سفارتی میدان میں بھارتی بیانیہ پٹ گیا 

سفارتی میدان میں بھارتی بیانیہ پٹ گیا 

تجزیہ؛۔ایثار رانا

سفارتی میدان میں بھارتی کو تاریخی شکست کے بعد اسکا بیانیہ بری طرح پٹ گیا اب صرف اور صرف اسکی ڈھٹائی رہ گئی،چلیں ہم اسکو پاکستان کی کامیاب سفارتی کوشش بھی مان لیتے ہیں لیکن میرا دل کہتا ہے یہ عالمی طور پر بہادر کشمیریوں کی قربانیوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔اٹوٹ انگ کا بھارتی نعرہ ٹوٹ پھوٹ چکا۔چین نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ پاکستان کا ”قدرتی اتحادی“ ہے۔خطے میں اسکے اور پاکستان کے مفادات مشترکہ ہیں۔مجھے ڈر یہ ہے کہ چین پاکستان کی قربت دیکھ کے ٹرمپ کہیں بدک نہ جائے۔تاہم اب جو بھی ہو بھارت کا یہ بے سرا راگ کہ کشمیر اسکا اندرونی معاملہ ہے بے وقت کی راگنی بن چکا۔وہ جوتے بھی کھائے گا اور سو پیاز بھی۔وہ اپنے اس احمقانہ عمل سے مقبوضہ کشمیر میں اپنے رہے سہے حمایتی بھی کھو بیٹھاہے۔آج دو قومی نظریہ پھر سے زندہ ہوگیا۔لاتعداد قربانیوں کے باوجود بہرحال مجھے یہ معاملہ اتنی جلد حل ہوتانظر نہیں آتا اور یہیں سے مجھے ایک ”کانسپائریسی تھیوری“کی بو آتی ہے۔سارا دن بھارت اجلاس ملتوی کرانے کی کوشش کرتا رہا لیکن چین نے اسکی یہ سازش ناکام بنادی۔ امریکہ چین کسی حد تک روس بھی پاکستان کے ساتھ یا قریب ہیں۔فرانس کی خاموشی پراسرار ہے مجھے خدشہ ہے کہ سلامتی کونسل اس معاملے کو اجلاسوں کمیٹیوں کی نظر کردے گا اور اس دوران بھارت کو علاقے میں اپنے گھناؤنے کھیل کو مکمل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔اگر اقوام عالم اور خصوصا سلامتی کونسل انصاف کے موڈ میں ہے تو بھارت کو فورا خطہ خالی یا آرٹیکل 370والی پوزیشن پر واپس لانے  کے اقدامات کرے۔کرفیو فوری طوری پر ہٹانے کا حکم دے۔وہاں لوگ خوراک ادویات کی عدم فراہمی کے سبب مررہے ہیں۔پاکستان اس وقتی کامیابی پر ناچنے کے بجائے اپنا سفارتی دباؤ جاری رکھے منزل ابھی بہت دور ہے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...