تک قید ہے۔ جو ہیکرز اور سائبر جرائم پیشہ گروہ ایف بی آر سمیت دیگر اداروں کی جانب سے ایسی جعلی ای میلز بھیجتے ہیں تو کوئی نہ کوئی سادہ لوح بندہ ٹریپ ہو جاتا ہے اور بھاری مالی نقصان برداشت کرتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ ایسی مشکوک ای میلز کے لنکس پر کلک نہ کریں اور نہ ہی بنک معلومات بھی مت فراہم کریں بلکہ فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم نمبر پر ایسے فراڈ کی اطلاع کریں۔

متحرک

مزید :

ملتان صفحہ آخر -