کیاریاست مدینہ میں غریبوں کے گھر کہاں مسمار ہوتے تھے؟بنی گالا محل کے آس پاس دو مرلے کا مکان بنانا منع ہے:ڈاکٹر نفیسہ شاہ

 کیاریاست مدینہ میں غریبوں کے گھر کہاں مسمار ہوتے تھے؟بنی گالا محل کے آس پاس ...
 کیاریاست مدینہ میں غریبوں کے گھر کہاں مسمار ہوتے تھے؟بنی گالا محل کے آس پاس دو مرلے کا مکان بنانا منع ہے:ڈاکٹر نفیسہ شاہ

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ کیا  ریاستِ مدینہ میں غریبوں کے گھر کہاں مسمار ہوتے تھے؟بنی گالا محل کے آس پاس دو مرلے کا مکان بنانا منع ہے ۔

نجی ٹی وی کےمطابق وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر ردِعمل کا  اظہار کرتے ہوئےڈاکٹر  نفیسہ شاہ  کاکہنا تھا کہ ریاست مدینہ میں مخالفین کی بہنوں بیٹیوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا تھا، عمران خان نے ملک کو ریاست کوفہ بنادیا ہے ۔انہوں نےکہا کہ  پیپلز پارٹی نے آمریتوں کا مقابلہ کیا کٹھ پتلی کی کیا حیثیت ہے ؟جیالوں کو آصف زرداری کی بہادری پر فخر ہے ،فریال تالپور ریاست کوفہ کی قیدی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل  اسلام آباد  میں خطاب کرتےہوئے وزیر اعظم  عمران خان  کا کہنا تھا کہانصاف اوراحساس پرمبنی معاشرےعروج پاتےہیں،ایساپاکستان بنانا چاہتے ہیں جہاں رحم،عدل اور انصاف ہو،ایشین ٹائیگربننےکےلیےپاکستان نہیں بناتھابلکہ یہ ایک فلاحی ریاست تھی،ہم شریعت کےمطابق چلیں گےتوعروج پائیں گے،پاکستان بھی ایک وژن کے تحت بناہے،افراد کی طرح قوموں کا بھی وژن ہوتاہے،پاکستان جس مقصد کے لیے بنا تھا ہم اُس سے بہت دور چلے گئے ہیں،پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے ، حضورﷺانسانیت کی معراج تھے ،ریاست مدینہ جدید وژن کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی،ریاست مدینہ انسانیت اور انصاف کے اصولوں پر قائم ہوئی تھی، یونیورسٹیز میں ریاست مدینہ کے اصولوں کو پڑھایا جائے گا،ہم نےپاکستان کوایک اسلامی فلاحی ریاست بناناتھا،پاکستان نے مدینہ کی ریاست کی طرح اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا،ہم ایساپاکستان بنانا چاہتے ہیں جہاں رحم،عدل اور انصاف ہو۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...