ٹی ایچ کیو ہسپتال میلسی میں تشدد واقعہ ، ملتان سمیت مختلف شہروں میں ڈاکٹرز کی مکمل ہڑتال ، آ ج بھی مظاہرے

ٹی ایچ کیو ہسپتال میلسی میں تشدد واقعہ ، ملتان سمیت مختلف شہروں میں ڈاکٹرز ...

  

ملتان ‘وہاڑی ‘ میلسی (وقائع نگار ‘ بیورو رپورٹ ‘ نمائندہ خصوصی ) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس پر تشدد کا معاملہ سنگین صورتحال اختیا رکر گیا ،پی ایم اے کی کال پر ڈاکٹرز کی ٹی ایچ کیو میلسی کے آوٹ ڈور ان ڈور میں ہڑتال، تفصیل کے مطابق ٹی ایچ کیو میلسی میں عید سے ایک روز قبل ایم ایس سمیت دیگر ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس پر تشدد کے واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی ار میں 7ATA و دیگر دفعات شامل نہ کرنے(بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

 پر اور پنجاب حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے ملازمین کے تحفظ کا سیکیورٹی بل پیش نہ کئے جانے کے خلاف گزشتہ روز پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن جنوبی پنجاب کی کال پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی کے شعبہ آوٹ ڈور سمیت ان ڈور اور ایم ایل سی میں مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ نجی ہسپتالوں میں بہی ڈاکٹرز نے مریضوں کا معائنہ نہ کیا،اس حوالے سے گذشتہ روز پی ایم اے جنوبی پنجاب کے عہدیدران نے صدر پی ایم اے ملتان پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج کی قیادت احتجاج کیا اور ریلی نکالی،اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج کا کہنا تہا کہ تشدد کے واقعہ میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر کے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہےڈاکٹرز کمیونٹی میں اس واقعہ کے بعد شدید غم و غصہ پایا جاتاہے۔پی ایم اے ملتان،میلسی،وہاڑی،مظفرگڑھ،خانیوال،بہاولپور،راجن پور سمیت تمام برانچز نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آج بروز ہفتہ ضلع وہاڑی کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے آوٹ ڈور میں ہڑتال کی جائیگی۔وہاڑی کی ضلعی انتظامیہ نے مطالبات منظور نہ کئے تو اگلے مرحلے میں احتجاج کا دائرہ کار ضلع وہاڑی کے تمام ہسپتالوں سمیت پورے جنوبی پنجاب میں پھیلا دیں گے۔اس احتجاج کی تمام ذمہ داری پولیس و انتظامیہ پر ہوگی جو ملزمان کو بچانے کے لئے ڈاکٹرز کے جائز مطالبات منظور نہیں کررہے،اس موقع پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی آر میں 7 ATA سمیت دیگر دفعات شامل کی جائیں جبکہ پنجاب حکومت فوری طور پر سیکیورٹی بل کی منظوری کروا کے اسے نافذ کرے بصورت دیگر سوموار سے جنوبی پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے آوٹ ڈور میں ہڑتال کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی میں ایم ایس اور ڈاکٹرز پر مریض کے لواحقین کی جانب سے تشدد کے خلاف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وہاڑی کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ممبران نے احتجاج کیا ۔مظاہرین نے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی میں گزشتہ دنوں مریض کے لواحقین کی جانب سے ایم ایس ہسپتال ڈاکٹرمجید بھٹی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مقدس سمیت دیگر ڈاکٹرز پر تشدد کے خلاف ڈی ایچ کیو ہسپتال ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرہ کی قیادت ضلعی صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر محسن ممتاز,جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد اسلم نے کی مظاہرین نے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر محسن ممتاز نے کہا کہ ٹی ایچ کیو میلسی میں ڈاکٹرز پر تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں ڈاکٹرز پر حملہ میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ضلعی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد اسلم نے اپنے خطاب میں کہاکہ ڈاکٹرز قوم کے مسیحا ہیں ان پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا رہنما ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر یوسف شہزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز پر تشدد شرمناک فعل ہے ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں مظاہرین کا کہنا یے کہ اگر واقعہ میں ملوث افراد کو فوری گرفتار نہ کیا گیا تو وائی ڈی اے احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کردے گی احتجاجی مظاہرین سے ڈاکٹر عثمان ہاشم,ڈاکٹر منان شاہد ڈاکٹر و دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی کے ڈاکٹروں اور عملے نے اپنے مطالبات کے حق میں گذشتہ روز مکمل ہڑتال کی اور ڈاکٹروں کے کمروں کو تالے لگا دیئے گئے پیرا میڈیکل سٹاف ، نرسز، اور لیڈی ڈاکٹرز کا بھی تشدد کا شکار ہونے والے ایم ایس ڈاکٹر عبد المجید بھٹی اور ڈاکٹر مقدس سے اظہار یکجہتی ، سٹاف اور ڈاکٹرز نے پی ایم اے کے عہدیداروں کے ہمراہ ہسپتال سے لیکر ریلوے چوک تک احتجاجی ریلی نکالی اور ڈاکٹروں کے حق میں زبردست نعرے بازی کی ، آج17 اگست سے ضلع وہاڑی کے تمام چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتال بند کرنے کا اعلان کر دیا بعدازاں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی کے ایم ایس ڈاکٹر عبد المجید بھٹی پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر ثناءاللہ ، سابق صدر طارق رسول ملک، ڈاکٹر عامر رانا،ڈاکٹر بشیر احمد، ڈاکٹر قرة العین نے دیگر ڈاکٹرزاور سٹاف نرسز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 11 اگست کی شب ڈاکوﺅںکی فائرنگ کا نشانہ بننے والے زخمی نذیر احمد کو وقوعہ سے 50منٹ بعدہسپتال لایا گیا جہاں ڈیوٹی پر ڈاکٹرز کے علاوہ خود ایم ایس بھی موجود تھے اور زخمی کو بروقت ابتدائی طبی امداد بھی دی گئی اور تشویشناک حالت کے باعث مریض کو ریفر کر دیا گیا تا ہم زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے زخمی دم توڑ گیا جس کے بعد اس کے ورثاءاور دیگر شر پسندوں نے مریض کے دم توڑ جانے کے 40منٹ بعد دوبارہ ہسپتال آ کر ایم ایس ،ڈیوٹی ڈاکٹر ، سٹاف نرسز اور دیگر عملے کو بہیمانہ تشددکا نشانہ بنایا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اس دوران بلوائیوں نے ڈاکٹروںکے گھروں میں گھس کر خواتین تک کو تشدد کا نشانہ بنایا انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس ڈاکٹروں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور وقوعہ کی ایف آئی آر میں بھی ملزمان کو فائدہ دیا گیا ہے لہٰذا ہم مذکورہ ایف آئی آر کو مسترد کرتے ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ ملزمان کیخلاف 7ATA کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور ڈاکٹروں کیلئے فول پروف سیکورٹی کا انتظام کیا جائے اس کے بغیر آج کے بعد کوئی ایم ایل سی جاری نہیں کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات کے حق میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی کو آج بند کیا اور مطالبات کے پورے ہونے تک ہسپتال کو بند رکھا جائیگا جبکہ پی ایم اے کی کال پر17 اگست ضلع وہاڑی کے تمام ہسپتال جبکہ 18 اگست کو جنوبی پنجاب اور 19 اگست سے پورے پنجاب کے سرکاری ہسپتال بند کر دیئے جائیں گے پریس کانفرنس میں ڈاکٹر عبد الحنان، ماجد نذیر، محمد فہد، خالد رحمان، محمد عمران، سہیل ، حماد، گدائے حسین، وقار حسین، شاہنواز، احمد فراز، محمد شکیل، ساجد نواز، جواد حسین، عمران افتخار، ماجد وکیل، مہوش حسین، عامرہ ، جویریہ، ماریہ، نصرت، شگفتہ ساجد، درانہ عرفان، صدف راحیل ، رابعہ نیاز، ساجدہ ، شگفتہ، ابیہہ رﺅف، رابعہ خلیل ، ثنائ، منیبہ رضوان، فرح، رابعہ سردارسمیت دیگر موجود تھے ۔

احتجاج 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -