خارجہ پالیسی کو بازیچہ   اطفال نہ بنائیں 

 خارجہ پالیسی کو بازیچہ   اطفال نہ بنائیں 

  

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ دفتر خارجہ اور اداروں نے وزیراعظم اور کشمیریوں کو مایوس کیا۔ دفتر خارجہ کام کرتا تو دُنیا کشمیر کے معاملے پر ہماری بات سنتی۔دفتر خارجہ اور کشمیر کی پالیسی بنانے والے دوسرے ادارے وزیراعظم کے بیانیہ کو اپنا لیتے تو آج حالات مختلف ہوتے، عمران خان نے اکیلے اپنی کوششوں سے کشمیر پر پورا بیانیہ بدلا،انہوں نے بیانات دیئے، ٹوئٹر پر ٹویٹس کیں، تقاریرکیں،لیکن دفتر خارجہ اور دیگر اداروں نے اُنہیں مایوس کیا۔اُن کا کہنا تھا، چاہے حالات جو بھی ہوں،دفتر خارجہ بھی تو کچھ کام کرے، وزیر خارجہ صرف  وزیر خارجہ کو فون کرے گا یا کسی بین الاقوامی فورم پر اظہارِ خیال کرے گا، سفارت کاروں کو ہوٹل میں آرام کرنے، کلف زدہ کپڑے اور تھری پیس سوٹ پہننے ہی سے فرصت نہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان برکینا فاسو  جتنا بھی سفارتی وزن نہیں رکھتا،جس نے امریکہ کے خلاف قرارداد منظور کرا لی۔ دُنیا میں سفارت کاری کے نئے ذرائع آ گئے ہیں،جنہیں استعمال کرنا ہو گا۔جب مزاحمتی کلچر کو لے کر چلیں گے تو دُنیا میں مضبوط ردِعمل آئے گا اور کشمیریوں کی جدوجہد ِ آزادی کو حمایت حاصل ہو گی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سفارت کاری میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر کی یہ بات تو درست ہے کہ کشمیر پر سفارت کاری میں تبدیلی ہونی چاہئے اور اس جانب بہت سے حلقے حکومت کی توجہ بھی دلاتے رہتے ہیں۔5اگست کو وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کیا تھا تو وہاں بھی کشمیری قیادت کا یہ مطالبہ سامنے آیا تھا،جس میں سے وزیراعظم کو مایوسی جھلکتی ہوئی نظر آئی اور انہوں نے اسمبلی کے اندر ہی کہہ دیا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس میں انہیں مایوسی نظر آتی ہے۔ حکومت کی کشمیر پالیسی پر اپوزیشن جماعتیں بھی وقتاً فوقتاً نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں، دفاعی تجزیہ کار بھی حکومت کو مفت مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں،لیکن وفاقی وزیر نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ اگر کسی اپوزیشن لیڈر نے کیا ہوتا  تو اب تک بھڑوں کا پورا چھتہ اُن سے چمٹ گیا ہوتا اور اُن کے سارے اگلے پچھلے گناہ چشم زدن میں سامنے لے آتا، لیکن شیریں مزاری نے جس بے باکی اور صاف گوئی سے کام لے کر دفتر خارجہ کے لّتے لئے ہیں اس پر ابھی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی خاموش ہیں اور کسی حکومتی بزر ِجمہر کا بیان بھی سامنے نہیں آیا۔شاہ محمود کا تو خیال ہے کہ خارجہ پالیسی کو اُن سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا، اور وہ اپنے تئیں کشمیر کی آزادی کے لئے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھ رہے،انہوں نے شاہراہِ کشمیر  کا نام شاہراہِ سری نگر بھی رکھ دیا اور یہ اعلان بھی کر دیا کہ وہ دن دور نہیں جب مسلمان سری نگر کی جامع مسجد میں سجدہئ شکر ادا کریں گے، جو اب بند پڑی ہے۔ چند روز تک اُن کی جذباتی تقریروں کی بڑی دھوم رہی، حتیٰ کہ جذبات کی اس رو میں بہہ کر انہوں نے ایک ٹی وی چینل پر ایسی گفتگو بھی کر ڈالی، جس میں سفارتی نزاکتوں کا لحاظ نہیں رکھا گیا تھا۔ اب محترمہ شیریں مزاریں نے دفتر خارجہ پر براہِ راست اور وزیر خارجہ پر بالواسطہ جو چڑھائی کی ہے معلوم نہیں یہ اُن کے ذاتی خیالات ہیں، حکومت کی پالیسی ہے یا انہیں اس معاملے میں وزیراعظم کی اشیر باد حاصل ہے؟ ایسے خیالات کا اظہار انہوں نے اِس سے پہلے کبھی نہیں کیا، وہ اگر اپنی حکومت کی ہمدرد ہوتیں تو وزیر خارجہ کو مشورہ دیتیں کہ وہ اپنی پالیسی کا انداز بدلیں اور عمران خان کے بیانیہ ہی کو آگے بڑھائیں۔ اگر وزیر خارجہ اُن کی بات نہ سنتے تو وہ کابینہ میں اِس مسئلے پر گفتگو کرتیں یا وزیراعظم سے براہِ راست بات کر کے اُن کی توجہ دلاتیں،لیکن انہوں نے دفتر خارجہ کو جس طرح ہدف تنقید بنایا ہے اس سے تو یہی تاثر ابھرتا ہے کہ اُنہیں اپنی حکومت کے مفادات کا کوئی خیال ہے نہ وہ سفارتی مصلحتوں کو پیش ِ نظر رکھنے کی کوئی ضرورت محسوس کرتی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کو یہ شکایت رہی ہے کہ اُن کے وزیر ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں، جن کی وجہ سے حکومت کو مشکل صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شیریں مزاری کے اِس بیان کو بھی ایسے میں متنازع بیانات میں شمار کیا جا سکتا ہے،جو حکومت کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جو بیان دیا گیا تھا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب حکومت کا ہر چھوٹا بڑا اس کی وضاحتیں کرتا پھر رہا ہے، پہلے ہی سوچ سمجھ کر بیان دیا جاتا تو ہر کہہ و مہ کو یوں وضاحتیں نہ کرنا پڑتیں۔ جن وزیروں کا خارجی امور اور تعلقات سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہیں اور جو کبھی گلیوں اور نالیوں کی مقامی سیاست سے اوپر اُٹھ کر سوچ ہی نہیں سکتے وہ بھی اس نازک موضوع پر اظہارِ خیال کو فرض گردان رہے ہیں اور ایسی ایسی گوہر افشانیاں کر رہے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ ہماری راکھ میں ایسی چنگاریاں بھی پوشیدہ ہیں۔انہیں نہ اپنی حکومت کے مفادات سے مکمل آگاہی ہے نہ اُنہیں یہ معلوم ہے کہ کس موقع پر کیا بات کرنی ہے۔ شیریں مزاری کو اگر کشمیر سے متعلق تصویری نمائش کے دوران اظہارِ خیال ہی کرنا تھا تو یہ مضمون بہت وسیع ہے،جس کے بہت سے گوشوں پر وہ روشنی ڈال سکتی تھیں یا وہ تفصیل کے ساتھ بتا سکتی تھیں کہ اُن کی دو سالہ حکومت کے دوران کشمیریوں کے انسانی حقوق یقینی بنانے کے لئے کیا ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں؟ انسانی حقوق کا دائرہ مغرب سے مشرق تک اور شمال سے جنوب تک پھیلا ہوا ہے، جہاں جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، اُن کا تذکرہ کر کے اپنی وہ خدمات بھی گنوا سکتی تھیں،جو انہوں نے اس عرصے میں انجام دیں،لیکن حیرت ہے کہ انہوں نے کابینہ کے اپنے ایک ساتھی کو بالواسطہ نکتہ چینی کا ہدف بنایا اور اُن کی وزارت میں کیڑے ڈال دیئے۔ اخلاقیات کا تقاضا یہ تھا کہ اول تو وہ ان کے چھابے میں ہاتھ نہ ڈالتیں اور اگر کسی وجہ سے ایسا کرنا ضروری تھا تو اس کا بہترین فورم کابینہ کا اجلاس تھا۔

دفتر خارجہ اگر وزیراعظم کے بیانیہ کو آگے نہیں بڑھا رہا یا اس ضمن میں کسی کوتاہی کا مرتکب ہو رہا ہے تو وزیراعظم کو چاہئے کہ اس معاملے میں وزیر خارجہ کو ضروری ہدایات دیں اور انہیں ایسی پالیسی تیار کرنے کے لئے کہیں جس میں وزیراعظم کا بیانیہ جھلکتا ہوا۔ شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ ہی نہیں ہیں حکمران پارٹی کے سب سے سینئر رہنما اور وائس چیئرمین بھی ہیں اگر وہ اپنی حکومت کی مصلحتوں کو نہیں سمجھتے یا اپنی پارٹی کے سیاسی مفادات ہی سے لاعلم ہیں تو وزیراعظم کا فرض ہے کہ اُنہیں اُن کی کوتاہیوں سے آگاہ کریں اور کمزوریوں پر قابو پانے کے لئے کہیں پھر بھی اگر اُن کی من پسند تبدیلی نہ ہو تو ان کے پاس پورا اختیار ہے کہ وہ وزارتِ خارجہ کسی دوسرے زیادہ اہل وزیر کے سپرد کر دیں اور اگر شیریں مزاری یہ کام کر سکتی ہیں تو ان کی صلاحیتوں کو بھی آزمایا جا سکتا ہے،لیکن خارجی امور پر یوں برسر محفل بات کرنا آداب کے منافی ہے۔دفتر خارجہ میں جو افسر کام کرتے ہیں، اُن کا انتخاب بہترین لوگوں میں سے کیا جاتا ہے پھر وہ سالہا سال تربیت کی بھٹی سے کندن بنتے ہیں، اگر ایسا باصلاحیت لوگوں کو ”تھری پیس سوٹ“ جیسے طعنوں کے ذریعے تضحیک کا نشانہ بنایا جائے گا تو اس سے مایوسی پھیلے گی، وزیروں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کو بازیچہ ئ  اطفال بنا لیں اور جو منہ میں آئے نتائج و عاقب کی پروا کئے بغیر بے دریغ کہتے چلے جائیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -