جہدوجہد آزادی کو دبانے کی ایک اور کوشش، بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر سے کام کرنیوالے صحافیوں کی بھی پکڑ دھکڑ شروع کردی

جہدوجہد آزادی کو دبانے کی ایک اور کوشش، بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر سے کام ...
جہدوجہد آزادی کو دبانے کی ایک اور کوشش، بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر سے کام کرنیوالے صحافیوں کی بھی پکڑ دھکڑ شروع کردی

  


سری نگر (ویب ڈیسک) بھارتی قابض فوج نے ایک اور صحافی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترال سے 26 سالہ صحافی عرفان امین ملک کو پکڑا گیا۔ وہ سرینگر سے تعلق رکھنے والے انگلش اخبار میں کام کرتے ہیں۔عرفان امین ملک کے والد محمد امین ملک کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے بیٹے سے ملنے نہیں دیا جا رہا جبکہ والدہ کا کہنا تھا کہ بھارتی قابض فوجی رات کے اندھیرے میں دیوار پھلانگ کر آئے اور میرے بیٹے کو گرفتار کر کے لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرفان کو گرفتار کرنا ہے میں نے مزاحمت کرنے کی کوشش تو میرے ساتھ بھی اچھا سلوک نہ کیا گیا۔ادھرحریت فورمز نے اپنے بیان میں لوگوں سے کرفیو اور پابندیاں توڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کشمیریوں کی زمین ہے اور وہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو بچانے کے لیے بغیر کسی تاخیر کے مداخلت کریں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی کی ہائی کورٹ نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن انجینئر عبدالرشید کو 21 اگست تک جیل بھیج دیا ہے۔بھارتی نواز انجینئر عبدالرشید کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے گرفتار کیا ہوا ہے۔ انہیں 9 اگست کو حراست میں لیا گیا تھا۔دریں اثناء بھارتی حمایت یافتہ سیاستدان شاہ فیصل کو سرینگر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہیں چند روز قبل نئی دہلی سے بیرون ملک جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں رات کے اندھیرے میں گھر سے ایک ہوٹل میں منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ نظر بند رہیں گے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...