متحدہ عرب امارات کی غداری 

متحدہ عرب امارات کی غداری 
متحدہ عرب امارات کی غداری 

  

اسرائیل دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کیلئے آبادی دوسرے ممالک سے درآمد کر کے وہاں لائی جاتی ہے اور اور وہاں موجود فلسطینیوں کو مار مار کر ان کو ان کی زمینوں سے بھگا کر وہاں یہودیوں کو بسایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو پاکستان نے آج تک تسلیم نہیں کیا بلکہ پاکستان کے پاسپورٹ پر نمایاں لکھا جاتا ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا پوری دنیا کیلئے کار آمد ہے۔اسی اسرائیل میں ایک تاریخی شہر ہے یروشلم جو تینوں آسمانی مذاہب، اسلام،مسیحیت اور یہودیت کے ماننے والوں کیلئے ایک عقیدت کا مرکز ہے۔ اسی شہر میں مسجد اقصی واقع ہے جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ عیسائیوں کے مطابق حضرت عیسی ؑ کا جائے پیدائش اور مقدس چرچ بھی یہیں موجود ہے۔ یہودی سمجھتے ہیں کہ کائنات کی ابتدا بھی اسی شہر سے ہوئی اور دیوار گریہ یا ہیکل سلیمانی جو یہودیوں کیلئے ایک مقدس مقام ہے وہ بھی اسی شہر میں واقع ہے اس لئے یہودی اس شہر پر اپنا حق جتاتے ہیں۔ مسجداقصی یا بیت المقدس وہ مقام ہے جہاں معراج پر جانے سے قبل حضرت محمد ﷺ نے تمام انبیا کی امامت کی تھی۔مسلمانوں نے سب سے پہلے اس مقدس سرزمین کو حضرت عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میں فتح کیا اور پھر تقریبا ساڑھے چار سو سال تک یہاں مسلمانوں کا ہی غلبہ رہا۔ 1099 میں عیسائیوں نے اس شہر پر قبضہ کر لیا اور تقریبا نوے سال تک یہ شہر عیسائی حکمرانوں کے زیر نگین رہا۔

پھر تقریبا نوے سال بعد صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگوں میں عیسائیوں کو شکست دے کر اس شہر پر قبضہ کر لیا۔ 1187سے لے کر 1917 تک یہ مسلمانوں کی عملداری میں رہا درمیان میں صرف یہ پندرہ برس کیلئے فریڈرک دوم کے قبضے میں رہا۔ تین دہائیوں تک برطانوی سلطنت میں شامل رہا اور اس دوران یہاں دنیا بھر سے یہودی آکر آباد ہونے لگے۔ ا س مقدس شہر پر قبضہ کرنے کیلئے یہودیوں نے برطانوی حکمرانوں کے ذریعے سازشیں رچائیں اور پوری دنیا کے یہودی اکٹھے کر کے ان کیلئے 1948 میں یہ ملک بنایا گیا۔اقوامِ متحدہ نے اس شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی، جس کے تحت نہ صرف فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، بلکہ یروشلم کے بھی دو حصے کر دیے گئے جن میں سے مشرقی حصہ فلسطینیوں جب کہ مغربی حصہ یہودیوں کے حوالے کر دیا گیا۔1967تک یروشلم کا مشرقی حصہ اردن کے اقتدار میں رہا لیکن 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے اس پر بھی قبضہ کر لیا۔ بین الاقوامی برادری آج تک اس قبضے کو غیرقانونی سمجھتی ہے۔اسرائیلی پارلیمان نے 1950 ہی سے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے لیکن دوسرے ملکوں نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے احترام میں یروشلم کی بجائے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کر رکھے ہیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ دن اور آج کا دن اس ملک کے اصلی باشندے فلسطینی اپنے ہی ملک میں زمین کے حصول کیلئے دربدر ہیں جبکہ باہر سے یہودی لا لا کر یہاں بسائے جا رہے ہیں۔ یہودیوں کی ان ہی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے مسلم دنیا کے اکثر ممالک نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، لیکن رواں سال ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے اس روایت کو توڑنے کی کوشش کی ہے اور اب برادر اسلامی ملک متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو قبول کر لیا ہے اس کا اعلان بھی امریکی حکام نے کر کے پوری دنیا کے مسلمانوں کو حیرت اور صدمے میں ڈال دیا ہے۔ اسرائیل کو اگرچہ بہت سے مسلم ممالک نے تسلیم کر رکھا ہے لیکن یو اے ای پہلا خلیجی ملک ہے جس نے باقاعدہ طور پر اسے تسلیم کر کے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ یو اے ای کا موقف ہے کہ اب اسرائیل غرب اردن کے مزید علاقے نہیں ہتھیائے گا تواس کا مطلب ہو گیا کہ جو اس نے پہلے ہتھیا لئے ہیں ان کو قانونی جواز مل گیا۔مسلم دنیا کی آپس کی ناچاقیوں کی وجہ سے ہی آج اسرائیل نہ صرف غیر قانونی یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے بلکہ اردن کے بھی ایک بڑے حصے کو ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے۔

دوسری جانب یو اے ای جیسے ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر کے اسے اخلاقی حمایت بھی فراہم کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کے ساتھ سراسر غداری کے مترادف ہے۔ چند ماہ قبل فلسطینیوں کی امداد کے نام پر یو اے ای کے جہاز تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اترے تھے تو تب ہی فلسطینی قیادت کو احساس ہو گیا تھا کہ یو اے ای ان کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے اگر فلسطینیوں کی امداد کرنا مقصو د ہے تو فلسطینی سر زمین پر بھی یو اے ای کے طیارے اتر سکتے تھے لیکن یو اے ای پس پردہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو پروان چڑھا رہا تھا تا کہ خطے میں اسرائیل اور یو اے ای کے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے راہ ہموار کی جائے۔ یو اے ای اپنی خارجہ پالیسی میں ایک آزاد ملک ہے لیکن اگر اس نے یہ اقدام کرنا ہی تھا تو پہلے او آئی سی یا عرب لیگ کو خبر دار کرتا یا آگاہ کرتا کہ وہ یہ اقدام کرنے جا رہا ہے لیکن امریکہ کی جانب سے یو اے ای اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات کا اعلان ہونا بہت معنی خیز ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ یو اے ای نے اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسا گھناؤنا کام امریکی دباؤ پر کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام مسلمان ممالک مل کر اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کریں الٹا یہ جواز بنایا جا رہا ہے کہ اسرائیل مزید فلسطینی علاقے ہڑپ نہ کرے اس لئے اس کے ساتھ دوستی کی جا رہی ہے۔ فلسطینی صدرمحمود عباس نے یو اے ای اور اسرائیل کے معاہدے کو تاریخی غداری قرار دیتے ہوئے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے اوراب پاکستان کو چاہئے کہ وہ  او آئی سی کا اجلاس بلانے کیلئے اپنے ہمنوا ممالک کے ذریعے عرب ممالک پر دباؤ ڈالے تا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر موثر آواز اٹھائی جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -