مردان، معصوم بچی کے قتل کی میڈیکل رپورٹ میں جنسی تشدد کا انکشاف

    مردان، معصوم بچی کے قتل کی میڈیکل رپورٹ میں جنسی تشدد کا انکشاف

  

مردان(بیورورپورٹ) تھانہ صدر کے علاقہ جانباز نرے میں قتل ہونے والی چار سالہ بچی اقراء کے میڈیکل رپورٹ میں جنسی تشدد کا انکشاف ہواہے جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لئے ایس پی انوسٹی گیشن کی قیادت میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی گذشتہ شب بچی کی لاش گھر کے قریب گنے کے کھیتوں سے ملی جسے نامعلوم ملزم یاملزمان نے تشدد کرکے قتل کیاتھا اسپتال ذرائع کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے بچی پر جسمانی تشدد بھی ہواہے اور سفاک ملزمان نے بچی کے ہاتھ پاؤں بھی توڑ ڈالے ہیں واقعے کے بعد ڈی پی او سجادخان نے بچی کیس کی تحقیقات کے لئے ایس پی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی ڈی پی او نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ کہ گیارہ اگست کی رات کفایت اللہ نے اپنی چارسالہ نواسی اقراء کی گمشدگی کا رپورٹ تھانہ صدر میں درج کی تھی پولیس اورعلاقے کے عوام نے مشترکہ طورپر بچی کی تلاش شروع کردی گذشتہ شب بچی کی لاش گنے کے کھیتوں سے ملی جسے نامعلوم ملزم یاملزمان نے تشدد کرکے قتل کیاتھا بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ایم ایم سی ہسپتال منتقل کردیااوراجزاء کے نمونے فرانزک کے لئے بجھوادیئے گئے ہیں پولیس نے علاقے میں جیوفنسنگ شروع کردی ہے جبکہ 15کے لگ بھگ مشکوک افراد کو حراست میں لے لیاگیا جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے پولیس کی کرائم سین ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھاکرناشروع کردیاہے جبکہ کیس کی تحقیقات کے لئے ایس پی انوسٹی گیشن محمد آیاز کی سربراہی میں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم قائم کردی گئی ہے جس میں ایس پی اپریشن مشتاق احمد،ڈی ایس پی انوسٹی گیشن جان زادہ خان،ڈی ایس پی شیخ ملتون طیب جان،ایس ایچ او تھانہ صدر عجب درانی اور ایس ایچ او سٹی محسن فواد خان شامل ہیں جے آئی ٹی روزانہ کی بنیاد پر ڈی پی او کو رپورٹ دے گی دریں اثناء مقتول بچی کو مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیاگیا نمازجنازہ میں منتخب نمائندوں کے علاوہ ڈی پی او سجادخان نے بھی شرکت کی او رمتاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ ملزمان کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہو وہ قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے اور متاثرہ خاندان کو ہر حال میں انصاف فراہم کیاجائے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -