سبحان اللہ! جنسی بے راہ روی کا مَردوں کیلئے ایسا خوفناک نقصان تحقیق میں سامنے آگیا جس کے بارے میں آج تک کسی نے نہ سوچا تھا، جان کر اسلامی تعلیمات پر آپ کا ایمان مزید پختہ ہوجائے گا

سبحان اللہ! جنسی بے راہ روی کا مَردوں کیلئے ایسا خوفناک نقصان تحقیق میں سامنے ...
سبحان اللہ! جنسی بے راہ روی کا مَردوں کیلئے ایسا خوفناک نقصان تحقیق میں سامنے آگیا جس کے بارے میں آج تک کسی نے نہ سوچا تھا، جان کر اسلامی تعلیمات پر آپ کا ایمان مزید پختہ ہوجائے گا

  


سڈنی (نیوز ڈیسک) دین اسلام جہاں انسان کی فطری ضروریات کا خیال رکھتا ہے وہیں ان کی تکمیل کے لئے کچھ حدود و قیود بھی مقرر کرتا ہے، لیکن مغرب نے ان حدود کو انسانی حقوق کا مسئلہ بنا کر ایک طرف رکھ دیا۔ مادر پدر آزاد بے راہروی آج ان کا شعار ہے اور جنسی ساتھیوں کی بڑی تعداد کو قابل فخر کارنامہ قرار دیا جانے لگا ہے، لیکن آسٹریلوی سائنسدانوں نے اس غلیظ شوق میں مبتلاءمردوں کو خبردار کر دیا ہے کہ اس کا نتیجہ پراسٹیٹ کینسر کی صورت میں دیکھنا پڑ سکتا ہے۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق کینسر کونسل نیو ساﺅتھ ویل سے متعلقہ تحقیق کار وسالنی نائر شالیکر کی تازہ ترین تحقیق میںا نکشاف ہوا ہے کہ جن مردوں میں جنسی ساتھیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے ان میں پراسٹیٹ کینسر کا خدشہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق تین یا اس سے کم ساتھی رکھنے والوں کی نسبت سات یا اس سے زائد ساتھی رکھنے والوں میں پراسٹیٹ کینسر کا خدشہ دو گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی مختلف اور پیچیدہ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جنسی زندگی کا آغاز جلد کرنا، جنسی تعلقات کی شرح زیادہ ہونا اور جنسی ساتھیوں کی تعداد زیادہ ہونا جیسے تمام عوامل کو پراسٹیٹ کینسر کی زیادہ شرح سے منسلک پایا گیا ہے۔

اس کینسر کے حوالے سے بعض دیگر عوامل کو بھی اہم پایا گیا ہے، مثلاً جن مردوں کے والد اس بیماری کے شکار رہے ان میں بھی اس کی شرح زیادہ پائی گئی ہے۔ موٹاپے کے شکار مردوں میں بھی پراسٹیٹ کینسر کی شرح قدرے زیادہ پائی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی ساتھیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں جنسی فعل کی شرح بھی نتیجتاً زیادہ ہوتی ہے، جس کا ایک نتیجہ مردانہ ہارمون اینٹی جین کی زیادہ مقدار کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے، جسے پراسٹیٹ کینسر کا آغاز کرنے عوالے عامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ سائنسی جریدے انٹرنیشنل جرنل کینسر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے نتائج کو معمول کے ازدواجی تعلقات کے متعلق مشورہ نہ سمجھا جائے۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...