پولیس میں کرپشن کی بد بو،ذمہ دار کون

 پولیس میں کرپشن کی بد بو،ذمہ دار کون
 پولیس میں کرپشن کی بد بو،ذمہ دار کون

  

 سی ایس پی ا فسر ان کو عام طور پر بڑا دیانت دار، انتہا درجے کا اچھا اور تمام برائیوں سے پاک  فرشتہ  صفت آفیسر قرار دیا جا تا ہے یہ ملک کی ایلیٹ کلاس ہوتی ہے جنہوں نے اداروں کی بھاگ دوڑ سنبھالنا ہو تی ہے اگر یہ کلاس ہی کرپٹ ہوجائے تو پھر اداروں کی تباہی ہمارا مقدر بن جائے گی،گنتی کے چند آفیسرزا جویماندار ہیں ان کی نیک نامی بھی کسی کام نہیں آپائے گی،ہمارے ایک بہت سینئر ویل انفام کالم نویس اور تجزیہ نگار جناب توصیف بٹ صاحب نے لا ہور کے ایک سی یس پی آفیسرزکی مبینہ کرپشن پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ وہ اپنے ایس ایچ اوز سے منتھلی لیتا ہے میں دعوے سے کہتا ہوں اس بارے میں ان کے پاس ٹھوس شواہد بھی ضرور موجود ہو ں گے جس کے بعد ہمارے ادارے اور دیگر جاننے والوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس افسران کی تعریف کے ہر وقت پل باندھنے کی بجائے کبھی ان کے اصلی کردار پر آپ بھی روشنی ڈال دیا کریں، یہ ہی نہیں پچھلے دنوں کرپشن کی بنیاد پر گوجرانوالہ کے دو ایس پی عہدے کے افسران کو بھی  وہاں کے آرپی او اور سی پی او کی سپیشل رپورٹ کے بعد فارغ کیا گیا ہے جب بھی کوئی پولیس آفیسر ایک ضلع سے تبدیل ہو کر کسی دوسری جگہ جاتا ہے اسے پھولوں کے ہار پہنا کر اچھی خاطر تواضع کرکے بھیجا جاتا ہے،ندامت اور شرمند گی کا یہ عالم ہے کہ  انکے جاتے ہوئے کسی نے سلام  لینے میں بھی اپنی بے توقیری سمجھا، کر ائم رپورٹنگ کرتے ہوئے ہمیں ایک عرصہ گزر گیا ہے جس محکمے کے ساتھ کام کرتے ہوئے آپ کو پچیس سال گزر جائیں ان کی عادات اور روایات آپ سے بہتر تو کئی نہیں جان سکتا  حقیقت میں آج تک کسی بھی پولیس کمانڈر نے اس محکمے کا گند صاف کر نے کا کبھی سیرس سوچا ہی نہیں، کر پشن کے حوالے سے لا ہور یا گوجرانوالہ کے یہ ہی پولیس آفیسر نہیں، یہاں بڑی لمبی چوڑی لائن ہے جن میں سی ایس پی اور رینکرز افسران بھی شامل ہیں اور کرپشن کے حوالے سے انھوں نے ات مچا رکھی ہے ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ باقی سارے دودھ کے نہائے ہوئے ہیں حقیقت یہ ہے کسی کو کوئی پوچھنے والا نہیں یہاں ہم کس کس کانام لیں کوئی ایک ہو تو زکر کریں جس علاقے کا ایس پی کرپٹ ہو وہاں کا ایس ایچ او کیسے ایمانداری سے کام کر سکتا ہے اور جو ایس ایچ او ایس پی کے ساتھ ڈائریکٹ ہو گا اسے ڈی ایس پی کیسے پوچھ سکتا ہے یہ ہی عالم ڈی ایس پی کا ہے اگر وہ اس سے بھی اوپر کے افسران کے ساتھ ڈائریکٹ ہوگا  تو باقی سب مائنس ہو جائیں گے، وہاں عوام کا کیا حال ہو گا کھلم کھلا سودے بازی اور انصاف کا قتل ہوگا امن و امان کی صورت حال خراب رہے گی لاہور میں ایک ایس پی نہیں اس وقت بھی چھ ایس پیز دو اس سے اوپر عہدے کے آفیسردرجن سے زائدڈی ایس پیز،کئی ایک ایس ایچ اوز انچاج انوسٹی گیشن،سی آئی اور اے وی ایل ایس میں تعینات اہم عہدوں کے آفیسرز بھی اس حمام میں ننگے ہیں جو رشوت لیے بغیر رہ ہی نہیں سکتے اور یہ کسی نہ کسی اہم شخصیت کے منظور نظر بھی ضرور ہیں مجھے ڈی آئی جی عہدے کے ایک انتہا ئی دیانت دار آفیسرز جن کے پروفائل میں اپنے کا من کے دیگر آفیسرز سے سب سے زیادہ ریکارڈپو سٹنگ اوربطور ڈی پی اوز کام کرنے کا انھیں اعزاز حاصل ہے نے بتایا کہ اگر ایس ایچ اوز کو کمائی کا لالچ نہ ہو تو کبھی اس سیٹ کے لیے آمادہ نہ ہوں، ایسے ایس ایچ اوز اپنے ایس ڈی پی اوز اور ایس پی کی وجہ سے ہی کرپشن کا باعث بنتے ہیں۔

 واضح رہے پنجاب بھر بالخصوص سی پی او آفس میں بھی ایس پی سے لے کر ایس ایس پی اورڈی آئی جی عہدے کے چند ایک افسران موجود ہیں جو نزرانے لے کر مختلف اضلاع میں من پسند افراد کی تعینا تیاں کروانے میں سر گرم ہیں کو شش کرونگا کہ اگر ان کی محبت یا چمک مجھ پر بھی غالب نہ آئی گئی تو آئندہ کالم میں ان کے ناموں کے ساتھ کالم شائع کروں۔وزیر اعظم صاحب نے لاہور میں اپنی آمد کے دوران ایک  بار پھرپنجاب پولیس کو نہ صرف کرپٹ قرار دیا ہے بلکہ کہا ہے کہ وہ اس کی کار کردگی سے بھی مطمن نہیں ہیں،اب ہو نا تو یہ چاہیے کہ وزیر اعظم کی جانب سے محکمہ پولیس میں کرپشن کی رپورٹ کے بعد انٹیلی جنس بیورو کی مدد سے فوری کرپشن میں ملوث افسروں اور اہلکاروں کی فہرستیں مرتب کی جانی چاہیں، کرپٹ پولیس اہلکاروں کو آئندہ کسی بھی قسم کی فیلڈ پوسٹنگ نہیں،ملنی چاہیے۔ کرپشن کے مرتکب پولیس اہلکاروں کا تبادلہ مستقل طور پر پنجاب کانسٹیبلری میں کردیا جانا چاہیے اور انھیں ریٹائر منٹ تک وہیں رکھنا چاہیے  تمام تبادلوں بارے جلد از جلد فائنل کر کے رپورٹ وزیر اعظم کو بھی ارسال کی جائے اور ان کی فائلوں پر انمھیں بلیک لسٹ بھی قرار دیا جا نا چاہیے۔ کرپٹ سرکاری ملازمین کا گھیراؤ کر نے کے لیے حکومت نے جو محکمہ اینٹی کرپشن قائم کیاہے وہاں دیگر اداروں سے بھی زیادہ کرپشن  پائی جاتی ہے 80 فیصد انوسٹی گیشن افسران وہاں ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں،جو اپنے محکموں کے سفیر کے طور پر وہاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ہمارا مقصد بھی محکمے کے مورال کو ڈاؤن کر نا ہر گز نہیں ہے۔پاکستان میں محکمہ پولیس کے متعلق عوام کی رائے اچھی ہو، ایسا  تونہیں ہے تاہم پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے یہ بھی درست نہیں ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے کا حصہ ہیں ہم دیکھتے ہیں کالی بھیڑوں کے علاوہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ بھی اس محکمے میں موجود ہیں جن کی بدولت پولیس کے محکمے کی عزت برقرار بھی ہے۔. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے۔

مزید :

رائے -کالم -