کہانیوں کا چسکا

کہانیوں کا چسکا
 کہانیوں کا چسکا

  

اپنے بچپن میں بُوا سے کہانیاں سننا ہماری عام روٹین تھی، ادھر رات پڑتی ادھر ہماری تکرار شروع ہو جاتی کہ کہانی سنائی جائے۔ آج یہی فریضہ ہمیں اپنے بچے کے لئے انجام دینا پڑتا ہے جو رات پڑتے ہی پوچھتا ہے کہ آج کون سی کہانی سنائیں گے؟ کبھی کبھی حیرانی ہوتی ہے کہ اس کے باوجود کہ کہانی سنانے والے اور سننے والے دونوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کہانی میں بیان کی گئی باتوں کا حقیقت سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں، کہانی کا چسکا ختم نہیں ہوتا!

مثال کے طور پر گزشتہ رات ہم نے اپنے بیٹے کو کہانی سنائی کہ بچپن میں چھپن چھپائی کھیلتے ہوئے ہم چھت کے راستے چاند پر جا کر چھپ جایا کرتے تھے۔ وہ ایک دم چونکا اور حیرت سے پھٹی اس کی آنکھوں میں تیرتا سوال ہمارے ذہن میں ایک نئے خیال کو جنم دے گیا کہ چھت پر ایک موٹی رسی پڑتی ہوتی تھی جس کو سات رنگوں کی رسیوں سے بُنا ہوتا ہے، ہم چھت پر کھڑے ہوکر وہ رسی چاند کی جانب پھینکتے تو وہ اس میں بنی ہوئی پہاڑیوں میں جا اٹکتی اور ہم پھدک کر اس رسی کی مدد سے چاند پر جا چھپتے اور خاموشی اپنے ڈھونڈنے والے کو بیٹھے تکتے رہتے تاآنکہ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک جاتا اور جب بالکل ہمت ہار جاتا تو ہم چپکے سے رسی کے ذریعے چھت پر اترتے اور جا کر اسے چھو لیتے اور یوں دوبارہ اس کو باری دینی پڑتی۔ بیٹے کے لبوں پر اگلا سوال تھا کہ یہ رسی کہاں سے ملتی ہے تو ہم نے کہا کہ جب بارش ہوتی ہے تو یہ سات رنگوں والی رسی باغ جناح کے درختوں سے لٹکی ہوتی ہے۔

ہم نے اسے یاد دلایا کہ گزشتہ اتوار جب بارش میں ہم باغ جناح گئے تھے تو ایک درخت سے وہ رسی لٹک رہی تھی۔بیٹے نے یقین نہ کرنے والے انداز میں اچھا کہا اور اگلا سوال داغا کہ کیا آپ کی ممی کو پتہ ہوتا تھا کہ آپ چاند پر چھپے ہوئے ہیں، ہم نے کہانی کا سلسلہ جوڑتے ہوئے کہا کہ بالکل ہماری ممی کو معلوم ہوتا تھا بلکہ ایک دفعہ تو ہم چاند پر جا کر رسی اوپر کھینچنا بھول گئے تو ممی اس رسی کے ذریعے چاند پر آدھمکی اور ہماری خوب پٹائی کی کہ ہم اتنی دور کیوں جا چھپے ہیں۔ پھر؟ ہمارے بیٹے نے بھرپور حیرت سے پوچھا تو ہم نے کہا کہ ممی نے غصے میں نیچے جا کر رسی کھینچ لی اور ہم کئی راتوں تک چاند پر پھنسے رہے، بالآخر ممی نے رسی دوبارہ چھت پر پھینکی اور ہم نیچے اتر سکے۔

صرف یہی ایک کہانی نہیں بلکہ ہر رات ہم بیٹے کو بہلانے کے لئے اور اپنے ساتھ اس کا ناطہ مضبوط کرنے کے لئے اسے ایسی ہی کوئی نہ کوئی کہانی ضرور سناتے ہیں اور وہ کوئی نہ کوئی ایسی کہانی ضرور سنتا ہے۔ ایسا نہیں کہ ہماری ساری کہانیاں فرضی ہوتی ہیں بلکہ جب کبھی ہم اپنے بچپن کے حقیقی واقعات اس کو سناتے ہیں تو نہ صرف وہ بلکہ اس کے دیگر بہن بھائیوں سمیت ہماری بیگم صاحبہ بھی پورے انہماق سے سنتے پائے جاتے ہیں لیکن جہاں کہیں ہم حقیقت سے فسانے میں گھستے ہیں تو ہماری بیگم اور بڑے بچے ایک بڑی مسکراہٹ کے ساتھ ظاہراً ہماری طرف سے اپنے کان بند کرلیتے ہیں جبکہ چھوٹا بیٹا مزید ہمارے ساتھ جڑجاتا ہے اور پورے انہماک سے کر سننا شروع کردیتا ہے۔

مثال کے طور پر ہم نے انہیں بتایا کہ بچپن میں ہماری نانی ہمیں سکول چھوڑنے جاتیں تو ہم اچانک نانی سے ہاتھ چھڑوا کر بھاگ اٹھتے اور اپنے ہاتھ میں پکڑے اردو قاعدے کے اوراق ایک ایک کرے پھاڑ کر پھینکنا شروع کردیتے اور ساتھ ساتھ بھاگتے جاتے۔ ہمارے پیچھے پیچھے ہماری نانی راہ گیروں سے ہمیں پکڑنے کے لئے پکارتے ہوئے قاعدے کے پھٹ کر زمین پر گرنے والے اوراق اکٹھے کرتی بھاگتی چلی آتیں۔

ہم تب تک کسی کے ہاتھ نہ آتے جب تک کہ پورا اردوقاعدہ پھاڑ کر پھینک نہ لیتے، جونہی قاعدے کا آخری صفحہ ہمارے ہاتھ سے زمیں بوس ہوتاہمارے دوڑتے قدم خود بخود تھم جاتے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ بغیر قاعدے کے نانی ہمیں سکول نہیں بھیجے گی، ہانپتی کانپتی نانی پھٹے اوراق ایک ہاتھ میں سمیٹے ہوئے ہمارے پاس پہنچتیں، ایک چپت ہمارے کان پر دھرتیں اور پھر گھر لے جاتیں کیونکہ ان کے نزدیک بغیر قاعدے کے سکول جانے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔

اس کہانی سے سب بہت محظوظ ہوئے لیکن جونہی ہم نے کہا کہ ایک دفعہ بادلوں میں چھپ کر ایک ہاتھی ہم پر حملہ آور ہوا تو فیملی کے بڑے بچوں اور ان کی ماں نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہماری جانب سے اپنے کان بند کرلیے جبکہ میں اور میرا چھوٹا بیٹااکیلے بستر پر رہ گئے اور ہماری کہانی سورچ، چاند، ستاروں، کوہ قافوں، سمندروں، جنگلوں کااور خداجانے کہاں کہاں کا سفر طے کرتی بالآخر ہمیں نیند کی وادیوں میں لے گئی!

آج کل ہمارے عوام بھی دو ہفتوں میں کراچی کا گند صاف کرنے اور چار ہفتوں میں ہزاروں نوکریاں پیدا ہونے کی کہانیاں سن رہے ہیں۔

اس سے قبل ہم سب سو دنوں میں پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کی کہانی سن چکے ہیں، اس کے باوجود ہم جانتے ہیں کہ ان کہانیوں میں کچھ حقیقت نہیں مگر پھر بھی عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد ان کہانیوں پر یقین کرتے ہوئے حکومت کو مزید ایک سال دینے کی بات کرتی نظر آتی ہے، خدا معلوم بحیثیت قوم ہم کب بڑے ہوں گے اور ایسی کہانیاں سنانے والوں کی جانب سے اپنے کان بند کریں گے!

مزید :

رائے -کالم -